Monday, January 24, 2022  | 20 Jamadilakhir, 1443

غیر رسمی معیشت سے وابستہ مزدور زبوں حالی کا شکار

SAMAA | - Posted: May 10, 2020 | Last Updated: 2 years ago
SAMAA |
Posted: May 10, 2020 | Last Updated: 2 years ago

فوٹو: آن لائن

مزدوروں کا عالمی دن آیا اور چلا گیا مگر مزدور کی حالت زار میں کوئی تبدیلی نہ آسکی۔ کرونا وائرس لاک ڈاؤن کی وجہ سے ’یوم مزدور‘ مختلف رہا کیونکہ مزدوروں اور محنت کشوں کو کبھی بھی ایسی صورتحال کا سامنا نہیں کرنا پڑا کہ ایک طرف  بے روزگاری اور بھوک ہے جبکہ دوسری طرف کرونا وائرس جیسی مہلک وبائی بیماری ہے جس کے سبب لاکھوں مزدور اپنے روزگار سے محروم ہیں۔ آج دیہاڑی دار طبقہ بے روزگاری کی وجہ سے اپنے کنبے پر منڈلانے والی بھوک کے بارے میں  زیادہ پریشان ہے۔

پاکستان اقتصادی سروے کے مطابق پاکستان میں 24.3 فیصد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں جبکہ پاکستان ادارہ شماریات کے مطابق بیروزگاری کی شرح 5.9 فیصد ہے اور پاکستان اقتصادی سروے 2018-19 کے مطابق (پاکستان کی غیر زراعت مزدور قوت) کا 72 فیصد غیر رسمی شعبے میں ملازمت کرتا ہے۔ اس حساب سے پاکستان بھر میں 44.2 ملین افراد غیر رسمی شعبے سے وابستہ ہیں۔

کرونا وائرس سے قبل بھی پاکستان میں مزدور طبقہ بدترین حالات سے دو چار رہا ہے۔ ان میں سے بہت سوں کو کم سے کم اجرت بھی نہیں ملت۔ پاکستان میں غیر رسمی معیشت سے وابستہ مرد اور خواتین مزدوروں کے لئے معاشرتی تحفظ کا کوئی تصور موجود نہیں۔ ان کی پیشہ ورانہ صحت اور حفاظت کی نہ تو آجر کو کوئی تشویش ہے نہ ہی حکومت کو۔ ان مزدوروں کو   لیبر سروے میں گنا نہیں جاتا اور وہ باضابطہ شعبے کے کارکنوں کو دیے جانے والے فوائد کے حقدار بھی نہیں۔ بنیادی تعلیم اور تکنیکی و پیشہ ورانہ تربیت تک رسائی کا فقدان دراصل معاش کے مواقع، اجرت اور کام کی شرائط تک رسائی کے ضمن میں ان کی کمزوری کو بڑھاتا ہے جبکہ شہروں اور صوبوں میں نقل مکانی بھی ان عوامل میں سے ایک ہے جو معاش کا انتخاب اور مزدوروں کی اجرت پر منفی اثر ڈالتا ہے جس کی وجہ سے وہ غیر رسمی شعبے میں شامل ہونے پر مجبور ہیں۔

کرونا وائرس لاک ڈاؤن میں اصل مسئلہ روزانہ اجرت کمانے والے غیر رسمی معیشت سے وابستہ مزدوروں کی حالت زار ہے کیونکہ وہ لوگ جو غیر رسمی شعبے میں ملازمت کرتے ہیں انتہائی کمزور طبقے میں آتے ہیں۔ گذشتہ ماہ حکومت کے لاک ڈاؤن نافذ کرنے کے بعد سے ملک بھر کے لاکھوں مزدو بلخصوص دیہاڑی دار طبقہ بھوک سے لڑتے ہوئے لاک ڈاؤن کے ختم ہونے کا منتظر اور روزگار کے لئے پریشان ہے جبکہ فیکٹریوں میں کام کرنے والے مزدوروں کو ملازمت سے جبری طور  بے دخل کیا جا رہا ہے اور حالات اس حد تک بدتر ہو چکے ہیں کہ وہ محنت کش مزدور جو اپنی محنت سے کما کر کھاتے تھے آج  فلاحی و امدادی اداروں کے رحم کرم پر امداد اور راشن کے منتظر ہیں یوں معاشرے کا کمزور طبقہ جو پہلے ہی استحصال کا شکار تھا اب کرونا کی وجہ سے بھوک اور افلاس کے چکی میں پستا جا رہا ہے مگر ان کی داد رسی کرنے والا کوئی نہیں۔

معروف سماجی کارکن اور عوامی ورکر پارٹی کراچی ’کسان کمیٹی‘ کے ممبر حفیظ بلوچ کہتے ہیں کہ ’’یوم مئی مزدوروں کا دن ہے اس دن شکاگو کے مزدوروں نے اپنا خون بہا کر مزدوروں کو پیغام دیا تھا کہ دنیا کے مزدوروں ایک ہو جاؤ، دنیا کے مزدور ایک ہوئے سرخ جھنڈے کے تلے مگر آج صدیوں کے بعد یہاں کے مزدور پھر سے اسی دائرے میں آ کر پھنس گئے ہیں جہاں شکاگو کے مزدور پھنسے ہوئے تھے۔ کرونا وائرس کی وجہ سے سب زیادہ متاثر مزدور ہو رہا ہے۔ سرمایہ دار تو اس ملک کے مالک ہیں حکمران ہیں اس لیے ان کے نقصان کے بھرپائی ریاست کے ذریعے کر دی جائے گی۔ سوال یہ ہے کہ مزدور کا کیا ہوگا؟ جب دنیا کرونا کے اس بھنور سے نکلے گی تو لاکھوں مزدور کس حال میں ہوں گے؟ یہ دن پاکستان کے بائیں بازو کے سیاست دانوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے کہ جن مزدوروں کا نام لیکر وہ سیاست کرتے ہیں اس مصیبت کے وقت ان کے پاس مزدوروں کے لیے کیا پروگرام ہے؟‘‘

لاک ڈاؤن نے معیشت کے مختلف شعبوں سے وابستہ چھوٹے کاروبار، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں اور روزانہ کی اجرتوں پر کام کرنے والے طبقے کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ اگر ہم غور کریں تو واضح ہے کہ ملک میں غیر رسمی شعبہ قومی معیشت کا ایک بڑا حصہ بنتا ہے اور موجودہ حالات نشاندہی کر رہے ہیں کہ آنے والے وقت میں بیروزگاری، مہنگائی اور غربت میں اضافہ ہوگا۔

خاص طور پر جب ہم ملک کی غیر رسمی معیشت اور اس سے وابستہ افراد کی بات کرتے ہیں تو بہت سے سوالات جنم لیتے ہیں۔ اگر کسی غریب فرد کی بقا روزانہ مزدوری کی بنیاد پر ہے جیسے مثال کے طور پر آٹو موبائل مکینک یا نائی کی دکان میں کام کرنے والے، ہوٹل، ریستوران، چائے خانوں اور شادی ہالوں میں بیرا گیری کرنے والے، بازاروں میں اسٹال لگانے والے، پان کے کھوکھے والے، پلمبر و الیکٹریشن، سامان لاد کر لے جانے والے، گھر سے کام کرنے والے، روزانہ اجرت کے کارکن  جیسے کریم ڈرائیور اور گھریلو ملازمین – ایسے حالات میں کہ جب ان کی خدمات یا سامان کی طلب ہونے کے باوجود وہ کام کرنے سے قاصر ہیں اور غربت اور بھوک پوری طرح ان کو گھیرے ہوئے ہے تو کیا وہ کرونا وائرس کے حوالے سے احتیاط  کرسکیں گے؟ آج غیر رسمی شعبے سے وابستہ مزدور سب سے زیادہ شکستہ حالی کا شکار ہیں۔ خاص طور پر لاکھوں کارکنان جو کم آمدنی کے باوجود اپنی روز مرہ کی ضروریات کو پورا کرنے کےلئے غیر رسمی شعبے پر انحصار کرتے ہیں۔

حکومت نے حال ہی میں نجی کمپنیوں کےلئے مراعات کا اعلان کیا تاکہ وہ موجودہ معاشی بحران کی وجہ سے اپنے ملازمین کو برطرف نہ کریں اس کے باوجود ملک میں گزشتہ ماہ کے دوران ہزاروں مزدوروں کو ملازمت سے برطرف کیا گیا ہے۔ یہ غیر رسمی مزدور کہیں بھی رجسٹرڈ نہیں اور ان کے پاس کوئی سماجی یا قانونی تحفظ  نہیں ہے۔ خدشہ ہے کہ مستقبل قریب میں   مزید لاکھوں افراد اپنی ملازمت سے محروم ہوجائیں گے – یہ ایک حقیقت ہے کہ وفاقی و صوبائی حکومتیں اس بحران پر قابو پانے اور روزانہ کی بنیاد پر کمانے والے مزدور کی دیکھ بھال میں ناکام نظر آرہی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت ایک بے روزگاری فنڈ قائم کرے جس کا مقصد کاروباروں کی بندش اور وبائی بیماری کے سبب روزگار سے محروم افراد کی مدد کرنا ہو۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube