Tuesday, September 22, 2020  | 3 Safar, 1442
ہوم   > بلاگز

نماز جمعہ پر علماء کا فتویٰ اور مریض نمبر اکتیس

SAMAA | - Posted: Mar 26, 2020 | Last Updated: 6 months ago
SAMAA |
Posted: Mar 26, 2020 | Last Updated: 6 months ago

کرونا وائرس کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال میں نماز جمعہ سے متعلق علما کا متفقہ فتویٰ عوام کے سامنے آگیا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ساؤتھ کوریا کی مریض نمبر اکتیس کی داستان بھی عوام کے سامنے رکھ دیں۔ ساؤتھ کوریا میں ایک خاتون جن کو مریض نمبر اکتیس کا نام دیا گیا ہے، کورونا وائرس سے متاثر تھیں۔ انہوں نے نو اور سولہ فروری کے دو مسلسل اتواروں کو چرچ کی عبادتی مجلس میں شرکت کی۔ جس کے بعد جنوبی کوریا میں کورونا مریضوں کی تعداد ایک دم سے ہزاروں تک پہنچ گئی۔ اس تعداد کو تیس سے ہزاروں تک پہنچانے کی ذمہ دار یہ خاتون تھی جس نے چرچ سروس میں شریک ہوکر سیکڑوں لوگوں کو یہ وائرس لگایا جن سے مزید ہزاروں لوگوں تک یہ وائرس منتقل ہوگیا۔

ہمارا خیال ہے کہ اگر وزیراعظم صاحب ملک بھر کے نمائندہ علما کو اپنے ہاں بلا کر مریض نمبر اکتیس کی یہ داستان سنا دیتے تو شاید علما کا متفقہ فیصلہ کچھ اور ہوتا۔ ساتھ میں میڈیکل ماہرین کو بٹھاکر مزید یہ واضح کروا دیتے کہ ابھی تک ایسی کوئی گارنٹی سامنے نہیں آئی ہے کہ فرض نماز پڑھنے والوں کو وائرس منتقل نہیں ہوگا تو شاید ان پر بات مزید واضح ہوجاتی۔

حقیقت یہ ہے کہ کرونا کا مرض بہت آسانی اور تیزی سے دوسروں میں منتقل ہوتا ہے۔ ملک میں لاک ڈاؤن کردیا گیا ہے۔ مگر لوگ مسجدوں میں جاتے رہیں گے۔ جس کے بعد مساجد ممکنہ طور پر اس وائرس کی منتقلی کا بڑا ذریعہ بنیں گی۔ اپنی سیاسی اور مذہبی قیادت کو کوئی بات سمجھانا تو شاید بھینس کے آگے بین بجانے کے مترادف ہے۔ البتہ عوام کی خدمت میں یہ عرض ہے کہ اب مقامی طور پر اگر یہ وائرس پھیلتا ہے تو اللہ، اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور دین اسلام ہر الزام سے بری ہیں۔ اسلام میں انسانی جان کی حرمت ہر چیز سے زیادہ ہے۔ کوئی ذمہ داری عائد ہوگی تو مذہبی اور سیاسی قیادت کی ہوگی۔ خدا کے دین اسلام پر اس کی کوئی ذمہ داری نہیں ہوگی۔

ایویحیٰ مذہبی اسکالر ریحان احمد یوسفی کا قلمی نام ہے۔ انہوں نے مذہبی موضوعات پر متعدد کتابیں لکھنے کے ساتھ ناول بھی تخلیق کیے ہیں۔ ان کا ناول ’جب زندگی شروع ہوگی‘ ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد میں یکساں مقبول ہے۔ ان کی تصانیف پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube