Thursday, July 9, 2020  | 17 ZUL-QAADAH, 1441
ہوم   > بلاگز

کرونا وائرس تفتان سے باہر کیسے نکلا

SAMAA | - Posted: Mar 25, 2020 | Last Updated: 4 months ago
SAMAA |
Posted: Mar 25, 2020 | Last Updated: 4 months ago

یقینا ہماری حکومتوں نے چین اور اس کے بعد ایران میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے پیش نظر حفاظتی اقدامات نہ اٹھائیں۔ ایران کے شہر قم میں کورونا وائرس کی وجہ سے پہلا شخص 17 فروری کو جاں بحق ہوا۔ پاکستان سے گئے 5 ہزار زائرین ایران میں موجود تھے۔ وہاں ہر گزرتے دن کے ساتھ صورتحال تشویشناک ہوتی جارہی تھی مگر ہماری حکومت غفلت و بے خبری کی نیند سورہی تھی۔

ایران کے اندر سے بڑی تعداد میں لوگ ہوائی جہازوں کے ذریعے پاکستان آرہے تھے۔ جس کی کسی حکومت اور مجاز اداروں کو پرواہ نہ تھی۔ آخر کار ایران نے زائرین کو زاہدان میں لاکر چھوڑ دیا۔ تب بھی نا اہل غافل اور بد عنوان حکومتوں، محکموں اور اداروں کے کان پر جوں نہ رینگی۔ لوگ غیر قانونی طور غیر روایتی راستوں سے بلوچستان کے اندر داخل ہورہے تھے۔ روک ٹوک والا کوئی نہیں تھا۔

یوں ان زائرین کو تفتان کے اندر داخل ہونے دیا گیا اور لیپا پوتی والے اقدامات شروع ہوئے۔ خیمہ بستیاں آباد کی گئیں۔ جہاں کوئی بنیادی اور طبی سہولت نہ تھی۔ تین تین سو زائرین کو ایک بڑے ہال میں رکھا گیا۔ ایک خیمے میں دس دس افراد رہنے پر مجبور تھے۔ المیہ دیکھے کہ بعض با اثر افراد جس میں وزیراعظم کے معاون زلفی بخاری کا نام سر فہرست آرہا ہے۔ سفارش کرکے اپنے جاننے والے دوست احباب کی فیملیز کو تفتان قرنطینہ سے نکالنے میں کامیاب ہوئے۔ یوں پورا ملک اس وبا کی لپیٹ میں آگیا۔ یقینا اس کیلئے ذمہ دار وفاق اور صوبائی حکومتیں ہیں۔

جام کمال پر سندھ حکومت سے تنقید ہوئی، تو انہوں نے خفگی کا اظہار کیا۔ جواب میں کہا کہ ’’جو تفتان کا نام صحیح نہیں لے سکتے وہ بھی تبصرے کررہے ہیں ‘‘۔ ان کے مطابق 20 دن کسی صوبے نے زائرین کا پوچھا تک نہیں۔ مسئلہ یہی ہے کہ بلوچستان حکومت نے انہیں 20 دن تک رکھا کیوں۔ آئین کی شق 19 کے تحت زائرین کی آمد بارڈر کھولنا اور بند کرنا وفاقی حکومت کے دائرہ اختیار میں تھا۔ جس نے اپنا فرض نہیں نبھایا۔

بلوچستان حکومت کو اختیار حاصل تھا کہ وفاق اور دوسرے صوبوں کو دو ٹوک انداز میں اپنا فیصلہ سناتی۔ اول یہ کہ زائرین کو بلوچستان میں کسی صورت داخل ہونے نہیں دیا جا ئے گا۔ دوئم وفاقی حکومت سے کہتی، ان زائرین کو ایران کے علاقے زاہدان میں قرنطینہ میں رکھا جائے۔ مدت پوری ہونے کے بعد وفاقی حکومت خصوصی طیاروں کے ذریعے انہیں زاہدان سے ان کے علاقوں کو لے جاتی۔

یہ بھی ہوسکتا تھا کہ ہر صوبہ اپنے زائرین کو خصوصی طیارے کے ذریعے زاہدان سے لے جاتا۔ ایران کی حکومت کو اس کے لئے ادائیگی کی جاتی لیکن بلوچستان حکومت نے اپنے اختیارات کا استعمال ہی نہ کیا اور تفتان کے اندر سطحی اقدامات کرکے کریڈٹ لینے کی کوشش کی۔

پی ڈی ایم اے والے دیگیں پکانے میں لگ گئے جیسے شادی بیاہ کی تقاریب ہوں۔ اس محکمہ کے پاس ٹیکنیکل لوگ نہیں ہیں۔ صوبے کے کسی ضلع میں سیٹ اپ نہیں ر کھتی۔ وسائل رکھتی ہے ناہی ان کے پاس مطلوبہ استعداد ہے۔ غالبا چار سے چھ آفیسر اور چند کنٹریکٹ ملازمین ہیں۔

محکمہ صحت کو پتہ نہیں کیا ذمہ داریاں سونپی گئی تھیں۔ کوئی کمیٹی اس تناظر میں نہ بن سکی۔ آغاز ہی میں اعلیٰ کمیٹی سیکریٹری صحت کی نگرانی میں تشکیل دی جانی چاہیے تھی جس میں مواصلات و تعمیرات، پی ڈی ایم اے، ایف سی اور اضلاع کی انتطامیہ شریک کی جاتی جو اس صورتحال کو تکنیکی اور طبی حوالوں سے دیکھتی۔ مگر افسوس افراتفری مچی رہی۔ حکومت کی رٹ دکھائی نہیں دی۔ زائرین قرنطینہ مراکز سے نکل کر سڑکوں پر آئے۔

کوئٹہ قرنطینہ کے اندر اراکین اسمبلی سیاسی ساکھ برقرار رکھنے جاتے رہے۔ میڈیا اور غیرمتعلقہ افراد کو خود صوبائی وزیر داخلہ قرنطینہ اور کورونا کے مریضوں کے لئے مختص سپتالوں کے اندر لے جاتے رہے۔ کبھی وزیراعلیٰ کی بریفنگ میں ہجوم رہا۔ کبھی چیف سیکرٹری تو کبھی دوسروں کی پریس کانفرنسز میں۔ مجلس وحدت مسلیمین کے بعض رہنماء قرنطینہ میں زائرین کے ساتھ احتجاج پر بیٹھ گئے۔ حکومت ان رہنماؤں کو گرفتار نہ کرسکی۔ نہ ہی انہیں قرنطینہ میں رکھا گیا۔ وہ لوگ اب بھی اپنی آبادیوں میں آزادانہ گھوم رہے ہیں اور اعلیٰ سرکاری حکام سے بھی مل رہے ہیں۔

تبلیغی جماعت کے افراد نے کوئٹہ سمیت صوبے بھر کی مساجد میں ڈیرے ڈال رکھے ہیں جن سے مساجد خالی نہیں کرائی جاسکی ہیں۔ گویا ہر سو افراتفری و بد نظمی دیکھی گئی۔ زائرین کو بالخصوص تفتان کے اندر عذاب میں مبتلا کئے رکھا۔ محض تھرمل گنز سے جسم کا درجہ حرارت چیک کیا جاتا رہا۔ طبی عملہ غیر تربیت یافتہ تھا۔ جنہوں نے اس سے پہلے کبھی تھر مل گن استعمال نہیں کیا تھا ۔ ان کے پاس ٹیسٹ کے کٹس نہ تھے۔

وفاقی حکومت نے دو ہفتوں بعد کوئٹہ میں کورونا کی تشخیص کرنے والی پہلی لیبارٹری کے لیے سازو سامان بھیجا اور پھر تفتان میں موبائل لیبارٹری قائم کی۔ صرف چند درجن ٹیسٹنگ کٹس فراہم کی گئیں  غرض اب باقی صوبوں کے زائرین اپنے صوبوں کو منتقل ہوچکے ہیں۔ اس وقت تفتان کے اندر موجود 400 زائرین کا تعلق بلوچستان سے ہے۔ کوئٹہ کے شیخ زید اسپتال میں ایک مریض فوت ہوچکا ہے جو کرونا کا مشتبہ مریض تھا۔ تاہم حکام نے موت کی وجہ دل کا دورہ بتایا۔

پہلی مصدقہ موت 22 مارچ کو فاطمہ جناح اسپتال میں 65 سالہ شخص کی ہوئی جو ایران سے واپس آیا تھا۔ کوئٹہ میں بھی مشتبہ مریضوں کو رکھا گیا ہے۔ خطیر رقم گویا ضائع کی گئی حالانکہ اس رقم سے ان زائرین کو ہوائی جہازوں کے ذریعے اپنے صوبوں کو بھیجا جاسکتا تھا۔ معلوم نہیں کتنے متاثرین کوئٹہ یا صوبے کے دیگر علاقوں کی آبادیوں میں کھل مل چکے ہیں۔ اس کا بہتر اندازہ آنے والے دنوں میں ہوجائے گا۔

سندھ حکومت کے متحرک ہونے کے بعد وفاق اور باقی صوبے بھی اب اقدامات کررہے ہیں۔ سندھ نے مکمل لاک ڈاؤون کردیا ہے۔ بلوچستان حکومت نے بھی صوبے میں مکمل لاک ڈاؤن کردیا ہے۔ شہروں کے اندر بس سروس، بین الضلاعی اور بین الصوبائی پبلک ٹرانسپورٹ بند کردی گئی ہے۔ بڑے شاپنگ مالز، تجارتی مراکز کو بھی تالے لگادیئے گئے ہیں۔ صرف اشیائے ضروریہ فروخت کرنے والی دکانیں کھلی ہیں۔ صوبے میں طبی ایمرجنسی نافذ کرکے ہنگامی بنیادوں پر آلات کی خریداری شروع کردی گئی ہے۔

اضلاع کی سطح پر تمام ڈپٹی کمشنرز کو وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے تمام ضروری اقدامات اٹھانے کا اختیار دے دیا گیا ہے۔ ہوائی اڈوں اور سرحدوں پر بروقت اقدامات نہ ہونے کی وجہ سے اب کروڑوں لوگوں کو گھروں میں محصور کرنے کے سوا کوئی چارہ نظر نہیں آرہا۔ ایسے میں غریب طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہورہا ہے۔ اس صورتحال میں سیاسی جماعتوں کا کردار محدود نظر آرہا ہے۔ ملک کے اندر جماعت اسلامی کے علاوہ کوئی سیاسی جماعت رفاہ عامہ کے شعبے نہیں رکھتی۔ جماعت اسلامی کے سوا سیاسی جماعتیں اس مشکل وقت میں کسی کام کی نہیں۔ تمام جماعتیں اخباری بیانات کے ذریعے اس وائرس سے عوام کو بچانے میں لگی ہیں۔ محض زندہ آباد اور مردہ آباد تک اور تنقید تک محدود ہیں۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube