Wednesday, October 21, 2020  | 3 Rabiulawal, 1442
ہوم   > بلاگز

لہو کے داغ دکھائی دیے ہیں پھولوں پر

SAMAA | - Posted: Apr 13, 2020 | Last Updated: 6 months ago
Posted: Apr 13, 2020 | Last Updated: 6 months ago

جوان اولاد بوڑھے باپ کیلئے تیار فصل کی مانند ہوتی ہے۔ ہزار امیدیں، خوشیوں کے رنگ، بوڑھا باپ اپنی اولاد کے روپ میں سچ ہوتا ہوا دیکھتا ہے۔ اس کی آنکھیں، اپنے بیٹے کی جوانی سے چمک پاتی ہیں اور لرزتے ہاتھوں کو توانائی ملتی ہے۔ مگر اس بوڑھے باپ کو جوان بیٹے کی لاش کو اپنے ناتواں کندھوں پر اٹھانا پڑ جائے تو اس کیلئے زندگی کی ہر خوشی، ہر اُمید دم توڑ دیتی ہے اور عمر رسیدہ کندھے مایوسی کے اندھیروں کے باعث مزید جھک جاتے ہیں۔

بوڑھا باپ درختوں کے جھنڈ میں بیٹے کی کہانی سناتے ہوئے اپنی لرزتی آواز پر قابو پانے کی کوشش کررہا تھا۔ ماحول سوگوار اور پس منظر میں سامعین کی سسکیاں گونج رہی تھیں۔

مشال خان کی قبر کے قریب درختوں کے جھنڈ میں چارپائی پر بیٹھے بوڑھے اقبال خان نے بتایا کہ میرے بیٹے کا قصور صرف سوال کرنا، جواب مانگنا اور حق کہنا تھا۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ آپ کے اردگرد جبر ہو، ظلم ہو، ناانصافی ہو اور آپ خاموش رہیں۔ یہی وہ جرم تھا جس کی بنیاد پر میرے بیٹے کی کردار کشی پر مبنی ایک منظم مہم شروع کی گئی۔ ظالموں نے سیدہ ماں کے بیٹے کو گستاخ مذہب ثابت کرنے کی کوشش کی۔ یاد رکھیے کہ مشال کو کسی غار یا پہاڑ پر نہیں مارا گیا۔ اسے وہاں قتل کیا گیا جہاں اندھیروں سے روشنی کی جانب سفر کرنا سکھایا جاتا ہے۔

مشال کے جنازے میں شریک اس کے ایک ہم جماعت نے مجھے بتایا کہ میں نے مشال کو منع کیا کہ تمہارے خلاف منفی پراپیگنڈہ پورے عروج پر ہے اور یہ لوگ تمہیں نقصان پہنچانے سے بھی باز نہیں آئیں گے۔ تم گھر میں محفوظ رہو گے۔ یہاں یونیورسٹی میں تم مارے بھی جاسکتے ہو مگر مشال نے جواب دیا کہ اگر میں یہاں سے بھاگ گیا تو شاید میں زندہ تو رہوں لیکن درحقیقت مارا جاؤں گا۔ ظلم و نا انصافی کیخلاف خاموش ہوجانا موت ہی تو ہے۔

عبدالولی خان یونیورسٹی میں شعبہ صحافت کے طالبعلم مشال خان کو اسی یونیورسٹی کے سیکڑوں طلباء اور نامعلوم افراد نے 13 اپریل 2017ء کو دن کی روشنی میں لاٹھیوں، پتھروں اور آہنی سلاخوں سے تشدد کرکے یونیورسٹی کے اندر ہی قتل کردیا تھا۔ مشال کے قتل کی وجہ توہین مذہب کا جھوٹا الزام تھا۔ اس روز یونیورسٹی میں باہر سے لوگوں کو گاڑیوں میں بھر کر لایا گیا اور انہیں مشتعل کرنے کیلئے کئی افراد نے جذباتی تقریریں بھی کیں۔ یونیورسٹی کیمپس کے اندر جھوٹ کے سوداگروں کی شروع کردہ مہم اندھے جذبات اور عقیدت کی ماری اس نوجوان نسل کے ہاتھوں اپنے ہی ایک ساتھی کے قتل پر اختتام کو پہنچی۔ مشال کے استاد سے بڑھ کر دوست ضیاء اللہ ہمدرد بتارہے تھے کہ میں اس دن مشال کے دوسرے دوست عبداللہ کی جان بچانے میں تو کامیاب ہوگیا لیکن مشال کو نہ بچاسکا اور یہی قلق ساری عمر میرے ذہن میں رہے گا۔

انسداد دہشت گردی کی عدالت نے 7 فروری 2018ء کو مشال قتل کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے ان تمام الزامات کو جھوٹا پراپیگنڈہ قرار دے دیا تھا۔ اسی فیصلے میں ایک ملزم کو سزائے موت اور 5 کو عمر قید کی سزا سنائی گئی۔ اس کے علاوہ 26 ملزمان کو 4 سال قید بامشقت کی سزا ہوئی۔ سوال مگر یہ ہے کہ کیا یہ سزائیں مشال کو زندہ کردیں گی؟، کیا بوڑھی ماں کو مشال کا جسم اس حالت میں مل جائے گا کہ جہاں زخم کے نشان نہ ہوں اور وہ وہاں پر بوسہ دے سکے۔ کیا ان سزاؤں سے ایسے قتل رک جائیں گے۔ کیا مذہب و رسول ﷺ سے محبت کو سمجھے بغیر محبت کی آڑ میں خون بہانے کا سلسلہ تھم جائے گا؟۔

توہین مذہب یا توہین رسالت کا جھوٹا الزام کسی کی جان بھی لے سکتا ہے۔ یہ آپ نے صرف سنا ہوگا لیکن میں نے اسے اپنی آنکھوں کے سامنے ہوتے دیکھا ہے۔ میں نے دیکھا کہ اندھی عقیدت میں لتھڑے جذبات کسی کو کتنا ظالم بنا دیتے ہیں۔ جہاں جھوٹ اور سچ کی تمیز ختم ہوجاتی ہے۔ جہاں الزام ہی آپ کو تختہ دار تک لے جانے کا پروانہ قرار پاجائے، جہاں بے گناہ کے قتل کو حق قرار دینے کیلئے جواز گھڑے جائیں۔ جہاں مشتعل ہجوم انصاف کا ترازو اپنے ہاتھوں میں اٹھا کر ظلم کو روا رکھیں۔ اس معاشرے میں چوک چوراہوں میں لاشیں گرنا کوئی انہونی تو نہیں۔ ضیاء اللہ ہمدرد نے بتایا کہ مشال کی لاش گھر پہنچنے سے پہلے اس ظلم کی وڈیوز اس کے بوڑھے باپ کو موصول ہو گئی تھی۔

مشال کیخلاف سوشل میڈیا پر یہ جھوٹی مہم تو آج بھی جاری ہے۔ ہمارے معاشرے میں آج عدالتی فیصلہ آنے کے باوجود مشال کو گستاخ مذہب و رسول ﷺ سمجھا جاتا ہے۔ آج کے سوشل میڈیا پر ہونے والی بحث ہی دیکھ لیں کہ مشال کیخلاف لکھنے والے افراد وہ ہیں جنہوں نے زندگی میں کبھی مشال کو دیکھا بھی نہ ہو اور یہ وہ افراد ہیں جنہوں نے شاید عدالتی فیصلہ تک نہ پڑھا ہو۔ آج بھی ہم لوگ حقائق سامنے ہوتے ہوئے بھی یہ کہتے ہیں کہ مشال نے کچھ تو غلط کیا ہوگا جو اتنے لوگ اس کیخلاف اکٹھے ہوگئے۔ آج بھی ہمارے معاشرے میں قانون کی عملداری پر یقین رکھنے والے بہت سے افراد قاتلوں کو پھول پہناتے نظر آئیں گے۔ جب معاشرے میں اکثریت سنی سنائی باتوں پر مشتعل ہوگی تو لاشیں گرتی ہی رہیں گی۔ آج اقبال خان کا مشال بجھ گیا تو کل کسی اور کا مشال بجھے گا۔ مشال کے قتل سے بڑا سانحہ اس قتل کو جواز فراہم کرنا ہے۔

مشال کے قاتل وہ نوجوان ہرگز نہیں تھے۔ جنہوں نے اینٹوں اور بلاکس سے مشال کے سر پر وار کیے بلکہ میرے نزدیک مشال کی قاتل وہ سوچ ہے جو معاشرے میں مذہبی روا داری کو فروغ دینے کی بجائے مذہبی منافرت کو بڑھاوا دے رہی ہے۔ جس نے بھائی چارے کو فروغ دینے کی بجائے بھائی کو بھائی کا دشمن بنا دیا ہے۔ اسی سوچ نے ہمارے نوجوانوں کو ڈاکٹر اور انجینئر بنانے کی بجائے جلاد بنانا شروع کردیا ہے جو جب چاہیں مذہب کے نام پر ہونے والے پروپیگنڈا کے زیر اثر کسی کا بھی قتل کرسکتے ہیں۔

لہلہاتی گندم پس منظر میں لہرا رہی تھے اور بوڑھے باپ کی کمائی ایک قبر تھی۔ جس کے کنارے بیٹھے اقبال خان لالا مجھ سے مخاطب ہوکر بولے، میں کبھی کبھار سوچتا ہوں کہ ہم پر تو بہت ظلم ہوا ہے۔ میرے بڑھاپے کا سہارا جھوٹی خبروں کی نذر ہوگیا لیکن وہیں یہ جھوٹی خبریں مشال کو مارنے والوں کا مستقبل بھی تاریک کرگئیں۔ اس جذباتی اشتعال نے ان کا بھی معاشی استحصال کردیا۔ علم کی راہ سے ظلم کی راہ پر جا نکلے۔ میرے مشال کو مار کر ان کے خاندان بھی تباہ ہوگئے۔

میں سوچتا ہوں کہ اصل گستاخ مذہب تو وہ شخص تھا جس نے جھوٹے الزام میرے بیٹے کے سر رکھے اور ان کی  بنیاد پر ان نوجوانوں کو تشدد پر ابھارا۔ اصل قاتل تو وہ سوچ ہے جو تحقیق کی بجائے جذباتیت اور تقلید کی راہ پر لے جاتی ہے۔ میں تو صرف اپنے نوجوانوں کو ایک نصیحت کروں گا کہ جوش و جذبات کے بجائے ہوش سے کام لیں۔ تشدد کا راستہ تاریکی کا راستہ ہے۔ اگر مشال کے قتل سے کچھ سیکھنا ہے تو وہ صرف یہ ہے کہ ہمارے بے احتیاطی سے بولے گئے لفظ اور ہمارے جملے کسی کی جان لے سکتے ہیں۔

جوان بیٹے کی لاش ناتواں کندھوں پر اٹھائے بوڑھے باپ اور اپنی زندگی کی ضمانت ڈھونڈنے پر مجبور استاد ہمارے معاشرے کے وہ کردار ہیں جو مذہبی جذباتیت اور اندھی عقیدت کے بت کو پاش پاش کرنے کی کوشش کررہے ہیں لیکن ہم تحقیق کی بجائے تقلید کی قبر کے مجاور بنے تاریکی کی جانب بڑھنے کو ہی ترجیح دے رہے ہیں۔

لہو کے داغ دکھائی دیئے ہیں پھولوں پر

بہار اب کے جو آئی تو ایسے آئی ہے

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube