Saturday, July 11, 2020  | 19 ZUL-QAADAH, 1441
ہوم   > بلاگز

طیارہ حادثہ،صحافت کا ایک باب بند ہوگیا

SAMAA | - Posted: May 28, 2020 | Last Updated: 1 month ago
SAMAA |
Posted: May 28, 2020 | Last Updated: 1 month ago

بریک کرو،بریک کرو۔ یہ آوازیں عام طور پر نیوز روم میں کسی بڑی اہم خبر کے موقع پر گونجتی سنائی دیتی ہیں۔ ایسا ہی جمعہ 22 مئی کو تقریبا تین بجے کے وقت ہوا ہوگا جب کراچی میں ماڈل کالونی کے علاقے میں ایک مسافر طیارے کے گرنے کی اطلاع موصول ہوئی ۔ چند منٹوں میں تصدیق ہوگئی کہ یہ مسافر طیارہ لاہور سے کراچی آرہا تھا اور یہ پرواز قومی ائیرلائن کی تھی۔

اس طیارے میں لوگ عید کرنے کراچی آرہے تھے۔ کئی خاندان اور اہم شخصیات اس طیارے میں سوار تھیں۔ طیارے میں ممکنہ طور پر سب کچھ معمول کے مطابق تھا کہ کراچی کے فضائی اڈے کے نزدیک پہنچ کر ہی سب کچھ تبدیل ہوگیا۔

طیارہ اپنے مقررہ وقت پر رن وے پر جب اترنے لگا تو کوشش کے باوجود ایسا ممکن نہ ہوسکا۔آخری 10 سے 15 منٹ میں طیارے میں موجود مسافروں نے گمان بھی نہیں کیا ہوگا کہ یہ سفر ان کی زندگی کا آخری سفر ثابت ہوگا۔ طیارے میں جہاں نامی گرامی لوگ سوار تھے وہیں ملک میں صحافت کا ایک بڑا نام انصارعلی نقوی بھی شامل تھے۔انصار نقوی چار ماہ بعد لاہور سے کراچی عید کرنے آرہے تھے۔ان کا شمار ملک میں مایہ ناز صحافیوں میں ہوتا تھا۔

انصارنقوی کا صحافتی کیرئیر 30 برس سے زائد عرصےپرمحیط ہے۔نواب شاہ میں پیدا ہونے والے انصار نقوی نے حیدرآباد سے صحافت کےمیدان میں قدم رکھا اور 90 کی دہائی کے وسط میں کراچی منتقل ہوگئے۔انھوں نے پاکستان کے نجی چینل جیونیوز میں بطور سینئراسائمنٹ ایڈیٹر 2002 میں ذمہ داریاں سمبھالیں اور کچھ ہی عرصےمیں چینل کے کنٹرولر نیوز بن گئے۔ گزشتہ تقریبا ساڑھے4 سال سے وہ لاہور کے چینل 24 میں پروگرامنگ ڈائریکٹر کے فرائض انجام دے رہے تھے۔

اس عرصے میں انھوں نے درجنوں نوجوان صحافیوں کو دوران ملازمت صحافت کے رموزسے بھی روشناس کروایا۔یہ ان کی شخصیت کا خاصہ تھا کہ کسی بھی مشکل صورتحال میں اُن کے ساتھ کام کرنے والا مطمئن اور پُرسکون رہتا۔

انصارنقوی کو خبر پرعبور حاصل تھا۔ وہ زیرک رپورٹر کی نظر رکھتے تھے اور ان کا ہاتھ دیکھنے والے کی نبض پر ہوتا تھا۔ خبر کو کب اور کیسے بریک کرنا ہے اور اُس کے زاویے تلاش کرنے میں اُن کو ملکہ حاصل تھا۔ انھوں نے کسی دباؤ کو خاطر میں لائے بغیر ہمیشہ حق اور سچ کا ساتھ دیا اور درست رپورٹنگ پر ہمیشہ زور دیا۔

سانحہ خروٹ آباد میں انھوں نے کمال مہارت اور تجربے سے خبر کو ٹی وی چینل پر پیش کیا جس سے یہ ایشو اجاگر ہوا۔اس کے علاوہ کسی بھی بڑی خبر کے معاملے میں انصار نقوی ہمیشہ ہرپہلو کو مد نظر رکھتے اور کسی بھی صورت کسی زاویے کو نظر انداز نہیں ہونے دیتے۔

انصار نقوی کا ایک خاصہ یہ تھا کہ وہ رپورٹر کو فیلڈ میں موجود ہونے پر ہمیشہ زور دیتے۔ ان کا کہنا تھا کہ خبر ہمیشہ فیلڈ سے نکلتی ہے اور پھر  نیوزروم اور ٹی وی یا اخبار تک پہنچتی ہے۔ انھوں نے اپنے جونیئرزکو صحافتی اقدار کی پاسداری کا ایسا درس دیا جو ہمیشہ یاد رہے گا۔

اُن کےساتھ کام کرنے والے اُن کی اپنائیت اورکام کی لگن کومثال سمجھتےہیں۔ انصار نقوی نےہرقسم کےحالات میں صحافتی ذمہ داریاں نبھائیں۔ حیدرآباد میں طیارہ ہائی جیکنگ کے واقعے کی رپورٹنگ کے دوران ان کے بیٹے کا انتقال ہوگیا لیکن انھوں نے پہلے خبر کو فوقیت دی اور پھر گھر کی خبر لی۔ انصار نقوی کے لیے صحافت ایک جنون تھا اور خوب سے خوب تر کی تلاش نے انہیں اس شعبے میں جداگانہ حیثیت دی۔

اُن کےچاہنے والے برملا یہ بات کہتے ہیں کہ جنھوں نے بھی انصار نقوی سے صحافت سیکھی،اُن میں کہیں نہ کہیں انصارنقوی ہمیشہ موجود رہیں گے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube