ہوم   > بلاگز

بند کمرے میں گزارے تین دن

SAMAA | - Posted: Mar 27, 2020 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Mar 27, 2020 | Last Updated: 2 months ago

میں اپنے دفتر میں بیٹھا تھا شام کے چار بج رہے تھے۔ اچانک سے سعید غنی کا ٹویٹ آیا جس میں وہ بتاتے ہیں کہ اُن میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوگئی اور یہ خبر دیتے ہی ایک خوف کی فضاء چھا گئی۔ میں احتیاطاً اپنے دفتر سے نیچے آگیا۔ بیپر مکمل ہوتے ہی والدہ کی کال آگئی اور کہنے لگی سنجے تم اپنا ٹیسٹ کراو اور ابھی کراو۔ ماں کی کال رکھی تو ڈاریکٹر نیوز کی کال آگئی پہلے طبعیت کا پوچھا، علامات پوچھی، پھر مجھے کہا احتیاط کرو اور ابھی جا کر ٹیسٹ کراو، ڈائریکٹر نیوز کی کال کے دوران بیوروچیف، کنٹرولر نیوز، سماء کے ایڈمن سمیت درجنوں کالز آچکی تھیں۔ کیونکہ پولیٹیکل رپورٹر ہونے کی وجہ سے ہمارے سیاستدانوں سے قریبی روابط ہوتے ہیں تو ایک تشویش کی لہر یقیناً دوڑ گئی تھی۔ میں نے سعید غنی سے قریب میں ہی ایز لائیو کیا تھا۔ ملاقات ہوتی رہتی تھی اور کچھ پریس کانفرنس میں ساتھ کھڑے بھی رہے۔ اتنی دیر میں وزیراعلیٰ مراد علی شاہ، ترجمان سندھ حکومت مرتضی وہاب، وزیر بلدیات ناصر شاہ کے نتائج آگئے تھے جو منفی تھے۔

کچھ دل کو حوصلہ ہوا مگر کیونکہ دفتر اور امی کا حکم تھا کہ ٹیسٹ کرانا ہے تو کرانا ہے۔ ہم شام 6 بجے اوجھا کیمپس پہنچے لیکن وہاں منع کر دیا گیا اسکے بعد ہم انڈس گئے وہاں بھی ٹیسٹ نہیں کیے گئے پھر ہم آغا خان آئے وہاں کٹس ختم ہوگئے۔ سب سے رابطہ کرلیا ہر کسی نے گھر میں آئیسولیشن ہونے کا مشورہ دیا مگر میری والدہ اور ڈاریکٹر نیوز کی وقفہ وقفہ سے کالز آرہی تھیں سنجے ٹیسٹ کراؤ کیا ہوا ٹیسٹ کا ابھی تک نہیں ہوا۔ ایک وقت میں ہمت ہار گیا اور سوچا اب نہیں ہوگا ٹیسٹ۔ پھر ناصر شاہ نے کہا کہ آپ ضیاء الدین اسپتال چلے جائیں وہاں ہوجائیں گے ٹیسٹ۔ ہم رات کے 12 بجے ضیاء الدین پہنچے مگر وہاں بھی ٹیسٹ کی سہولیات ختم ہوچکی تھی۔ مجھے وہاں پی ٹی آئی کے رکن جمال صدیقی ملے اور وہ بھی کہے رہے تھے کہ ٹیسٹ نہیں ہو رہے۔ میں رات کے ایک بجے تھکا ہارا گھر پہنچ گیا۔ صبح ہوتے ہی سماء کے ڈرائیور جہانیاں اور سردار نے اٹھایا اور کہا اوجھا کیمپس آجاؤ یہاں لمبی لائن لگی ہوئی ہے۔ آپ یہاں آجاؤ۔ خیر میں صبح 8 بجے دوست رپورٹر مدثر اور عامر مجید کے ساتھ اوجھا کیمپس پہنچا جہاں بےحد رش تھا۔ اگرچہ رینجرز، پولیس اور ڈاکٹرز لوگوں کو فاصلہ رکھنے کا کہہ رہے تھے مگر ہماری عوام نے کسی کی نہیں سنی۔ دل ہی دل میں یہ خوف آنا شروع ہوگیا کہ اللہ خیر یہاں تو جسے نہ ہوگا اسے بھی لگ جائے گا۔

ہماری کچھ خواتین اپنے معصوم بچوں کو ساتھ لے آئی تھیں جو بظاہر انتہائی غلط تھا ہم صبح 8 بجے کے لائن میں لگے تھے۔ کچھ گھنٹے گزرنے کے بعد لائن میں لگے، ایک شخص نے وہیں تھوک دیا جسے غالبا نزلہ زکام تھا۔ سب لوگوں نے اسے برا بھلا کہا کیونکہ ہم کرونا کے ٹیسٹ کرانے کےلئے لائن میں لگے ہوئے تھے وہ صاحب وہیں تھوک رہے تھے جس سے خوف مزید بڑھ گیا۔ ایسے ہوتے ہوئے شام 5 بجے ہمارا نمبر آیا۔ اسکریننگ کے بعد جب ٹیسٹ لیا گیا تو آنکھوں سے آنسو نکل آئے کیونکہ بظاہر آسان نظر آنا والا کرونا ٹیسٹ انتہائی مشکل مرحلہ ہوتا ہے۔ ایک تار نماء چیز آپ کی ناک کے دونوں طرف اندر تک ڈالی جاتی ہے۔ ڈاکٹرز کی ہدایت ہوتی ہے کہ آپ نے کھانسنا اور چھیکنا نہیں ہے۔ ٹیسٹ عمل مکمل ہونے کے بعد آپ نے رکنا بھی نہیں ہے مگر یہ مرحلہ انتہائی مشکل ترین ہوتا ہے۔ مجھ جیسے کمزور لوگ کھانسنے اور چھیکنے لگ گئے جس سے ڈاکٹر کےلیے بھی خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ خیر میں ٹیسٹ ہونے کے بعد اُس کمرے سے خاموشی سے نکل آیا مگر میرے آنکھ سے گرتے آنسو مجھے کہے رہے تھے غلط جگہ پھنس گیا ہے۔ اللہ سے دعا مانگ اب ٹیسٹ کے نتائج منفی ہی آئیں اور اس طرح صبح بغیر ناشتے کے لائن میں لگے ہوئے 9 گھنٹے گزر چکے تھے۔ اوجھا سے واپسی میں ایک بڑی منرل واٹر پی گیا اور ایک سموسہ کھا کر جب اپنے گھر کی طرف پہنچا تو سوچا فارغ اور آئیسولیشن میں بیٹھنا ہی ہے تو کچھ بنا ہی لیتے ہیں۔ چکن کڑاہی بنائی جو شام اور رات خوب کھائی کیونکہ جب ٹیسٹ کرایا تھا تو کہا گیا نتیجہ 8 گھنٹے یعنی تین روز قبل رات تک مل جانا چاہیے تھا مگر 8 گھنٹے بعد کہا گیا کل صبح نتیجہ دیا جائے گا۔ اس دوران مجھے فرحان ملک صاحب کی کئی کالز آچکی تھیں۔ سماء میں ایک بہترین کرائم رپورٹر رہنے والے بلال نصیر کی کئی مہینوں بعد کال آئی تھی جس نے مشکل وقت میں ساتھ دینے کا یقین دلایا اور کہا جس وقت گاڑی کی ضرورت ہو یا ڈاکٹرز کے ہاس جانا ہو کال کرلینا۔ کھانے پینے سمیت آفر کی شکریہ ادائیگی کے ساتھ فون رکھا۔

اگلی صبح سے شام ہوگئی۔ مجھے اپنے ٹیسٹ کا نتیجہ نہیں دیا گیا۔ میں مزید پریشان ہوگیا نا صرف میں پریشان ہوا میرے آفس کے لوگ، میرے گھر والے، محبت کرنے والی، دوست احباب بھی پریشان ہوگئے اور بات خطرے کی میرے لیے نہیں تھی مگر مجھے ڈر تھا کہیں یہ وائرس مجھ سے کسی اور کو تو نہیں منتقل ہوا۔ صرف اس خوف میں پریشانی کا عالم بڑھتا جا رہا تھا۔ اس پوری صورتحال میں سماء کی پوری ٹیم نے مجھے حوصلہ دیا۔ فرحان ملک صاحب سے لیکر خرم باری صاحب فیصل ایوب، ناصر منگی، صبیح بھائی، شجیع حیدر، فیصل شکیل سمیت سب سینئر میری ہمت کم نہیں دے رہے تھے۔ سب کو یقین تھا ٹیسٹ منفی ہی آئے گا میں فلیٹ پر اکیلا بیٹھے کبھی نصرت فتح علی کو سن رہا تھا کبھی نیٹفلیکس پر موویز دیکھ رہا تھا سوائے اس کے میرے پاس کوئی حل ہی نہیں تھا۔ پورا دن گزر گیا نتیجہ نہیں دیا گیا۔ دوست ڈاکٹر رابیل سے رابطہ کیا رزلٹ معلوم کرنے کےلئے، مدد مانگی تو چیک کرکے بتایا کہ عامر مجید کا منفی آگیا ہے لیکن تہمارا رزلٹ ابھی نہیں آیا۔ پینڈنگ ہے پی سی آر لگا ہوا ہے۔ کیونکہ عامر اور میرا ٹیسٹ ساتھ ہی ہوا تھا تو میری پریشانی اور بڑھنے لگی۔ عجیب سے خیالات آنے لگے، کبھی سوچنے لگا کیئر نہیں کی، پھر خیال آیا ہاتھ صحیح سے نہیں دھوے اور کئی خوفناک خیالات آتے رہے۔ صبح ہوتے ہی اسپتال میں ڈاکٹرز سے رابطہ کیا مگر نتیجہ پھر بھی نہیں ملا۔ ڈاکٹر رابیل کے مطابق تیرے ٹیسٹ میں پتہ نہیں کیا ہے ایسا جو نا منفی آ رہا ہے نا ہی مثبت۔ اب جیسے جیسے وقت گزرتا گیا میری پریشانی بڑھتی گئی۔

دوسرا دن بھی گزر گیا مگر آخری جواب یہی ملا آپ کا رزلٹ ابھی نہیں آیا۔ آپ خود کو قرنطینہ کرلیں جب رزلٹ آئے گا تو بتایا جائے گا اور مجھ پر کرونا سوار ہوچکا تھا۔ میرا دل و دماغ کرونا سے لڑنے کےلئے تیاری کر رہا تھا، صبح کے 5 بجے تک سو نہیں پایا اور اگلی صبح 9 بجے آنکھ کھلی۔ عامر مجید کو رپورٹ لینے بھیجا تو وہاں کہا گیا ابھی سنجے کی رپورٹ نہیں آئی۔ عامر کو خود کا نتائج منفی بتایا گیا اور میرے متعلق کہا گیا 70 فیصد کرونا پازیٹو آنے کے چانسز ہیں۔ بہرحال اس مشکل وقت میرے ساتھ لمحہ لمحہ رابطے میں جو شخص رہا وہ فرحان ملک تھا جس نے باس کے ساتھ یہ احساس دلایا کہ وہ سماء فیملی کے بہترین لیڈر ہیں۔ پھر ڈاؤ کے ہمارے پرانے دوست کام آگئے جنہوں نے ہمیں ہمارے ٹیسٹ کا رزلٹ تیسرے روز واٹس اپ کر دیا جو الحمدللّٰہ منفی آیا تھا۔ اس مشکل وقت میں کراچی بیورو کی پوری اسائنمنٹ ڈیسک بشمول خرم گورچانی اور محمد منین سمیت اور چند رپورٹر جس میں سرفہرست عرفان الحق اور سلمان احمد ہیں جو مجھ سے رابطے میں رہے۔ میرے تمام پیاروں، دوستوں، گھر والوں کا بے حد شکریہ جنہوں نے بند کمرے میں تین دنوں کے دوران تنہا محسوس ہونے نہیں دیا۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube