Monday, January 24, 2022  | 20 Jamadilakhir, 1443

مکلی کی قسمت بھی جاگ گئی

SAMAA | - Posted: May 3, 2020 | Last Updated: 2 years ago
Posted: May 3, 2020 | Last Updated: 2 years ago

فوٹو: شکیلہ شیخ

دنیا میں تاریخ کا شاید ہی ایسا کوئی طالبعلم ہو جو پاکستان کے اس چھوٹے سے علاقے مکلی سے ناواقف ہو۔ سندھ کے شہر ٹھٹھہ میں واقع مکلی، قدیم ترین قبرستان کے حوالے سے دنیا بھر میں مشہور ہے منفرد طرز تعمیر کی وجہ سے اس کا شمار دنیا کے عظیم تاریخی ورثے میں کیا جاتا ہے۔ اس قبرستان کے بارے میں مشہور ہے کہ یہ ایشیا کا سب سے بڑا قبرستان اور دنیا کا گیارہواں بڑا قبرستان ہے، جو اپنے اندر سات صدیوں کے راز سموئے ہوئے ہیں، یہاں کم و بیش دس لاکھ مسلمان مدفن ہیں۔ صدیاں گزر جانے کے بعد بھی یہ مقبرے جاہ جلال اور شان و شوکت سے کھڑے ہیں، ان سے ماضی کی کئی سو سال پرانی ایک عظیم تہذیب وابستہ ہے۔ اس میں چودھویں صدی سے اٹھارویں صدی تک کے مقبرے اور قبریں موجود ہیں۔ ان عمارتوں کے ڈھانچے نہایت مضبوط، طرزِ تعمیر نہایت عمدہ اور تعمیری مواد بہت ہی اعلیٰ معیار کا ہے۔ اس قبرستان میں مغل، ترخان اور سمہ دور کی قبریں موجود ہیں۔ ان مقابر پر انتہائی نفیس انداز میں قرآنی آیات اور خوبصورت نقش و نگار کندہ ہیں۔ وہ قبریں جو کسی سردار یا کسی بزرگ کی ہیں ان پر خوبصورت مقبرے تعمیر ہیں۔ مقابر کی تعمیر میں سندھی ٹائلوں اور سرخ اینٹوں کا استعمال ہوا ہے۔ مزارات میں سرخ اینٹوں سے گنبد بھی بنائے گئے ہیں۔ قبروں کے تعویز اور ستونوں پر اتنا خوبصورت کام کیا گیا ہے کہ دیکھنے والا کاریگروں کی تعریف کیے بنا رہ ہی نہیں سکتا۔

شاہی خاندانوں کے 80 سے زائد یادگار و مقبرے موجود ہیں جہاں بہت سے سلاطین، سردار، شہدا، علماء کرام اور مسلمان مدفون ہیں۔ یہاں سندھ کے سابق حکمرانوں کی بھی قبریں ہیں۔ ان مقابر میں مغل سردار طغرل بیگ، جانی بیگ، جان بابا، باقی بیگ ترخان، سلطان ابراہیم اور ترخان اول جیسے علماء، سردار اور دیگر نامور لوگ اس قبرستان کی پہچان ہیں۔

اس قدیم ترین قبرستان کو یونیسکو نے 1981 میں عالمی ورثے میں شامل کیا تھا اور پھر کئی بار مکلی کو عالمی ورثے سے نکالنے کا نوٹس بھی دیا گیا کیونکہ اس قومی ورثے کی دیکھ بھال ویسے نہیں کی جارہی تھی جیسا اس کا حق تھا۔ مکلی کی اس خوبصورتی کو معدوم کرنے میں وفاق کا اہم کردار ہے متعدد مقبرے وفاق کی نا قدری اور عدم توجہ کے باعث روبہ زوال تھے کافی مقبروں کے در و دیوار، گنبد، منبر و محراب ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھے اور آس پاس کی زمینوں پر قبضہ مافیا کا راج تھا۔ اٹھارویں ترمیم کے تحت 64 سال بعد مکلی بطور قومی ورثہ وفاق سے سندھ کو منتقل ہوا تھا۔ وفاق کی غیر سنجیدہ پالیسیوں اور لاپرواہیوں سے پیدا ہونے والی تباہ کاریوں کو دیکھنے کے بعد محکمہ ثقافت، سیاحت اور نوادرات نے ہنگامی بنیادوں پر مکلی کے تاریخی ورثے کو بچانے اور محفوظ بنانے کیلئے کام کروائے یہی وجہ ہے کہ مکلی اب وہ مکلی نہیں رہا جو ہم نے 6 سال پہلے دیکھا تھا اب یہاں پر کافی کام کروائے گئے ہیں۔ متعدد مقبروں اور قبروں کی خوب صورتی واپس لائی جاچکی ہیں جو کہ ایک خوش آئند بات ہے جس کی راقم خود چشم دید گواہ ہے اور کافی حد تک قبرستان کی زمین بھی واگزار کروائی جا چکی ہے تاہم اس ضمن میں ابھی بہت کام ہونا باقی ہے کچھ لوگ ابھی بھی قبرستان کی اراضی کو مال مفت سمجھ کر بیٹھے ہوئے ہیں۔

محکمہ ثقافت، سیاحت اور نوادرات نے اس قومی ورثے کو بچانے کیلئے کوشاں ہے اگر اس بین الاقوامی شہرت یافتہ ورثے کا گزشتہ ادوار سے موازنہ کیا جائے تو متعدد کام کروائے گئے ہیں جس میں سر فہرست 35 مقبروں پر بحالی کا کام کیا گیا ہے اور 28مقبروں پر دروازوں کو نصب کیا گیا ہے۔ مکلی کے آرکیالوجیکل کنزرویٹر سرفراز نواز جتوئی کے مطابق مرزا باقی بیگ، مرزا طغرل بیگ، عیسی خان، دولہا دریا خان، ولی محمد، دیوان شرفاخان، میران بائی، لالی کا مقبرہ، غیرت خان، فردوس، جام جاٹی، قوث سلطانی، بارہ دری، مدرسہ اور تقریباً 26 کے قریب گمنام مقبرے اور قبریں جن پر محکمہ آثار قدیمہ نے بحالی اور مرمت کا کام کروایا ہے اور ان کی اصل حالت بحال کرنے کی بھوپور کوشش کی ہے۔ اسکے علاوہ مقبروں پر کی جانے والا جا بجا چاکنگ کا خاتمہ کیا گیا ہے جگہ جگہ بورڈز آویزاں کیے گئے ہیں جن پر درست تاریخی معلومات کا اندارج کیا گیا ہے، جگہ جگہ ڈسٹبن لگائے گئے ہیں موسمی اسٹیشن قائم کیا گیا ہے تاکہ بارشوں، سورج کی تپش اور ہوا کے دباؤ کو مانیٹر کیا جاسکے اور سب سے بڑھ کر مکلی کا مکمل ماسٹر پلان ترتیب دیا گیا ہے یہ تمام کام محکمہ آثار قدیمہ و نوادرات کی محنت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

یہاں 10 سے زائد مزارات ایسے ہیں جن پر میلے لگتے ہیں جو لوگوں کی آمدورفت کی ایک بڑی وجہ بنتے ہیں۔ قبرستان کے اندر گاڑیوں کی آمدورفت کی وجہ سے نقصان کا بہت خدشہ تھا اس وجہ سے عام گاڑیاں اندر لانے کی ممانعت ہیں جبکہ محکمہ نوادرات نے تین گاڑیوں پر مشتمل شٹل سروس شروع کی ہے جو 150 روپے فی کس کے حساب سے پورے قبرستان کا دورہ کراتی ہے۔ قبرستان میں ایک گیسٹ ہاؤس بھی تعمیر کیا گیا ہے جو تحقیق کیلئے آنے والوں کو سہولیات فراہم کرتا ہے۔

یہ قبرستان تاریخ کا وہ ورثہ ہے جو ہماری سر زمین پر بسنے والے حکمرانوں کے مٹنے کے بعد بھی اُن کی عظمت و ہنر کی کہانی بیان کرتا ہے۔ اس عظیم قبرستان پر ہزاروں سیاح و تاریخ دان اپنی تحقیق اور اس قدیم فن کو جاگتی آنکھوں سے دیکھنے کیلئے اس قبرستان کا رخ کرتے ہیں۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube