ہوم   > بلاگز

مظفرگڑھ کا اسپتال کرونا کے مریضوں کیلئے دار الشفاء

SAMAA | - Posted: Apr 7, 2020 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Apr 7, 2020 | Last Updated: 2 months ago

پاکستان میں کرونا وائرس ہمسایہ ملک سے زائرین کے ذریعے داخل ہوا، حکومت پاکستان نے ان زائرین کو مختلف شہروں میں قرنطینہ سینٹرز میں رکھا۔ قرنطینہ میں زائرین کی اسکریننگ کے بعد ان مریضوں کو آئیسولیشن وارڈز میں منتقل کر دیا۔ اس سلسلے میں جنوبی پنجاب کے ضلع مظفرگڑھ کے طیب اردگان اسپتال میں جدید آئیسولیشن وارڈ قائم کیا گیا جس کا شمار ملک کے جدید ترین اسپتال میں ہوتا ہے جہاں مریضوں کو مفت علاج کی سہولت میسر ہے۔

ڈپٹی کمشنر مظفرگڑھ امجد شعیب ترین نے بتایا کہ ڈیرہ غازی خان اور ملتان میں بنائے گئے قرنطینہ سینٹر میں موجود افراد میں کرونا وائرس کی تشخیص ہونے پر انہیں طیب اردگان اسپتال میں منتقل کیا جاتا ہے، آئیسولیشن وارڈ میں 200 مریض رکھنے کی گنجائش ہے جبکہ ضرورت پڑنے پر یہ تعداد 400 بیڈز تک کی جاسکتی ہے۔ اسکریننگ کےلیے مریض کے سینے کا ایکسرے اور ناسو فرینجیل سواب ٹیسٹ کیا جاتا ہے۔ ابتداء میں ٹیسٹ کٹس بہت کم تعداد میں دستیاب تھی لیکن آئیسولیشن سینٹر میں آنے والے ہر مریض کے ٹیسٹ کےلیے کٹس دستیاب ہیں۔ آئیسولیش وارڈ میں اب تک پنجاب کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے 200 مریض لائے جا چکے ہیں۔ اسکریننگ کے بعد 130 مریضوں کو آئیسولیشن وارڈ میں لایا گیا۔ اچھی خبر یہ کہ 13 ایسے مریض جن میں کرونا وائرس کا رزلٹ پازیٹیو آیا تھا تقریباً 2 ہفتے آئیسولیشن وارڈ میں رہنے کے بعد ان 13 مریضوں کو کرونا نیگیٹو آنے پر ڈسچارج کردیا گیا۔ اس وقت مظفرگڑھ طیب اردگان اسپتال میں 39 مریض داخل ہیں جن میں 29 مریض کنفرم اور 10 مریضوں کی ٹیسٹ رپورٹ آنی ہے۔ 78 مریضوں کو ٹیسٹ رپورٹ نیگیٹو آنے پر ڈسچارج کیا جا چکا ہے۔ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال مظفرگڑھ میں 22 مریض رپورٹ ہوئے لیکن خوش قسمتی سے ان میں کرونا وائرس کی تصدیق نہیں ہوئی۔ ڈپٹی کمشنر مظفرگڑھ کے مطابق مکمل مریضوں کی صحت دن بدن بہتر ہورہی ہے۔ مریضوں کے ٹیسٹ، وینٹی لیٹرز، کٹس کی تعداد اور ڈاکٹروں، پیرا میڈیکل اسٹاف کی حفاظت بارے انتظامات کے حوالے سے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ معلومات پبلک نہیں کی جاسکتی، جس پر میں انہیں پنجاب شفافیت اور معلومات تک رسائی کے قانون 2013 کے تحت ایک درخواست لکھ کردی کہ اس قانون کے تحت معلومات حاصل کرنا میرا حق ہے۔ میری درخواست لیکر انہوں نے اپنے پی اے کے حوالے کردی تاہم اب تک معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔

کرونا وائرس پازیٹیو کی ایک مریضہ (حمیدا بی بی) آئیسولیشن میں آنے والی اور پھر صحت یاب ہونے والی پہلی خاتون تھی۔ انٹرویو کےلیے رابطہ کیا مگر انہوں نے میڈیا کے سامنے آنے سے انکار کر دیا۔ ان کے دیور کو ایک دوست سے کال کروائی کہ کم از کم مجھے کچھ معلومات شئیر کردیں بالآخر اس خاتون کے دیور نے فون کال پر معلومات لیکر دی۔ خاتون کے مطابق تفتان بارڈر سے ڈیرہ غازی خان آتے ہوئے راستے میں معمولی نزلہ کی شکایت ہوئی، ڈیرہ غازی خان میں 3 روز گزارے لیکن طبیعت روز بروز خراب ہوتی گئی اور پھر سانس کی تکلیف شروع ہوگئی۔ دوائی سے آرام نہیں آیا، ڈاکٹرز ملتے نہیں تھے کیونکہ وہاں رش زیادہ تھا اور ڈاکڑز کم تھے، جب طبیعت زیادہ خراب ہوئی تو انہوں نے مظفرگڑھ اسپتال منتقل کردیا۔ یہاں ڈاکڑوں نے ایک بار ناک میں کچھ ڈال کر نمونے لیے اور ایک الگ کمرے میں بھیج دیا۔ اس اکیلے کمرے میں صفائی ستھرائی تھی، بیماری کا خوف تھا لیکن فون پر گھر رابطہ ہوجاتا تھا۔ بستر کے ساتھ ایک گھنٹی کا بٹن تھا۔ ڈاکٹروں نے کہا کہ جس چیز کی ضرورت ہو یہ گھنٹی بجانی ہے، دن میں چائے زیادہ سے زیادہ استعمال کرنی ہے، ماحول کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ طبیعت میں بہتری آرہی تھی۔ سانس بھی بہتر ہورہی تھی اور پھیپھڑوں میں تکلیف بھی کم ہورہی تھی۔ ایک دن پھر ڈاکٹر آئے انہوں نے پھر ٹیسٹ کیے جس پر مجھے پتہ چلا کہ میں ٹھیک ہوگئی ہوں اور اب گھر بھیج دیا جائے گا۔ یہ سن کر میری آنکھوں میں آنسو آگئے، عجیب سی خوشی تھی، نئی زندگی ملنے کی خوشی تھی۔ جس روز میں نے اسپتال سے باہر قدم رکھا وہ لمحہ کبھی نہیں بھول سکوں گی۔

مقامی طور پر رہائش پذیر کوئی شخص اس سے متاثر نہیں ہوا لیکن افواہوں نے شہریوں کو خوفزدہ کیا ہوا ہے۔ آئے روز معمول بن چکا ہے کہ کسی نا کسی بستی سے کرونا سے متاثرہ مریض ہونے کی اطلاع آجاتی ہے لیکن جب اسکریننگ کی جاتی ہے تو مریض صحت یاب ہوتا ہے۔ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن مظفرگڑھ حفاظتی اقدامات پر شدید تحفظات رکھتے ہیں۔ صدر پی ایم اے مظفرگڑھ ڈاکٹر حسن کا کہنا ہے کہ ہم نے جزوی طور پر آوٹ ڈور سروسز بحال رکھی ہوئی ہیں تاکہ شدید امراض میں مبتلا افراد کو حفاظتی اقدامات کے ساتھ علاج فراہم کیا جاسکے، اس وبا کو پھیلنے سے روکنے کےلئے آپریشنز یا سرجری کو غیرمعینہ مدت کےلئے روک دیا گیا۔ ڈاکٹر مہراقبال ایم ایس ڈسٹرکٹ اسپتال مظفرگڑھ کے مطابق حکومت پنجاب کی ہدایت پر پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کے تعاون سے ٹیلی میڈیسن سروس کا آغاز کردیا گیا ہے مریض اب گھر بیٹھےموبائل کال، واٹس ایپ، اسکائپ اور ذوم میٹنگ کے ذریعے ڈاکٹر سے رابطہ کرکے اپنی بیماری کا علاج کروا سکتے ہیں۔ ٹیلی میڈیسن کے لئے 03176593645، واٹس اپ کےلئے 03176593646 نمبر جاری کر دیے گئے ہیں جبکہ حادثات یا کسی ایسی بیماری جس میں انسانی جان ضائع ہونے کا خطرہ ہو ایسی صورت میں اپریشن کیے جا رہے جبکہ ایسے مریض جنہیں جان لیوا مرض لاحق نہیں اور انکی جان کو خطرہ نہیں انہیں قابل ڈاکٹرز کے ذریعے ادویات تشخیص کرکے دی جا رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے تھا کہ اسپتال میں لوگوں کی بڑی تعداد آتی ہے کوئی بھی شخص کرونا کیرئیر ہوسکتا ہے اور اس دوران مریض کا آپریشن کرنے سے کرونا وائرس کے ہونے کا خدشہ زیادہ ہے، سینئیر ڈاکٹرز کا بورڈ اس سلسلے میں روزانہ کی بنیاد پر مریضوں کی چانچ پڑتال کرتا ہے۔ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ کرونا کے پھیلاؤ کو روکنے کےلئے ہاتھوں کو صابن سے اچھی طرح دھوئیں اور سینیٹائزر کا استعمال کرکے ہاتھوں کو وائرس سے پاک رکھیں۔ امریکی ادارے ’’سینٹر فار ڈزیز کنڑول اینڈ پریوینشن‘‘ کے مطابق سینیٹائزر میں 60 فیصد الکوحل ہاتھوں سے جراثیم ختم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ ہاتھوں کو سینیٹائزر سے صاف کرنے پر پوری دنیا آگاہی مہم چلا رہی ہے۔

پاکستان میں ہر دوسرا شخص تمباکو کا استعمال کرتا ہے۔ پاکستان اینٹی اسموکنگ سوسائٹی کے جمع کردہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں 31 کمپنیوں کے 38 کارخانے چل رہے ہیں جو ہرسال سگریٹ فروخت کرنے پر 40 ارب روپے ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ پاکستان میں سالانہ ایک لاکھ ٹن تمباکو فروخت ہوتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا میں 40 فیصد مرد اور9 فیصد خواتین تمباکو نوشی کرتے ہیں۔

یو سی ایل سینٹر آف جینڈر اینڈ گلوبل ہیلتھ کی ایک تازہ تحقیق کے مطابق خواتین کی نسبت مرد حضرات اس وبا سے زیادہ متاثر ہوکر جان گنواتے نظر آرہے ہیں جس کی ممکنہ وجہ تمباکونوشی ہوسکتی ہے۔ تمباکو نوشی کرنے والے 12 فیصد افراد میں معمولی علامات سامنے آئیں جبکہ 26 فیصد انتہائی نگہداشت میں رہے یا جان کی بازی ہار گئے۔ امریکی ادارہ ہیلتھ اینڈ ہیومن سروسز(یو ایس ڈی ایچ ایچ ایس) کی ایک تحقیق کے مطابق فطری طور پر مردوں میں انفیکشنز کی ایک بڑی اقسام کیخلاف قوت مدافعت کم ہوتی ہے۔ یو سی ایل سینٹر آف جینڈر اینڈ گلوبل ہیلتھ پروفیسر سیبرا کلائن کا کہنا ہے کہ ممکن ہے کہ مردوں کا مدافعتی نظام جب ابتداء میں وائرس دیکھتا ہے تو اس کیخلاف فوری طور پر مناسب جوابی کارروائی نہیں کر پاتا۔ اس حوالے سے ہارمونز کا بھی رول ہوسکتا ہے اور امکانات ہیں کہ جو عوامل مدافعتی نظام میں ملوث ہوتے ہیں وہ مردوں کی نسبت خواتین میں زیادہ فعال ہوتے ہوں۔ خواتین میں ایسٹروجن نامی زنانہ ہارمون خارج ہوکر متعدد افعال سر انجام دیتا ہے جبکہ مردوں میں ایسٹروجن کا متضاد مردانہ ہارمون ٹیسٹا سٹیرون ہوتا ہے۔ خواتین کو مضر اثرات سے بچانے کےلئے ایسٹروجن کی وجہ سے خواتین کا مدافعتی نظام زیادہ متوازن انداز میں کام کرتا ہے۔ نیویارک اسپتال کی کارڈیالوجسٹ ڈاکٹر تارا نارولا کا کہنا ہے کہ ’’اگر آپ تمباکو نوشی چھوڑنے کی وجہ چاہتے ہیں تو کرونا اس کی بڑی وجہ ہے‘‘۔

یونیورسٹی آف آئیووا میں متعدی امراض کے ماہر ڈاکٹر سٹینلی پرلمین نے چوہوں میں سارس وائرس اور مرس وائرس کے اثرات پر تحقیق کی ہے۔ سارس، مرس اور کووڈ 19 کی وبا پھیلانے والا وائرس ایک ہی خاندان سے تعلق رکھتا ہے اور ان کی کئی خصوصیات آپس میں ملتی ہیں۔ ان تینوں کو کرونا وائرس کہا جاتا ہے۔ سارس اور مرس سے مرنے والوں میں زیادہ تعداد مردوں کی تھی۔

حکومت پاکستان کرونا سے بچاؤ کےلئے بھرپور اقدامات کررہی ہے۔ مظفرگڑھ آئیسولیشن وارڈ سے کرونا کی تصدیق شدہ 13 مریضوں کا صحتیاب ہونا ثابت کرتا ہے کہ سماجی رابطوں میں کمی اور طبی ماہرین کے مشوروں پر عمل کرکے کرونا کو باآسانی شکست دی جاسکتی ہے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube