ہوم   > بلاگز

ایک سیٹ، 22 کروڑ عوام

SAMAA | - Posted: Mar 31, 2020 | Last Updated: 2 months ago
Posted: Mar 31, 2020 | Last Updated: 2 months ago

فوٹو: آن لائن

لاک ڈاون کا تیسرا دن تھا۔ ایک مزدور مجھے روزانہ اچھرہ بازار کے پاس فٹ پاتھ پر گذشتہ تین دنوں سے نظر آرہا تھا، کئی بار سوچا کہ اس سے حال احوال پوچھوں مگر ہمت نہیں ہوئی۔ میں حیران تھا کہ آخر کس امید پر یہ مسلسل تین دنوں سے مزدوری کی تلاش میں نکلتا ہے؟ خیر چوتھے روز وہ مزدور وہاں نظر نہیں آیا، اس دن مجھے شدت سے اس کی کمی محسوس ہوئی لیکن بعد ازاں وہ میرے خیالوں سے نکل گیا۔

اتوار کو میں اپنے لیے نان لینے کیلئے گیا تو وہ مزدور بھی مجھے نظر آگیا، اس کی آنکھوں میں پہلے والی مایوسی نہیں تھی، اس کا چہرہ تکلیف سے زرد نہیں تھا، ہاں میں نے اس کی آنکھوں میں تشکر دیکھا تھا، اب وہ مایوس نہیں تھا، میں نے اس کے ساتھ سلام دعا کی اور لاک ڈاون کی بابت دریافت کیا۔ اس نے بتایا کہ ابتدائی دنوں میں تو وہ بے حد پریشان تھا، چار بچوں، اہلیہ اور ماں کو روٹی کیسے کھلاؤں گا؟ لاک ڈاؤن کے دوران اس کا گزارا کیسے ہوگا؟ لیکن ایک دن الخدمت فاؤنڈیشن کے رضاکار 20 کلو آٹے کا تھیلا، 4 کلو گھی، 5 کلو چاول، 3 کلو چینی، 5 کلو دال، 3 کلو چنا اور 3 عدد صابن پر مشتمل ایک راشن پیک دے کر چلے گئے، یقین جانیں یہ سامان میرے لیے کسی من وسلویٰ سے کم نہیں تھا۔

یہ تو ایک مزدور نے اپنی کہانی بیان کی ہے لیکن جس وقت میں یہ سطور تحریر کر رہا ہوں الخدمت فاؤنڈیشن ملک بھر میں 65 ہزا ر افراد کو تین وقت کا کھانا، 80 ہزار خاندانوں کو راشن پیک، 60 ہزار سینٹائزرز اور 4 لاکھ کے قریب ماسک عوام میں تقسیم کر چکی ہے۔ یہی نہیں اپنے 28 اسپتال بھی کرونا وائرس کے مریضوں کیلئے حکومت کے حوالے کرچکی ہے، یہی نہیں ہر اسپتال میں 3، 3 وینٹی لیٹرز اور پیشنٹ مانٹیرز کےساتھ ان کے آئی سی یو بھی فعال ہوچکے ہیں۔ حکومت جب چاہے ان اسپتالوں کو قرنطینہ سینٹر یا کرونا کے مریضوں کے علاج کےلیے استعمال کرسکتی ہے۔ اس کے علاوہ کراچی، ملتان اور فیصل آباد میں 3بڑی لیبارٹریز بھی مفت ٹیسٹوں کیلئے حکومت کو پیش کردی ہیں۔

الخدمت فاؤنڈیشن جماعت اسلامی کی فلاحی تنظیم ہے، گو کہ قومی اسمبلی میں اس وقت جماعت اسلامی کے پاس صرف ایک نشست ہے مگر جس طرح انہوں نے عوام کی خدمت کی، وہ یقینا ایک لاجواب اقدام ہے۔ اس وقت قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ممبران کی جانب نگاہ دوڑاتا ہوں تو سر شرم سے جھک جاتا ہے۔ درجنوں عوامی نمائندوں نے این جی اوز بنا رکھی ہیں، ان این جی اوز کو فنڈنگ بھی ہوتی ہے، وہ اپنا پاؤر استعمال کرتے ہوئے ان این جی اوز کو نوازتے بھی ہیں مگر حالیہ کرونا مہم کے دوران کوئی بھی ممبر قومی و صوبائی اسمبلی نظر نہیں آیا۔ حکومتی ممبران پریس کانفرنسز کے ذریعے عوام کو نہ گھبرانے کا درس دے رہے ہیں جبکہ اپوزیشن سرکار کو تنقید کا نشانہ بنا کر عوام کو مطمئن کر رہی ہے؟ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عوام نے ان نمائندوں کو ایوان بھی بھیجا، آئین پاکستان کے تحت یہ نمائندے عوام کو جواب دہ بھی ہیں، اگر ایک نشست والی سیاسی جماعت نے ایک ارب سے زائد عوامی فلاح پر خرچ کر دیے ہیں تو درجنوں نشستوں والی سیاسی جماعتیں کہاں ہیں؟ اگر جماعت اسلامی چرچ، مندر اور گردوارے میں اپنی امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں تو دیگر سیاسی جماعتیں عوام کو صرف دعاؤں کے سہارے کیوں چھوڑ رہی ہیں؟ یقینا عوام اپنے نمائندوں سے یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہے، اگر ایک ایم پی اے اپنی انتخابی مہم پر کروڑوں خرچ کرسکتا ہے، ایم این اے کی نشست پر تو اس سے زیادہ خرچ ہوتے ہیں جبکہ سینیٹرز کی بولی تو اربوں میں لگتی ہے۔ کیا یہ وقت نہیں کہ اپنی سیاسی تشہیر کی بجائے عوامی نمائندے عوام پر خرچ کریں؟ بعض سیاسی نمائندے ذاتی این جی اوز ہونے کے باجود دیگر فلاحی اداروں کے کیمپس میں بیٹھ کر فوٹو سیشن کراتے ہیں، کیا ان سے حساب نہیں لیا جانا چاہیے؟

یقینا اس وقت جو کردار ایک نشست والی جماعت اسلامی ادا کر رہی ہے وہ پاکستانی تاریخ میں سنہری حروف میں لکھا جائے گا جبکہ ایک دوسرے کو صرف تنقید کا نشانہ بنانے والے سیاست دانوں کو مؤرخ کبھی معاف نہیں کرے گا۔ کرونا وائرس نے جہاں معاشرتی وائرسز کو بے نقاب کیا ہے وہیں پاکستانی قوم کے جذبہ اخوت و ایثار پر بھی مہر تصدیق ثبت کی ہے۔ اس وقت کراچی سے خیبر اور گوادر سے بلتستان تک سارے ملک میں ایثار و قربانی کا جذبہ پایا جاتا ہے، جو یقینا زندہ قوموں کا ثبوت ہے۔ لیکن اس وقت قوم کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنی جز وقتی یاداشت کی بیماری پر قابو پاتے ہوئے مشکل وقت میں بھول جانے والے افراد کو ضرورت یاد رکھے، اس کے ساتھ ساتھ اپنے جذبہ ایثار کو ہمیشہ زندہ رکھے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube