ہوم   > بلاگز

وفاق نے بوجھ ڈال کر بلوچستان کو تنہا چھوڑ دیا

SAMAA | - Posted: Apr 7, 2020 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Apr 7, 2020 | Last Updated: 2 months ago

بلوچستان حکومت کی کوتاہیاں اپنی جگہ مگر حقیقت یہ ہے کہ وفاقی حکومت نے مشکل کی اس گھڑی میں بروقت صوبے کی کوئی مدد نہ کی۔ دیگر صوبے بھی اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے سے دور رہے۔ ایران کی حکومت نے اپنے ہاں تمام پاکستانیوں بشمول زائرین کے پاسپورٹ پر ایگزٹ مہرلگا کر پاک ایران سرحد پر بفر زون میں چھوڑ دیا۔ جس کے بعد سارا بوجھ بلوچستان پر آن پڑا۔ پھر جو ہوا سب نے دیکھا اور سنا۔

اس صورتحال کو وفاقی حکومت، نیشنل ڈیزاسسٹرمینجمنٹ کو صوبائی حکومت کی معاونت سے دیکھنا چاہیے تھا۔ مگرافسوس کہ وفاق سمیت این ڈی ایم اے نے جرم و خیانت کا ارتکاب کیا۔ ایک پائی بلوچستان کو نہ دی گئی۔ لاجسٹک معاونت قطعی نہ ہوئی اور پھر تمام صوبوں کے افراد جو تفتان میں موجود تھے کو بلوچستان حکومت نے اپنے وسائل کے تحت پہلے قرنطینہ اور اس کے بعد خصوصی ٹرانسپورٹ کے ذریعے ان کے صوبوں کی سرحدوں تک پہنچایا۔ یعنی یہاں بھی وفاق یا کسی صوبے نے بلوچستان کی مالی یا دیگر ضروریات کے ضمن میں مدد نہ کی۔ اب ہونا یہ چاہیے کہ بلوچستان ہونے والے اخراجات ان صوبوں سے طلب کرے۔

پنجاب حکومت کا بلوچستان کے لیے ایک ارب روپے امداد دینا مستحسن اقدام ہے ۔ بلوچستان حکومت درپیش صورتحال کے تناظر میں اب تک محکمہ صحت، پی ڈی ایم اے، محکمہ مواصلات و تعمیرات وغیرہ کو دو ارب سے زائد رقم جاری کرچکی ہے۔ صوبے کے تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کو پچھتر کروڑ روپے جاری کیے گئے تاکہ ڈیلی ویجرز اور دوسرے مستحق افراد کے لیے خوردنی اشیاء کی فراہمی یقینی بنائی جاسکے۔

تیس مارچ کو وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال نے صحافیوں سے مشاورتی نشست میں بتایا کہ ہنوز بلوچستان وفاق کی امداد اور معاونت کا منتظر ہے ۔ جام کمال کے مطابق انہوں نے بلوچستان کے صنعتی علاقے حب میں قائم دوسرے شہروں سے تعلق رکھنے والے صنعتکاروں کا وٹس اپ گروپ بنایا جس میں پندرہ یوم تک ان بڑے صنعت کاروں کو بلوچستان کی مشکلات، ضروریات کی جانب توجہ دلاتا رہا مگر ان صنعتکاروں اور سرمایہ کاروں نے آخر تک کوئی جواب نہ دیا جس کے بعد انہیں گروپ ختم کرنا پڑا۔

دیکھا جائے تو ان فیکٹری مالکان و صنعت کاروں کے مسائل پر بلوچستان حکومت متوجہ ہے۔ انہیں جب بھی کوئی مشکل یا مسئلہ درپیش ہوتا ہے تو وزیراعلیٰ بلوچستان سے خود یا دوسرے ذرائع سے رابطہ کرتے ہیں۔ گویا بلوچستان حکومت ان کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کی پالیسی رکھتی ہے۔ مگر یہ سرمایہ دار مشکل وقت میں جام کمال کی بارہا درخواست کے باوجود آگے نہ بڑھے۔ چناںچہ ہونا یہ چاہیے کہ بلوچستان حکومت بھی آئندہ صوبے کے مفاد کو مقدم رکھے۔

بقول جام کمال چین کی حکومت ڈاکٹر اور ماہرین بلوچستان بھیج رہی ہے، جو یہاں محکمہ صحت کی مدد کر یں گے۔ وزیراعلیٰ نے ڈاکٹروں، پیرا میڈیکس کے لیے اضافی تنخواہ کا اعلان کیا ہے۔ یہ کرونا وائرس فنڈز کے لیے کٹوتی سے بھی مستثنیٰ ہوں گے۔ بہر حال ڈاکٹروں اور محکمہ صحت کے ملازمین غیر محفوظ ہیں جس کی وجہ حفاظتی کٹس اور دوسرے لوازمات کی عدم فراہمی ہے۔ بات سچ بھی ہے اب تک کئی ڈاکٹرز کرونا وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں۔

چھ اپریل کو ینگ ڈاکٹرز نے ریلی نکالی، ریڈ زون کی طرف گئے۔ جہیں وزیر اعلیٰ ہاوس کی جانب بڑھنے نہیں دیا گیا۔ ان پر پولیس نے لاٹھی چارج کیا، پکڑ دھکڑ ہوئی، ڈاکٹروں کو حراست میں لیا گیا جس کے بعد ڈاکٹروں نے اسپتالوں میں ڈیوٹی دینے سے انکار کردیا۔ یہاں معاملہ فہمی کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹروں سے بات کی ضرورت ہے۔ یہ وقت گرفتاریوں جیسے اقدامات اور بد اعتمادی کی فضا بنانے کا نہیں ہے۔

وزیر اعلیٰ کہتے ہیں کہ روزانہ اجرت پر کام کرنے والے افراد کو وارڈ کی سطح پر راشن اور روز مرہ ضروریات کی اشیاء ان کے گھروں تک پہنچائی جائیں۔ یہ کام سابق کونسلر جن میں چند اس وقت بھی سرگرم ہیں اور جہاں جہاں محکمہ سوشل ویلفیئر میں رجسٹرڈ انجمن قائم ہیں پر مشتمل کمیٹیاں تشکیل دے کر کیا جائے۔ انشاءاللہ مستحق افراد کو اشیاء خوردنی کی ترسیل تسلسل سے شروع ہوجائے گی۔

ہم بارہا وزیراعلیٰ جام کمال کو توجہ دلاچکے ہیں کہ حکومتوں کے اندر شفافیت بہت ضروری ہے۔ نیک نام اور اچھی شہرت کے حامل افسران سے کام لیا جائے۔ ان افسران کو قریب بھی آنے نہ دے جن پر ماضی میں نیب کیسز بنے ہیں۔ جو اب بھی مقدمات کا سامنا کررہے ہیں یا جو اچھی شہرت نہیں رکھتے۔ گویا ہمہ پہلو توجہ کی ضرورت ہے۔ سرحدات پر لوگوں کی آمدروفت اب بھی جاری ہے۔ خصوصاً پاک افغان چمن سرحد پر رقم لے کر بغیر طبی معائنہ کے لوگوں کو جانے اور آنے دیا جارہا ہے۔ قلعہ سیف اللہ ، ژوب اور پشین کے راستوں سے بھی لوگ آرہے ہیں۔ وزیراعلیٰ بلوچستان کے مطابق ایران میں اس وقت بھی ساڑھے سات سے آٹھ ہزار پاکستانی مزید بھی موجود ہیں۔

صوبائی حکومت کے دعوے کے مطابق ان افراد کے لیے تفتان میں پندرہ ایکڑ رقبے اور چھ سو کنٹینرز پر مشتمل بڑا قرنطینہ مرکز بنایا جارہا ہے۔ جس میں تمام سہولیات مہیا کی جائیں گی۔ اللہ کرے کہ ایسا ہی ہو۔ اسی طرح چمن میں نو سو افراد کے لیے قرنطینہ خیمہ بستی بنائی گئی ہے۔ کوئٹہ میں بھی دشت کے قریب پچاس ایکڑ رقبے پر کنٹینرز کی مدد سے قرنطینہ بنایا جائے گا۔ مجموعی طور پر صوبائی حکومت کوئٹہ، تفتان اور چمن میں قرنطینہ مراکز پر پچاس کروڑ روپے خرچ کرے گی۔

حکومت کو تفتان کی خیمہ بستی کے تجربے سے سبق سیکھتے ہوئے قرنطینہ کے معیارات کو پورا کرنا چاہیے۔ یہاں یہ امر بھی پیش نظر رہے کہ سرکاری افسران بالخصوص ڈپٹی کمشنر کی تعیناتی کو وزرا، مشیروں یا دوسروں کی خواہش و مرضی کے مطابق مزید نہ ہوں۔ یہ سب کچھ سرکاری مفاد اور ضابطے کے تحت ہوں۔ عالم یہ ہے کہ کوئی بھی ڈپٹی کمشنر بغیر سفارش یا کسی وزیر و مشیر کے طلب کے بغیر تعینات نہیں ہے۔ بعض دوسرے حلقے بھی اس تناظر میں مداخلت کررہے ہیں۔ یعنی بیورو کریسی کے تبادلوں میں ان کی اتھارٹی چلتی ہے جہاں جو ڈپٹی کمشنر پسند نہ ہو اس کا تبادلہ کرادیا جاتا ہے۔

بہت پہلے چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ جسٹس جمال مندوخیل نے اس بارے میں ڈپٹی کمشنرز اور دیگر افسران کو کہہ چکے ہیں کہ اگر انہیں ایسی صورتحال کا سامنا ہو تو عدالت سے رجوع کریں۔ چناںچہ تیس مارچ کو چیف جسٹس جمال مندوخیل اور جسٹس نذیر احمد لانگو پر مشتمل بنچ نے مختلف اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کے تبادلے کے نوٹیفکیشنز کو معطل کردیا۔ کسی ایسی صورت میں سرکاری عمال و حکام کو بھی چاہیے کہ وہ فوری بلوچستان ہائی کورٹ سے رجوع کرلیا کریں۔ صوبائی حکومت بھی اس تماشے سے خود کو بچائے کیوں کہ جس حکومت کی رٹ نہ ہو وہ عوام کی نمائندہ نہیں کہلائی جاتی۔ سول افسران کو کسی کے رحم و کرم پر نہ چھوڑا جائے۔ انہیں موافق حالت میں کام کرنے دیا جائے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube