Saturday, July 4, 2020  | 12 ZUL-QAADAH, 1441
ہوم   > بلاگز

کراچی کی پولیس میں اصلاحات

SAMAA | - Posted: Jun 2, 2020 | Last Updated: 1 month ago
SAMAA |
Posted: Jun 2, 2020 | Last Updated: 1 month ago

کراچی میں پولیس اہلکار نماز جمعہ کے دوران مسجد کے باہر چوکنا کھڑے ہیں۔ فوٹو: آن لائن

تحریر: کامران چوہان

کوئی بھی معاشرہ امن و امان کے بغیر پروان نہیں چڑھ سکتا اور امن و امان کے قیام میں پولیس کا کردار کلیدی ہوتا ہے.۔ پولیسنگ درحقیقت ایک مسلسل عمل ہے تاکہ معاشرے میں کسی بھی قسم کا کوئی بگاڑ نہ پیدا ہونے دیا جائے، بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں پولیس کا محکمہ بہت بدنام ہے۔ پولیس کی امیج اتنی خراب ہوچکی ہے کہ ایک عام شہری بھی کسی پولیس والے کو دیکھنے کے بعد خود کو محفوظ سمجھنے کے بجائے غیر محفوظ تصور کرتا ہے۔ پولیس جیسے اہم محکمے کی اس امیج کے ذمہ دار جہاں نااہل اور کرپٹ پولیس افسران و اہلکار ہیں وہیں اسکی کچھ ذمہ داری سیاسی مداخلت کرنے والے بااثر افراد اور عوام پربھی آتی ہے- میرے نزدیک پورا شعبہ برا نہیں ہوسکتا۔ ہر شعبے میں اچھے اور برے لوگ ہوتے ہیں یہاں تک کہ ہمارے اردگرد ہر طرح اور ہرسوچ اور ذہنیت کے لوگ رہتے ہیں- کراچی پولیس میں جہاں بہت سی خامیاں ہیں، وہیں اس بات سے بھی منہ نہیں موڑا جاسکتا کہ شہر کی روشنیاں بحال کرنے میں کئی پولیس کے شہداء کا خون بھی شامل ہے۔ پولیس کی جانب سے امن و امان کے قیام کیلئے دی گئیں قربانیوں کو اس طرح سے نہ ہی سراہا گیا اور نا ہی حوصلہ افزائی کی گئی جو حق بنتا تھا اور اس کی وجہ یقیناَ پولیس کا خراب امیج ہے۔ کئی افسران آئے اور چلے گئے مگر محکمہ پولیس کا بگڑا حلیہ درست کرنے کی کسی نے عملی کوشش نہیں کی۔ میں نے پولیس اصلاحات پر ہمیشہ بات کی ہے اور کئی تجاویز بھی دی ہیں ماسوائے سابق آئی جی اے ڈی خواجہ کے علاوہ کسی بھی اعلیٰ پولیس افسر نے پولیس اصلاحات پر کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے۔ اعلیٰ پولیس افسران صرف زبانی کلامی سے آگے نا بڑھے اور پولیس اصلاحات کی فائلیں بن ہی رہیں۔

گذشتہ دنوں کراچی پولیس کے چیف، ایڈیشنل آئی جی غلام نبی میمن سے ایک طویل نشست ہوئی۔ میں نے ان سے بھی پولیس امیج بلڈنگ پر اپنی تجاویز کھل کر پیش کیں جس پر موصوف نے صرف مسکرانے پر اکتفا کیا۔ مجھے لگا کہ ایک بات پھر میں نے غلط جگہ وقت ضائع کیا ہے۔ میری ساری باتیں سننے کے بعد انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ آپ کے تمام اعتراضات درست ہیں اور میری ذاتی خواہش ہے کہ اپنے دور میں محکمہ پولیس کی بہتری کے لئے کچھ مثالی اقدامات کروں اور پھر غلام نبی میمن نے بتانا شروع کیا۔ کہنے لگے کہ کراچی میں سب سے بڑا مسئلہ تھانوں کی سطح پر ایماندار اور فرض شناس افسر کا تقرر نہ ہونا تھا کیونکہ تھانے کی سطح پر قابل اور شفاف کردار کے حامل ایس ایچ او کے تقرر کے بغیر جرائم کو کنٹرول کرنا ناممکن ہے۔ اس لئے ہم نے ایس ایچ او کی تقرری کے لیے ’’ٹیسٹنگ سسٹم‘‘ متعارف کروایا جو بھی افسر خود کو ایس ایچ او کے لیے اہل سمجھتا ہے وہ آئے ٹیسٹ دے اگر وہ معیار پر پورا اترتا ہے اور ٹیسٹ کلیئر کرتا ہے تو اسے تھانہ سپرد کر دیا جائے گا۔ یہاں یہ بات بھی کلیئر کرتا چلتا چلوں کہ ایس ایچ او کی تقرری کوئی فرد واحد نہیں کرتا بلکہ اس کیلئے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جو پولیس کے اعلیٰ افسران پر مشتمل ہے جو ٹیسٹ دینے والے ایس ایچ او کو نمبرز دیتے ہیں پھر کمیٹی میں شامل تمام افسران کے دیئے گئے نمبرز کے بعد رزلٹ مرتب کیا جاتا ہے۔ اس عمل سے ایک جانب تو پرچی والے تھانے داروں کا راستہ بند ہوگیا اور دوسری جانب اہل، فرض شناس اور ایماندار افسر کا تقرر ممکن ہوپایا۔

پولیس چیف نے ایک لمبی سانس لے کر پھر بولنا شروع کیا۔ کہنے لگے کراچی پولیس کا ایک اور بڑا مسئلہ پولیس موبائلز کو فیول کی عدم فراہمی ہے جس پر میں مسکرایا۔ وہ رکے نہیں بلکہ کہنے لگے مجھے اس مسئلہ کا بھی بخوبی علم ہے اور اس کا مستقل حل نکالنے کیلئے اقدمات کئے ہیں۔ عموماً تاثر یہی ہے کہ تھانے کی پولیس موبائل کو ملنے والی فیول کی رقم یا تو تھانوں تک پہنچ نہیں پاتی اور اگر پہنچ بھی جائے تو فیول پر استعمال نہیں ہوتی اور جب رقم نہیں ملے گی تو افسران اور اہلکار اپنے ذرائع سے فیول جمع کرکے پیٹرولنگ انجام دیتے ہیں جو شاید بگاڑ کی اصل وجہ ہے۔ ابتدائی طور پر ہم نے 6 تھانوں کو براہ راست فیول کی رقم سپرد کی اور ساتھ ہی چیک اینڈ بیلنس کا عمل بھی شروع کردیا کہ فیول کی رقم پولیس موبائل کی پیٹرولنگ پر استعمال ہو۔ میرے نزدیک یہ بھی ایک اہم سنگ میل ہے۔ میں دم بخود رہ گیا۔ انہوں نے مجھے متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ اب آجائیں محکمے میں جدت کی طرف، دنیا کے کئی ممالک میں پولیس کا محکمہ انتہائی جدید ہے مگر ہم آج بھی مینول سسٹم پر چل رہے ہیں۔ تفتیش سے قبل ایک اہم شعبہ ہمیشہ سے توجہ طلب رہا ہے اور وہ ہے جائے وقوع پر ملنے والے شواہد کو محفوظ نہ کیا جانا۔ ہم نے اس شعبے پر خصوصی توجہ دی اور ’’کرائم سین یونٹ‘‘ کا قیام عمل میں لایا گیا۔ ابتدائی طور پر 8 ’’سی ایس یو‘‘ یونٹس کو فعال کیا گیا۔ فرانزک ڈپارٹمنٹ کے زیر نگرانی یہ یونٹس کام کررہے ہیں یونٹس میں شامل افسران اور اہلکاروں کو جائے وقوعہ سے تمام شواہد اکٹھے کرنے کے حوالے سے عالمی معیار کی ٹریننگ دی گئی اور تمام یونٹس کو جدید ترین آلات سے مزین کیا گیا۔ یونٹس کیلئے خصوصی فنڈز بھی رکھے گئے ہیں۔ یہ یونٹس جائے وقوعہ یا جائے حادثہ پر تمام شواہد اکٹھے کرتے ہیں جو اصل محرکات تک پہنچنے اور اس میں ملوث افراد کو قانون کی گرفت میں لینے میں مدد ملتی ہے۔

کراچی پولیس چیف کی باتوں سے دکھائی یہی دیتا ہے کہ جو ابتدائی اقدامات انہوں نے کیے ہیں ان اقدامات کو محکمے کی بہتری کی جانب پہلا قدم سمجھا جائے۔ ان کے مثالی اقدامات سے پولیس کا مورال بلند ہوگا جو عوام اور پولیس کے درمیان فاصلے کو کم کرنے میں مدد دے گا مگر میرے نزدیک پولیس افسران اور اہلکاروں کا رویہ ’’ہیومن فرینڈلی‘‘ ہونا بہت ضروری ہے۔ دیگر اقدامات کے ساتھ ساتھ پولیس افسران اور اہلکاروں کے رویئے، ڈریسنگ اور فٹنس پر بھی خصوصی توجہ دینی چاہیئے مگر یہ سب کچھ اس وقت ممکن ہو پائے گا جب کراچی پولیس چیف کو تمام وسائل اور اختیارات کیساتھ ساتھ اصلاحات کیلئے وقت دیا جائے گا۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube