ہوم   > بلاگز

عمرسعیدشیخ کادورانِ قیدبھی شدت پسندوں سےرابطہ رہا؟

SAMAA | - Posted: Apr 3, 2020 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Apr 3, 2020 | Last Updated: 2 months ago

 

احمد عمر سعید شیخ پچھلے 18 برس سے وال اسٹریٹ جرنل کے رپورٹر ڈینیئل پرل کے اغوا اور قتل کے الزام میں جیل میں قید ہے لیکن پچھلے کچھ برسوں کے واقعات کا اگر جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ شیخ عمر {اس سے متاثر جہادی اسے آج بھی شیخ عمر پکارتے ہیں} کو جہادی حلقوں میں آج بھی اہمیت حاصل ہے اور اس کے ساتھی اسے بھولے نہیں ہیں۔

شیخ عمر کو 2002 میں ہی ایک کورٹ نے ڈینیل پرل کے قتل کے الزام میں سزائے موت سنادی تھی جس کے بعد اس کے وکلا نے اس سزا کے خلاف ایک اپیل دائر کی تھی۔

شیخ عمر کو سزا سنائے جانے کے تقریباً 14 سال بعد کالعدم تنظیم کے افراد نے حیدرآباد جیل توڑ کر تقریباً 100 انتہائی خطرناک قیدیوں بشمول احمد عمر سعید شیخ کو آزاد کروانے کا منصوبہ بنایا تھا اور اس منصوبہ بندی کی تصدیق اُس وقت کے پاکستانی فوج کے ترجمان عاصم سلیم باجوہ نے فروری 2016 میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کی تھی۔

پاکستانی فوج کےاُس وقت کے ترجمان کے مطابق کالعدم تنظیم کے افراد حیدرآباد جیل پر حملے کی 90 فیصد منصوبہ بندی کرچکے تھے لیکن پاکستانی حساس اداروں نے حملے سے پہلے ہی اس کوشش کو ناکام بنادیا۔ عاصم سلیم باجوہ نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ کالعدم تنظیم کے افراد حیدرآباد جیل میں خودکش حملے کرنا چاہتے تھے اور اُن کے منصوبے میں جیل کے 2 دروازوں پر بارود سے بھری گاڑیاں ٹکرانا بھی شامل تھا۔

جہادی حلقوں میں شیخ عمر کے نام سے مشہور احمد عمر سعید شیخ برطانیہ میں 1974ء میں پیدا ہوئے تاہم ان کا خاندان 1987ء میں لاہور منتقل ہوا جہاں انہوں نے ایچی سن کالج میں داخلہ لیا تاہم انہیں خراب رویے کے باعث جلد ہی کالج سے بے دخل کردیا گیا تھا۔

ایچی سن کالج سے نکالے جانے کے بعد شیخ عمر واپس برطانیہ چلا گیا جہاں اس نے 2 سال لندن اسکول آف اکنامکس میں گزارے۔ اس کی زندگی پر ایک نظر ڈالنے سے پتہ چلتا ہے کہ وہ جہاد کشمیر میں دلچسپی رکھتا تھا۔

اسی دلچسپی کے باعث شیخ عمر نے 90ء کی دہائی میں مولانا فضل الرحمان خلیل کی حرکت المجاہدین تنظیم میں شمولیت اختیار کی۔ چند ہی برسوں میں وہ اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ بھارت کے زیرِ تسلط کشمیر میں گھسنے میں کامیاب ہوگیا لیکن 1997ء میں بھارتی فوج نے اسے ایک آپریشن کے دوران غیرملکی سیاحوں کو اغوا کرنے کے الزام میں گرفتار کیا اور جیل میں ڈال دیا۔

شیخ عمر نے تقریباً 2 سال بھارتی جیل میں گزارے تاہم دسمبر 1999ء میں شدت پسندوں نے ایک بھارتی مسافر طیارہ اغواء کرلیا اور اسے افغانستان کے قندھار ایئر پورٹ پر اتار لیا اور بھارتی حکومت کو مسافروں کے بدلے 3 قیدیوں احمد عمر سعید شیخ، مولانا مسعود اظہر اور مشتاق احمد زرگر کو جیل سے رہا کرنا پڑا۔

بھارتی جیل سے رہائی پانے کے بعد شیخ عمر نے مولانا مسعود اظہر کیساتھ مل کر کالعدم جیش محمد کی بنیاد رکھی جو بھارت اور اس کے زیر تسلط کشمیر میں کئی بڑے حملوں کی ذمہ داری قبول کرچکی ہے۔ اطلاعات کے مطابق شیخ عمر نے کچھ عرصہ افغانستان میں بھی گزارا جس کے باعث اس کے عرب مجاہدین اور القاعدہ کے سرکردہ افراد سے بھی تعلقات قائم ہوگئے۔ تاہم 2002ء میں امریکی صحافی ڈینیئل پرل کے قتل کے الزام میں اسے پاکستانی قانون نافذ کرنے والے اداروں نے گرفتار کرلیا۔ ڈینیئل پرل کو جنوری 2002ء میں کراچی سے اغواء کیا گیا تھا۔

 پاکستانی جیل میں بھی شیخ عمر القاعدہ اور اس سے جڑی بھارت مخالف تنظیموں سے رابطے میں رہا۔ نومبر 2008ء میں کالعدم لشکر طیبہ کے تقریباً 10 مسلح افراد نے بھارتی شہر ممبئی میں 150 سے زائد افراد کو حملہ کرکے قتل کیا۔ پاکستانی تحقیقاتی صحافی اعزاز سید اپنی کتاب “دا سیکرٹس آف پاکستانز وار آن القاعدہ” میں لکھتے ہیں کہ شیخ عمر کو القاعدہ کی جانب سے ممبئی حملوں کی پیشگی اطلاع دے دی گئی تھی۔

اعزاز سید لکھتے ہیں کہ القاعدہ کے سابق سربراہ اسامہ بن لادن، جو کہ پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں ایک امریکی حملے میں مارے جاچکے ہیں، ان کو اپنے ایک سینئر پاکستانی شدت پسند کمانڈر الیاس کشمیری کے ذریعے کالعدم لشکر طیبہ کے ممبئی حملوں سے متعلق منصوبے کی اطلاع مل چکی تھی اور اسامہ بن لادن نے ان حملوں کی حمایت کی تھی۔

اعزاز سید کے مطابق ممبئی میں ہونے والے حملوں کے بعد پاکستان اور بھارت میں شدید کشیدگی پائی جارہی تھی، ایسے میں ایک دن ایک شخص نے بھارتی وزیر دفاع کا نام لے کر اس وقت کے پاکستانی صدر آصف علی زرداری اور آرمی چیف اشفاق پرویز کیانی کو ٹیلی فون کیا اور دھمکی دی کہ پاکستان بھارت کی جانب سے انتہائی شدید ردعمل کے لئے تیار رہے۔ اسی شخص نے کچھ بھارتی اور امریکی رہنماؤں کو بھی فون کرنے کی کوشش کی لیکن وہ کامیاب نہ ہوسکا۔

یہاں امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے نے پاکستانی حکام کو بتایا کہ یہ کال بھارتی وزیر دفاع نے ںہیں بلکہ پاکستان کے شہر حیدرآباد کی ایک جیل سے کسی شخص نے کی ہے۔

اعزاز سید لکھتے ہیں کہ یہ ٹیلی فون کالیں دراصل جیل میں موجود احمد عمر سعید شیخ نے کی تھیں، جن کا مقصد پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک نئی جنگ چھیڑنا تھا۔ اس کے بعد پاکستانی اداروں نے جب حیدرآباد جیل میں سرچ آپریشن کیا تو انہیں شیخ عمر کے پاس سے تقریباً 150 سم کارڈز اور ایک موبائل فون برآمد ہوا۔

اس واقعے کے بعد کیا ہوا وہ آج بھی ایک راز ہے لیکن یہاں ایک بات اہم ہے کہ جیل میں اتنا عرصہ گزار لینے کے بعد بھی شیخ عمر جہادی حلقوں میں ایک اہم شخصیت ہیں اور جیل میں رہتے ہوئے بھی وہ شدت پسند تنظیموں سے رابطے میں رہے ہیں۔

سال 2011ء میں جارج ٹاؤن یونیورسٹی میں پرل پروجیکٹ کی جانب سے ایک رپورٹ شائع کی گئی تھی جس میں لکھا تھا کہ ڈینیئل پرل کے قتل کے الزام میں غلط لوگوں کو سزا سنادی گئی ہے، اس رپورٹ کے مطابق امریکی صحافی کا اصل قاتل نائن الیون کا ماسٹر مائنڈ خالد شیخ محمد تھا۔

گزشتہ روز 2 اپریل کو سندھ ہائی کورٹ نے شیخ عمر کی اپیل پر فیصلہ سناتے ہوئے اس کی سزائے موت کو 7 سال کی قید میں تبدیل کردیا اور فیصلے میں بھی یہی لکھا گیا ہے کہ شیخ عمر پر ڈینیئل پرل کو قتل کرنے کا الزام ثابت نہیں ہوا۔ اس کے وکیل خواجہ نوید نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ احمد عمر سعید شیخ پہلے ہی 18 سال جیل میں گزار چکا ہے اور کورٹ کی جانب سے دی گئی 7 سال سزا کا شمار انہی 18 سالوں میں ہوگا اور اسے کچھ ہی دن میں رہائی مل جائے گی۔

شیخ عمر کی رہائی اب بھی ممکن نہیں کیونکہ سندھ حکومت نے ایک آرڈر کے ذریعے شیخ عمر اور دیگر ملزمان کو (ایم پی او) مینٹی ننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس 1960ء کے تحت 3 ماہ حراست میں رکھنے کا حکم دے دیا ہے۔ سرکاری وکیلوں کا کہنا ہے کہ وہ سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے جارہے ہیں۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
WhatsApp FaceBook
PAKISTAN, INDIA, AFGHANISTAN, US, DENIAL PEARL, WSJ, JOURNALIST, SHAIKH UMAR, ALQAEDA, TALIBAN, KASHMIR
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube