ہوم   > بلاگز

کروناوائرس سے مکمل محفوظ دنیا کی خوش نصیب جگہ

SAMAA | - Posted: Mar 31, 2020 | Last Updated: 2 months ago
Posted: Mar 31, 2020 | Last Updated: 2 months ago
فائل فوٹو

کیا آپ جانتے ہیں کہ دنیا کے کونے میں ایک ایسی جگہ بھی ہے، جو اب تک کرونا وائرس کے حملوں سے بچی ہوئی ہے۔

اس ملک کا نام ری پبلک پلاو ہے ہے جو مختلف جزائر پر مشتمل ہے اور کورا اس کی ایک ریاست اور معروف ترین جزیرہ ہےجو تمام سہولیات سے آراستہ ہے۔ جزیرہ ہونے کا ہرگز یہ مقصد نہیں کہ یہ ایک ایسا تن تنہا زمین کا ٹکرا ہے جو آپ کو ٹام ہینکس کی فلم رن آوے میں دکھایا گیا تھا۔

یہ خوبصورت ہوٹلز، بارز، پارک، سوئمنگ پولز، مالز اور اسٹورز سے مزین ہے۔ جہاں لوگ اپنی زندگی دنیا میں بسنے والے دیگر افراد ہی کی طرح گزارتے ہیں۔ یہاں حد نگاہ تک خوبصورت نیلگوں پانی پر تیرتی جدید کشتوں کو دیکھ کر تتلیوں کا سا گماں ہوتا ہے۔ سر پر موجود صاف ستھرا آسمان بھی کسی اور ہی دنیا کا پتا بتاتا ہے۔

فائل فوٹو

کرونا سے پاک یہ جزیرہ بحرالکاہِل کے شمال میں واقع ہے اور ان دنوں دنیا کی سب سے بہترین جگہ ہے اور اس کی وجہ بھی آپ کے سامنے ہیں۔ ایک طرف جہاں دنیا بھر کے ممالک اور لوگ اس عالمی وبا کے ہاتھوں بے بس اور خوف میں مبتلا ہیں، وہیں کورو کے رہائشی چین کی بانسری بجا رہے ہیں۔

یہاں بسنے والی اکثریت ہسپانوی زبان استعمال کرتی ہے۔ اس جزیرے کی پوری دنیا سے الگ تھلگ رہنے والے یہ افراد شاید ان دنوں اپنے اوپر خوب ناز بھی کرتے ہوں۔ اس جزیرے کی کل آبادی فقط 18 ہزار افراد پر مشتمل ہے جو اپنے ملک ری پبلک پلاو کی کل آبادی کا 70 فیصد ہے اور پورے ملک کی طرح یہاں بھی اب تک کوئی کرونا سے متاثرہ کیس رپورٹ نہیں ہوا ہے۔

فائل فوٹو

ری پبلک پلاو کا شمار ان چند ممالک بشمول ترکمانستان، ساماؤ، شمالی کوریا اور براعظم انٹارکٹیکا میں کیا جاسکتا ہے جو کرونا وبا کے تناظر میں ان دنوں قدرے مختلف حیثیت کے حامل ہیں۔

وسیع و عریض پانی کے درمیان ایک نقطے کی طرح موجود پلاو کو ایک فائدہ اس کے ارد گرد پھیلے پانی سے بھی حاصل ہے، جو اس جزیرے کیلئے ایک حفاظتی ڈھال کا کام کر رہی ہے۔

سخت ترین سفری شرائط کی بنا پر بھی ابھی تک کرونا وائرس سے متاثرہ کوئی شخص یہاں قدم نہیں رکھ سکا ہے۔ پالو کی رہائشی 28 سالہ ٹولوپ کا کہنا ہے کہ مجھے امید ہے کہ یہ آئسولیشن اور دنیا بھر سے علیحدگی ہمیں اس وائرس کے خلاف مؤثر دوا کا کام کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ جہاں دنیا میں نیویارک، میڈرڈ اور ووہان جیسے ترقی یافتہ شہر اس عالمی وبا کے سامنے بے بس ہیں، مجھے پورا یقین ہے کہ ان تمام تر سہولیات سے محروم رہتے ہوئے بھی ہم محفوظ رہیں گے۔

سیاحوں کیلئے گائیڈ کا کام سرانجام دینے والی ایک سیاحتی گائیڈ کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں اس وائرس کے حملے سے ان کے جزیرے کی معیشت بری طرح متاثر ہوئی ہے، کیوں کہ ان کے ملک کا بڑا حصہ سیاحت سے ملنے والے آمدنی سے اخراجات پورے کرتا تھا۔ سیاحت کم ہونے سے لوگ بے روزگار اور بلوں کے بوجھ تلے دب رہے ہیں، تاہم حکومت کی جانب سے ابھی تک کوئی اعلان نہیں کیا گیا۔

سیاحتی گائیڈ نے بتایا کہ عالمی وبا کے عام ہونے سے قبل امریکی پرواز ہفتے میں چھ دفعہ نزدیکی علاقے گوئم کا رخ کرتی تھی، تاہم 50 کیسز سامنے آنے کے بعد اب صرف ایک فلائٹ ہی پورے ہفتے میں یہاں کا رخ کرتی ہے۔

دنیا میں پھیلے اس وبا کے خوف سے یہاں بھی لوگ محفوظ نہیں ہیں، کھل کر نہ سہی مگر اندر سے لوگ ڈرے ہوئے ہیں کہ کسی بھی وقت شاید یہ وائرس یہاں بھی پہنچ سکتا ہے۔

اس خوف کے باعث حکومت نے تائیوان سے کرونا ٹیسٹ کٹس منگوائے ہیں۔ حکومت بروقت 14 مریضوں کے علاج کیلئے 5 آئی سولیشن کمروں کی تعمیر پر بھی کام کر رہی ہے، تاکہ کسی بھی ہنگامی صورت حال میں کام آسکیں۔

گائیڈ نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بے شک یہ وائرس حقیقت میں ابھی تک اس جزیرے کو نہیں چھو سکا، مگر اس کا خوف ہمیں سر سے پاؤں تک اپنی آغوش میں لے چکا ہے۔

براعظم انٹارٹیکا

براعظم انٹارٹیکا کی بات کی جائے تو براعظم انٹارٹکا بھی ان خوش نصیب جگہوں میں شامل ہے، جہاں اب بھی تمام افراد مل بیٹھ کر کھانا کھا رہے ہیں، بارز میں جا رہے ہیں اور ورزش کیلئے جم بھی کھلے ہیں۔

یہاں کے لوگ آپس کے میل جول میں احتیاط کر رہے ہیں اور غذا پر توجہ دے رہے ہیں۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube