ہوم   > بلاگز

گھروں میں لڑونا وائرس تیزی سے پھیلنا شروع ہوگیا

SAMAA | - Posted: Apr 9, 2020 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Apr 9, 2020 | Last Updated: 2 months ago

فوٹو: آن لائن

تحریر: دعا مرزا

باہر کی صورتحال جس قدر بھی خطرناک ہو گھروں کے اندر تو گویا طوفان برپا ہے۔ محلے کی پھپھو کو بھی اب تیلی لگانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ ہر گھر سے شور باہر سنائی دیتا ہے۔ گلی سے گزریں تو سفید گیٹ والے گھر سے آواز آ رہی ہوتی ہے ’’اچھا ہو جو میں مر ہی جاوں، تمہیں تو دو وقت کی روٹی دینا عذاب لگ رہی ہے‘‘۔ تھوڑا آگے چلیں تو سرمئی رنگ کے گیٹ والے گھر سے سفید چادر اوڑھے اماں غصے میں بڑبڑاتے ہوئے تیز قدم لیتے نظر آتی ہیں ’’پتہ نہیں کمبخت وبا کب ختم ہو اور یہ ٹٹ پینے کاموں پہ جائیں‘‘ ۔۔۔۔ دو چار قدم ہی مزید چلیں تو سالن میں نمک زیادہ ہونے کا غم لیے نوجوان باہر تھڑے پر بیٹھا ملے گا جس سے آدھا سا سوال پوچھیں تو پوری داستان سنا دے گا۔ کل رات ساتھ والی آنٹی آئیں اور کہنے لگیں کہیں سے راشن ملے تو مجھے بھی دے دینا۔ میں نے بڑے تعجب سے پوچھا کہ آپ تو مستحق نہیں ہیں۔ ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے کہنے لگیں کہ پہلے سب دو وقت کھانا کھاتے تھے اب ہر دو گھنٹے بعد کھاتے ہیں۔ میں نے ابھی بات کو تسلیم کرتے ہوئے ہلکی سی مسکراہٹ سے لبوں کو سمیٹا ہی تھا کہ اماں نے لقمہ دیا اور کہنے لگیں ’’ہمارے ہاں بھی چائے چھ سات بار تو بن ہی جاتی ہے۔ یہ اشارہ میری طرف تھا اس لیے میں نے بات کو نظر انداز کرنا ہی مناسب سمجھا۔ بات آئی گئی ہوگئی۔ اتنے میں ایک اور خاتون آئیں اور مجھ سے ٹائیگر فورس سے متعلق پوچھنے لگیں۔ میں نے صاف کہا کہ رضاکارانہ کام کرنا پڑے گا کہنے لگیں میرے شوہر کو لگوا دو بس ان سے کہنا کہ 12 گھنٹے سے پہلے گھر نہ بھیجیں۔ ان کے لہجے کی کرختگی بتا رہی تھی کہ وہ سنجیدہ ہیں۔

میں نے حوصلہ دینے کےلیے حامی بھر لی پھر ایک دوست کی بات یاد آئی وہ کہتا ہے کہ گھر میں مستقل 4 دن رہو تو بیوی بھی باجی لگنے لگتی ہے۔ یہ سانحہ یہیں تک نہیں ہے آگے سنیئے،،،، میں پرچون کی دکان پر گئی تو باباجی کے ساتھ ان کی بہو بیٹھی ہوئی تھی کہنے لگی باجی یہ لاک ڈاون میں 5 بجے کے اوقات کار کب تک رہیں گے؟ میں نے سوال کی وجہ پوچھی تو کہنے لگی 5 بجے سسر اور شوہر گھر آجاتے ہیں اور بس پھر کسی نہ کسی بات پر بحث چھڑ جاتی ہے جو صبح 5 بجے تک جاری رہتی ہے۔ میں ابھی خاموش ہی تھی کہ وہ پھر سے پھٹ پڑیں،، اور کہنے لگیں کہ باجی بس کسی پولیس والے سے بات کروا دیں انہیں بھتہ ہم دے دیں گے وہ بس رات تک دکان کھلی رکھنے کی اجازت دے دیں۔ مجھے اس کی بے بس خواہش پر رشک آیا۔ لیکن پھر مجھے سوچنے پر ایک ہی وجہ معلوم ہوئی کہ شہروں کی زندگی بہت مصروف ہے اور بڑھتی مہنگائی کے باعث اب گھر کے تمام افراد ہی کماتے ہیں جس کی وجہ سے آپس میں بیٹھنے کا وقت بہت کم ملتا ہے۔ اس لیے ایک دوسرے کو برداشت کرنے کی سکت بھی کم ہوگئی ہے جس کی وجہ سے ہر شخص اوازار ہے اور جب کوئی خاص کام کرنے کو نہیں ہے تو کھانا پینا ہی واحد مشغلہ بن چکا ہے۔ خواتین شکوہ کرتی ہیں کہ پہلے تو پھر بھی وہ کچھ وقت ڈرامہ دیکھ لیتی تھیں اب سارا وقت کچن میں ہی گزر جاتا ہے اور مرد حضرات بڑی ڈھٹائی سے پورا دن خبریں سنتے ہوئے کچھ نہ کچھ کھانے کی فرمائش کرتے رہتے ہیں۔

بھئی مسلئے بڑے ہیں مگر ہاں حل اسکا ایک ہی ہے کہ گھروں میں پھیلتے اس لڑونا وائرس کی اپیل سنیے اور نہ لڑیے۔ ایک دوسرے سے بات کریں، مزاج سمجھیں اور وقت کو گزارنے کےلیے مخلتف سرگرمیوں کا انتخاب کریں۔ مثلا اگر ایک کو لڈو کھیلنا پسند ہے تو ایک دن سب مل کر وہ کھیل لیں۔ دوسرے کو باغ کی صفائی کرنا پسند ہے تو دوسرے دن سب اسکی مدد کریں اور ایسے ہی سارے کام بانٹ لیں۔ یہ وقت سوچنے کا ہے کہ ہم ڈیجیٹل دور میں ایک دوسرے سے کتنے اکتائے ہوئے ہیں۔ اس قرنطینہ کے وقت میں وہ گمے اور سہمے ہوئے رشتے ڈھونڈیِں جن میں کشش ہوا کرتی تھی۔ دادی اماں سے کہانیاں سنیں اور اللہ سے دعا کریں کہ یہ وبا جلد از جلد ٹل جائے تاکہ ویران پڑے ان شہروں کی رونقیِں پھر سے بحال ہوسکیں۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube