Wednesday, September 23, 2020  | 4 Safar, 1442
ہوم   > بلاگز

کرونا وائرس مردوں پرزیادہ اثراندازہوتاہے

SAMAA | - Posted: Mar 26, 2020 | Last Updated: 6 months ago
SAMAA |
Posted: Mar 26, 2020 | Last Updated: 6 months ago

کرونا وائرس کے حوالے سے اب تک یہ تشہیر تو خاصی ہو چکی ہے کہ یہ عمر اور صحت کے لحاظ سے اثر انداز ہوتا ہے یعنی بڑی عمر کے افراد اور پہلے سے کچھ امراض میں مبتلا اور نسبتاً کم قوت مدافعت رکھنے والے اس وبا سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں لیکن اب ایک اور بات بڑی حد تک واضح ہو چکی ہے کہ یہ وائرس صنف کے اعتبار سے بھی تفریق کرتا ہے اور اس سے خواتین کے مقابلے میں مرد حضرات زیادہ متاثر ہوتے اور جان گنواتے نظر آرہے ہیں۔

گارجین کے مطابق یہ رجحان پہلی مرتبہ چین میں نظر آیا جہاں مردوں میں شرح اموات 2.8 جبکہ خواتین میں 1.7 پائی گئی تاہم یہی رجحان پھر بعد میں فرانس، جرمنی، ایران، اٹلی، جنوبی کوریا اور اسپین میں بھی سامنے آیا۔
اٹلی میں کرونا وائرس کوویڈ 19 کے باعث مرنے والوں میں مرد 71 فیصد ہیں اور اسپین کے جمعرات 26 مارچ کو جاری ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق خواتین کے مقابلے میں مرد دوگنی تعداد میں لقمہ اجل بنے۔
مرد زیادہ غیر محفوظ کیوں ہیں؟
اس حوالے سے یو سی ایل سنٹر آف جینڈر اینڈ گلوبل ہیلتھ کی ڈائریکٹر پروفیسر سارہ ہاکس کہتی ہیں کہ سچ تو یہ ہے کہ فی الحال کوئی نہیں جانتا کہ یہ تفریق کیوں سامنے آ رہی ہے۔
پہلے کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ تمباکو نوشی ایک ممکنہ وجہ ہو سکتی ہے۔ چین میں مردوں کی آدھی آبادی تمباکو نوشی کرتی ہے جبکہ خواتین میں یہ تعداد صرف 2 فیصد ہے۔ اور یہ کہا جاتا تھا کہ پھیپھڑوں اور تنفس کے حوالے سے مردوں میں نسبتاً زیادہ مسائل پیش آتے ہیں۔
تمباکو نوشی کے مفروضے کی حمایت گزشتہ ماہ شائع ہونے والی ایک اسٹڈی میں کی گئی تھی جس نے یہ بتایا تھا کہ تمباکو نوشی کرنے والے 12 فیصد افراد میں بیماری کی معمولی علامات سامنے آئیں جبکہ 26 فیصد ایسے تھے جو انتہائی نگہداشت میں رہے یا جان کی بازی ہار گئے۔
تمباکو نوشی اس لحاظ سے بھی وائرس کے زیر اثر آجانے کا ایک ذریعہ ہو سکتی ہے کہ سگریٹ پینے والے افراد اپنے ہونٹوں کو زیادہ چھوتے ہیں اور اس بات کا امکان ہوتا ہے کہ وائرس سگریٹ کے ذریعے ان کے منہ یا ناک میں داخل ہوجائے۔
تاہم اس حوالے سے ماہرین کی رائے یہ سامنے آ رہی ہے کہ بنیادی حیاتیاتی فیکٹرز اس کی اصل وجہ ہونے کے زیادہ امکانات لگتے ہیں۔ کئی ممالک میں سگریٹ نوشی کرنے والوں میں مردوں کا تناسب زیادہ ہے۔ اٹلی میں 19 فیصد خواتین اور 28 فیصد مرد سگریٹ نوشی کرتے ہیں گو مردوں اور خواتین میں سگریٹ نوشی کے تناسب میں اتنا بڑا فرق کہیں نہیں جتنا چین میں نظر آتا ہے لیکن پھر بھی اب تک کے اعداد و شمار کے مطابق مرد کرونا وائرس سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔
جانس ہاپکنس بلومبرگ اسکول آف پبلک ہیلتھ کی پروفیسر سیبرا کلائن کا کہنا ہے کہ یہ درست مشاہدہ ہے کہ مردوں میں واقع ہونے والی اموات زیادہ ہیں اور یہ بات مختلف النوع ممالک اور ثقافتوں میں نظر آرہی ہے جس نے مجھے یہ سوچنے پر مجبور کردیا ہے کہ اس کی اصل وجہ تمباکو نوشی نہیں بلکہ کوئی ایسی چیز ہے جو عالمگیر نوعیت کی ہے۔
ایک گزشتہ تحقیق کے مطابق فطری طور پر مردوں میں انفیکشنز کی ایک بڑی اقسام کیخلاف قوت مدافعت کم ہوتی ہے اور عین ممکن ہے یہی بات کرونا وائرس کوویڈ 19 کے سلسلے میں بھی درست ہو تاہم اس حوالے سے ابھی کوئی تحقیق نہیں ہوئی ہے۔
سیبرا کلائن کا کہنا ہے کہ ممکن ہے کہ مردوں کا مدافعتی نظام جب ابتداء میں وائرس دیکھتا ہے تو اس کیخلاف فوری طور پر مناسب جوابی کارروائی نہیں کر پاتا۔
اس حوالے سے ہارمونز کا بھی رول ہوسکتا ہے اور امکانات ہیں کہ جو عوامل مدافعتی نظام میں ملوث ہوتے ہیں وہ مردوں کی نسبت خواتین میں زیادہ فعال ہوتے ہوں۔
کرونا کیخلاف مدافعتی نظام کا مردوں اور عورتوں میں مختلف کارکردگی دکھانا اینٹی باڈیز والے سروے میں پتہ چل جانے کی توقع ہے۔ سیبرا کہتی ہیں کہ ایسی تحقیقات چین میں بھی جاری ہیں جن میں مریضوں کے خون کے نمونے حاصل کرکے ان کا مطالعہ کیا جا رہا ہے اور امید ہے کہ اس حوالے سے مزید معلومات جلد ہمارے سامنے آجائیں گی۔
پروفیسر سارہ کا کہنا ہے کہ حیاتیات، طرز زندگی اور برتاو بھی ممکنہ طور پر اس میں اپنا کردار ادا کرتے ہونگے۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ درست اندازہ اس وقت ہی ممکن ہوگا جب تمام جگہوں پر مردوں اور عورتوں کے حوالے سے علیحدہ اعداد و شمار بڑے پیمانے پر دستیاب ہونگے کیوں کہ فی الحال بدقسمتی سے صرف 6 ممالک ایسے ہیں جنہوں نے کیسز اور اموات کا صنف کی بنیاد پر علیحدہ ڈیٹا شائع کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ اور امریکا نے بھی ابھی تک ایسا نہیں کیا ہے حالاں کہ ان کے پاس یہ اعداد و شمار ہونگے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube