Saturday, July 11, 2020  | 19 ZUL-QAADAH, 1441
ہوم   > بلاگز

پڑھ لوکوسماء کی عنیزہ فاطمہ سے معافی کیوں مانگنی چاہئے؟

SAMAA | - Posted: May 18, 2020 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: May 18, 2020 | Last Updated: 2 months ago

پاکستان میں سوشل میڈیا کے عروج نے بارہا ثابت کیا ہے کہ انٹرنیٹ لوگوں کی زندگیاں خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ افسوس کی بات یہ کہ سماء ٹی وی کی ایک رکن کو بھی ایسے ہی تجربے سے گزرنا پڑا، جب ایک ویب سائٹ ‘‘پڑھ لو’’ نے اپنے آرٹیکل میں ایک گمراہ کن تصویر استعمال کی۔

ویب سائٹ پر ایک مضمون شائع ہوا، جس میں ایک ایسی بیوی کی کہانی بیان کی گئی جس نے دوسری شادی کی دھمکی ملنے پر اپنے شوہر پر تیزاب پھینک دیا۔ یہ مضمون جاوید منہاس نامی ایک مصنف نے لکھا جو ویب سائٹ کے مستقل ملازم نہیں ہیں، پوری کہانی سماء ٹی وی کے پروگرم 7 سے 8 سے لی گئی، اس کہانی کی رپورٹر پروگرام کی پروڈیوسر عنیزہ فاطمہ ہیں۔

ویب سائٹ ‘‘پڑھ لو’’ نے 17 فروری کو نشر ہونیوالے پروگرام کا ایک اسکرین شاٹ استعمال کیا جس میں عنیزہ فاطمہ متاثرہ شوہر کا انٹرویو کررہی ہیں، لیکن پڑھ لو نے اپنے مضمون میں کمپیوٹر (فوٹو شاپ) کے ذریعے ایڈٹ کی گئی ایسی تصویر بھی استعمال کی جس میں عنیزہ اور تیزاب پھینکے جانے سے متاثرہ شخص کو ساتھ کھڑے دکھایا گیا۔ تصویر سے ایسا غلط تاثر پیدا ہوتا ہے کہ عنیزہ ہی وہ بیوی ہیں جنہوں نے اپنے شوہر پر تیزاب پھینکا۔

یہ رپورٹ اتنی وائرل ہوئی کہ سماء کی کارکن عنیزہ فاطمہ کو دوستوں اور رشتہ داروں کے فون آنے لگے۔

اب ‘‘پڑھ لو’’ نے وہ گمراہ کن تصویر اپنی ویب سائٹ سے ہٹادی ہے اور ان کے ڈیسک کی انچارج ثناء جمیل نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ اس غلطی پر ایک وضاحت بھی چھاپی جائے گی لیکن انتہائی افسوس کی بات ہے کہ یہ وضاحت ایک نئی رپورٹ کے طور پر چھاپنے کی بجائے ایک اور شہ سرخی کے نیچے دبادی گئی۔

سماء ڈیجیٹل کا ماننا ہے کہ یہ اقدام قابل اطمینان نہیں اور ناکافی ہے۔ ‘‘پڑھ لو’’ کو اپنے کئے پر افسوس اور شرمساری کا اظہار کرنا چاہئے لیکن ہمیں جواب ملا کہ ‘‘پڑھ لو’’ مزید کچھ نہیں کرسکتی۔

سماء کی طرف سے ایف آئی اے سائبر کرائم سیل میں درخواست دائر کردی گئی ہے۔ ایف آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر عبدالغفار کا کہنا ہے کہ انشاء اللہ جلد ہی اس پر کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ فیس بک اپنے طریقۂ کار کے مطابق جلد ان تصاویر کو ہٹا دے گی۔ سماء دیجیٹل خود بھی فیس بک انتظامیہ سے رابطہ کررہا ہے۔

اگر سماء عدالت جانا چاہے تو پاکستان الیکٹرانک کرائمز ایکٹ کے مطابق ویب سائٹ ‘‘پڑھ لو’’ کیخلاف سخت ایکشن ہوسکتا ہے کیونکہ ان کے اس اقدام سے ایک شہری کا استحقاق مجروح ہوا اور ان کی زندگی بھی خطرے میں ڈال گئی۔ قانون میں اس کی سزا 3 سال تک کی قید یا 10 لاکھ روپے تک کا جرمانہ ہے، لیکن اس قانون سے شاہ زیب جیلانی جیسے صحافیوں کو پہنچنے والا نقصان دیکھنے کے بعد چارہ جوئی کرنا منافقت کے مترادف ہوگی۔

قانونی کارروائی کی بجائے ہم اس گمراہ کن کہانی سے قائم ہونیوالے تاثر کو انٹرنیٹ پر درست کریں گے، اس واقعے نے ‘‘پڑھ لو’’ کیلئے کئی سوالات کھڑے کر دیئے ہیں۔ تنقید کے نتیجے میں کوئی خاص تبدیلی آنا تو مشکل ہے لیکن جو اس غلطی سے بچنا چاہتے ہیں ان کیلئے اس پورے معاملے میں ایک سبق ہے۔

صحافت کے چند پہلے اور بہترین اصولوں میں سے ایک یہ ہے کہ آپ کے کام سے کبھی کسی کو نقصان نہیں پہنچنا چاہئے۔

WhatsApp FaceBook

One Comment

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

  1. Anonymous  May 19, 2020 11:52 am/ Reply

    بہت بڑی غلطی ہے ہمیشہ کوئی خبر کاپی کرتے ہوئے بھی اُس کی تصدیق مکمل معلومات سیاق و سباق کیساتھ کرکے نقل یا آگے بڑھانی چاہیے

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
PAKISTAN, INTERNET, PARHLO, SAMAA, UNEEZA FATIMA, FAKE PICTURE,
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube