ہوم   > بلاگز

گھر میں رہیے احتیاط کیجیے

SAMAA | - Posted: Mar 30, 2020 | Last Updated: 2 months ago
Posted: Mar 30, 2020 | Last Updated: 2 months ago

فوٹو: اے ایف پی

چین کے شہر ووہان سے نکل کر دنیا میں کُہرام مچانے والے اس وائرس سے آج 29 مارچ 2020 کی شام تک کرونا وائرس کے متاثرین کی تعداد 6 لاکھ 80 ہزار ہوگئی ہے جبکہ ہلاکتوں کی تعداد 31 ہزار 700 سے زیادہ ہے۔ کرونا سے 1 لاکھ سے زیادہ صحتیاب ہوئے ہیں۔

جب ووہان میں شہریوں کو کرونا وائرس نے متاثر کیا تو وہاں ڈاکٹرز کی جانب سے اسے معمولی نزلہ زکام/نمونیہ قرار دے کر نظر انداز کر دیا گیا حالانکہ بڑھتے مریضوں کو دیکھ کر ڈاکٹر لی وینلیانگ کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا گیا کہ یہ کوئی وائرس ہے جو تیزی سے پھیل رہا ہے مگر بدقسمتی سے ڈاکٹر لی کی بات پر توجہ دینے کہ انھیں خوف یا افواہ پھیلانے کے الزام میں سرکار نے حراست میں لے لیا۔ دوسری طرف وائرس کے متاثرین میں اضافہ ہوتا رہا۔ ماہرین کی جانب سے جب متاثرین کے خون اور بلغم کا ٹیسٹ اور تجزیہ کیا گیا تو اس میں کرونا وائرس کی علامتیں پائی گئیں۔ جسے پھر نوویل 19 یا کووڈ 19 کا نام دیا گیا اور پھر ڈاکٹر لی کو رہا کر دیا گیا۔ اس کے بعد ڈاکٹر لی وینلیانگ مریضوں کا علاج کرتے ہوئے خود کرونا کا شکار ہوکر 7 فروری 2020 کو چل بسے۔ ڈاکٹر لی وینلیانگ کو گرفتار کرنے پر پولیس کی جانب سے انکے خاندان سے معافی مانگی گئی اور انکی خدمات کو سراہا گیا۔

کرونا وائرس اب تک تقریباً پوری دنیا میں پھیل چکا ہے۔ عالمی ادارہِ صحت کی جانب سے کووڈ 19 کو عالمی وباء قرار دیا گیا ہے۔ جس کے باعث تقریباً تمام ممالک میں جزوی یا مکمل لاک ڈاون ہیں۔ تعلیمی ادارے بند ہیں، صنعتیں بند ہیں لوگوں کی غیر ضروری آمدورفت، فضائی راستے بند ہیں۔ چند ممالک میں وائرس کے پھیلاو کو روکنے کےلیے کرفیو نافذ کردیا گیا ہے۔ کاروباری سرگرمیاں بند ہونے اور دیگر وجوہات پر دنیا کی معیشت متاثر ہورہی ہے۔ جس کے بعد مزدور طبقہ انتہائی مشکلات سے دوچار ہے۔ عالمی اداروں کی جانب سے کرونا وائرس سے متاثرہ ممالک کےلیے امداد کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔

جب ہم اٹلی، چین، امریکا اور دیگر ممالک جو پاکستان سے بہتر صحت کی سہولیات رکھتے ہیں وہ مشکلات سے دو چار دیکھتے ہیں تو لازم ہے کہ ہم ضرورت سے زیادہ احیتیاط کریں۔ کیونکہ یہاں تو لوگ بنیادی ضرورتوں سے محروم ہیں۔ جس طرح سے دنیا میں کرونا وائرس پھیل رہا ہے اور ہلاکتیں ہورہی ہیں اسکو دیکھتے ہوئے وفاقی وصوبائی حکومتوں کے اقدامات کافی نہیں ہیں. عوام اور مزدور طبقے کو ریلیف کے نام پر زبانی جمع خرچ سے کام لیا جارہا ہے۔ موجودہ نظام حکمران صرف سرمایہ داروں، صنعت کاروں اور جاگیرداروں کو ریلیف دے سکتے ہیں کسی مزدور یا متوسط طبقے کےلیے کچھ نہیں ہے۔ حکمرانوں کی سنجیدگی کا سب کو علم ہے اسلئے مخیر حضرات آگے آئیں اگر آپ کسی کی مدد کرسکتے ہیں تو ضرور کیجیے، اگر نہیں کرسکتے تو کم از کم اپنے گھر والوں کا خیال رکھیے۔

کرونا وائرس کی اب تک کوئی دوا یا پھر ویکسین نہ ہونے کے باعث ضروری ہے کہ زیادہ سے زیادہ احتیاطی تدابیر پر عمل کیا جائے۔ چین کے صوبہ ہوبے کا شہر ووہان جہاں سے کووڈ 19 پھیلا تھا وہاں زیادہ سے زیادہ لوگوں کے ٹیسٹ کرنے، لاک ڈاون اور دیگر احتیاطی تدابیر اپنانے سے فرق پڑا ہے۔ جس کے بعد دیگر ممالک کی جانب سے بھی اپنے اپنے ملکوں میں سختی سے لاک ڈاون پر عمل کروایا جارہا ہے اور لوگوں کے ٹیسٹ کیے جارہے ہیں تاکہ کرونا وائرس کو مزید پھیلنے سے روکا جائے۔

ماہرین کے مطابق پچھلے 60 سالوں میں کرونا وائرس کی 13 اقسام سامنے آچکی ہیں۔ مزید یہ کہ کرونا وائرس انفلوئنزا کی ایک قسم ہے جو انسان کی ناک کے ذریعے پھیپھڑوں میں جاکر اثر کرتا ہے۔ لہذا اپنی آنکھ، ناک، ہاتھ اور منہ کا خیال رکھیں۔ کیونکہ یہ ہی وہ راستے ہیں جہاں سے کوئی بھی جراثیم یا پھر وائرس ہمارے اندر داخل ہوسکتا ہے۔ دوسروں سے فاصلہ اختیار کیجیے بیمار شخص کو احتیاط کرنے کو کہیے اور خود بھی کیجیے۔ مثلا ً ہم کسی کے سامنے چھینکتے ہیں تو ممکن ہے کہ ہماری چھینک سے نکلنے والا رطوبت کسی دوسرے کے چہرے پر گر سکتا ہے جس میں جراثیم یا وائرس ہوتے ہیں۔ جو کسی دوسرے سے ہمیں یا ہم سے کسی دوسرے کو متاثر کرسکتا ہے۔ لہذا اگر چھینک آئے تو اپنی کہنی سے اپنے منہ ڈھانپیں۔ اسی طرح ایسے ہی کہ ہم کسی بھی چیز کو چھو کر اپنی آنکھوں پر لگانے سے گریز کریں۔ مگر اکثریت میں کسی بھی وائرس یا جراثیم کے ہمارے اندر منتقل ہونے کا ذریعہ ہمارے ہاتھ ہوتے ہیں۔ ہاتھ ملانے سے گریز کیجیے۔ ہاتھوں کو درست طریقے سے 20 سے 30 سیکنڈ دھوئیں۔ سرکاری اور غیرسرکاری سطح پر احتیاطی تدابیر بتائی جا رہی ہیں انھیں سنجیدہ لیں اور سختی سے عمل کریں۔ اس تحریر کی توسط سے آپ سے درخواست ہے کہ بہت احتیاط کیجیے اپنا اور اپنے پیاروں کا بہت خیال رکھیں۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube