Saturday, July 11, 2020  | 19 ZUL-QAADAH, 1441
ہوم   > بلاگز

ارطغرل غازی اور منگولوں کی اصلیت

SAMAA | - Posted: May 20, 2020 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: May 20, 2020 | Last Updated: 2 months ago

فوٹو: انادولو نیوز ایجنسی

اسلامی شجرہ نسب کے مطابق حضرت نوح علیہ سلام کی اولادوں (حام، یام، یافث اور سام) میں سے یافث کے بیٹے کا نام ترک تھا، ترک کے پوتے کا نام تاتار (جد امجد تاتار قبائل) اور تاتار کے پوتے کا نام مغول (جد امجد مغل قبائل) تھا۔ ترک کی اولادیں جس علاقے میں آباد ہوئیں اسے ترکستان یا ترکی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ تاریخ کے مطابق تاتار، منگول، مغل اور ترک خاندان جنہوں نے پوری دنیا پر حکومت کی بزرگ ترک کی اولادیں ہیں۔ اس زمانے میں ہر قبیلے کا سردار اپنا نام زندہ رکھنے کے لیے القابات اور گوتوں کا استعمال کرتا تھا جس وجہ سے بہت سارے القابات (ترک، مرزا، بیگ، مغل، مغول، منگول، چغتائی، خان، خاقان، برلاس، قیاط وغیرہ) کے ساتھ یہ نسل پوری دنیا میں پھیلتی چلی گئی۔ اس لیے دنیا پر حاکمیت کرنے والے خاندانوں کی تاریخ پڑھنے یا دیکھنے سے پہلے ہمیں اس شجرہ نسب کو ذہن نشین کرنا ہوگا تاکہ مبالغہ آرائی نہ ہو۔ ایک اور بات جو کتابوں میں آج تک پڑھتے اور بزرگوں سے سنتے آئے ہیں وہ ترک ڈرامے ارطغرل نے واضع طور پر کھول کر رکھ دی کہ حکومتیں بنانا اور گرانا فقیروں کا کام ہے۔ بابا جی کہتے ہیں بیٹا ’’کیڑا 100 کتابیں کھا کر بھی نقطہ دان نہیں بن سکتا، اصل علم سینہ با سینہ ہوتا ہے جو کسی کامل ہستی کے ادب اور رہنمائی سے ہی حاصل ہوسکتا ہے، اس لیے تمہیں اصل حاکم تک پہنچنے کے لیے خاک نشین ہونا پڑے گا‘‘۔

میرے لیے حیران کن بات یہ تھی کہ صرف ایک قائی قبیلے کی محنت اور قربانیاں دکھانے کےلیے ترکوں نے کئی صد گھنٹے کا ڈرامہ بنا ڈالا جبکہ اس دور میں کئی ایسے جنگجو گزرے ہیں جن کی محنتیں اور کاوشیں شش کر دیتی ہیں۔ 3 ماہ ڈارمہ دیکھتے ہوئے ایک بات مسلسل ذہن میں گردش کرتی رہی کہ ساری عکس بندی ایک ہی قبیلے کے گرد کیوں؟ ڈرامے میں دکھایا گیا کہ ارطغرل غازی نے جب منگولوں کا خاتمہ کرنے کے لیے فیصلہ کن جنگ کا ارادہ کیا تو اس وقت تمام ترک قبائل خراج کی مدد میں اپنی دولت کا بہت بڑا حصہ حاکم ہونے کی وجہ سے منگولوں کو دیتے تھے۔ ارطغرل غازی نے منگولوں اور بازنطینی عیسائیوں کے ہتھیاروں اور زر کی ترسیل کے کئی قافلے لوٹے بس فرق صرف اتنا تھا کہ منگول اور بازنطینی اپنے لیے لوٹتے تھے اور ارطغرل غازی اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کےلیے لوٹتا تھا تاکہ جہاد کے ذریعے اسلامی روایات اور اقدار کو زندہ رکھا جاسکے۔

غلامی سے نجات کےلیے ارطغرل غازی نے منگول سلطان برکے خان (جو مسلمان ہو چکا تھا) اور مصر کے سلطان رکن الدین بیبرس کو جنگ کےلیے آمادہ کیا، طے پایا کہ ایک بڑی فوج تیار کی جائے جس میں تمام ترک قبائل بھی شامل ہوں۔ فوج تیار کرنے کے بعد اناطولیہ (ایشیائے کوچک) میں فیصلہ کن جنگ کا آغاز کیا گیا۔ اس جنگ میں منگولوں کو عبرتناک شکست ہوئی اور شکست کے غم کی وجہ سے چند ماہ بعد ہی ہلاکو خان مر گیا۔ اس ڈارمے میں جہاں منگولوں کو بہت برا اور قہر والا دکھایا وہاں یہ بھی بتایا گیا کہ منگول سلطان برکے خان نے کس طرح ارطغرل غازی کی مدد کی اور اسلام کےلیے ہر مشکل مول لی۔ تاریخ بتاتی ہے کہ اگر برکے خان ارطغرل غازی کی مالی اور فوجی مدد نہ کرتا تو بہت کم افرادی قوت ہونے کی وجہ سے جنگ جیتنا ناممکن تھا۔

اللہ تبارک وتعالی نے قرآن کریم کی سورۃ الانفال آیت نمبر60 میں ہمیں فرمایا ہے کہ ’’تم دشمنوں کے مقابلے کے لیے جو تیاری کرسکتے ہو، کرو‘‘۔

اللہ نے ہمیں یہ اصول تو دے دیا اور اس کی کچھ مثالیں بھی دیدیں، لیکن یہ تفصیل نہیں بتائی کہ فلاں فلاں اسلحہ بناو، فلاں نسل کے گھوڑے پالو بلکہ یہ بات ہر دور کے اہل بصیرت کے لے چھوڑ دی کہ وہ اپنے اپنے حالات، بصیرت، تجربے اور ضرورت کے مطابق قوت حاصل کرنے کی کوشش کریں اور ارطغرل نے قوت حاصل کرنے کےلیے ہر وہ چال چلی جو اسے مناسب لگی سب سے بڑی کامیابی اس کا ہمت نہ ہارنا تھا۔ اسی طرح سیاست کے باب میں بھی اصولی ہدایات تو اسلام نے عطا فرما دی ہیں لیکن آگے کی یہ تفصیلات کہ حکومت کے کتنے محکمے قائم کئے جائیں؟ انتظامی اختیارات کس طرح تقسیم کئے جائیں؟ وزرا ہوں یا نہ ہوں؟ اگر ہوں تو کتنے ہوں؟ وحدانی طرز حکومت ہو یا وفاقی؟ مقنّنہ ایک ایوان پر مشتمل ہو یا دو ایوانوں پر؟ اس میں مشاورت کا کیا طریقہ ہونا چاہئے؟ متعین نہیں فرمائیں اور اختیار حاکم وقت کے سپرد کر دیے گئے۔

ڈرامہ ارطغرل غازی دیکھنے کے بعد مسلسل ایک سوال سننے کو مل رہا ہے کہ منگول دراصل کون تھے اور کہاں سے آئے تھے۔ منگول قوم ایسے خانہ‌ بدوش قبیلوں پر مشتمل تھی جو ماہر گُھڑ سوار تھے اور مویشی پالنے کے علاوہ شکار اور تجارت کرکے اپنا گزر بسر کرتے تھے۔ ‏اُس زمانے میں زیادہ تر قوموں میں صرف فوجی ہی جنگ ‌بازی سیکھتے تھے جبکہ منگولوں کا تقریباً ہر مرد جس کے پاس گھوڑا ہوتا وہ ایک زور آور جنگجو اور ماہر تیر انداز ہوتا۔ ‏ہر قبیلے کا اپنا اپنا سردار تھا جسے خان کا لقب دیا جاتا تھا اور قبائلی ہر صورت میں اپنے سردار کے وفادار رہتے تھے۔

منگول قبیلے 20 سال تک ایک دوسرے سے لڑتے رہے۔ ‏آخرکار تقریباً 27 منگول قبیلے تموجن نامی ایک خان (‏1162 تا ‏1227ء)‏ کی سربراہی میں متحد ہوگئے۔ ‏بعد میں تُرکی مسلمان بھی اِس اتحاد میں شامل ہوئے۔ ان تُرکی قبیلوں کو تاتار کہا جاتا تھا۔ ‏اس لئے جب منگول اور تاتار لشکروں نے یورپ کا رُخ کیا تو وہاں انہیں مجموعی طور پر ’’‏تاتار‘‘‏ یا ’’‏تارتار‘‘ کہا جانے لگا۔‏ سن 1206ء میں منگولوں نے تموجن کو ’’‏چنگیز خان‘‘ کا لقب دیا۔‏ اِس لقب کا مطلب ’’‏طاقتور حکمران‘‘‏ یا ’’‏عالمگیر حکمران‘‘‏ ہے۔‏ اس کے علا‌وہ اُسے ’’‏خاقان‘‘ یعنی ’’‏عظیم خان‘‘ کا لقب بھی دیا گیا۔‏

چنگیز خان کے لشکر ایسے تیراندازوں پر مشتمل تھے جو گھوڑوں پر سوار ہو کر تیر چلا‌نے میں ماہر تھے۔ ‏اس لئے وہ اتنی تیزی سے حملہ کر سکتے تھے کہ دُشمن اُن کا مقابلہ نہ کر پاتے۔‏ اکثر مختلف لشکر ایک ہی وقت میں مختلف علاقوں پر حملہ‌آور ہوتے تھے۔ اس طرح میدانِ ‌جنگ ہزاروں میل تک پھیلا ہوتا تھا۔‏ اِنکارٹا انسائیکلو پیڈیا کے مطابق چنگیز خان جنگ ‌بازی کے لحاظ سے ’’ا‏سکندرِ اعظم یا نپولین اوّل کے برابر تھا۔‘‘۔ ‏چنگیز خان کے زمانے میں رہنے والے فارسی مؤرخ جوزجانی نے اُس کے بارے میں لکھا کہ ’’‏وہ بڑی توانائی، امتیاز،‏ ذہانت اور سمجھداری کا مالک‘‘‏ تھا۔‏ لیکن اس کے ساتھ ساتھ جوزجانی نے اُسے ”‏قصائی‘‘ کا لقب بھی دیا تھا۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube