Thursday, July 9, 2020  | 17 ZUL-QAADAH, 1441
ہوم   > بلاگز

کچی آبادیاں اور کرونا وائرس کے ممکنہ اثرات وخطرات

SAMAA | - Posted: Mar 25, 2020 | Last Updated: 4 months ago
SAMAA |
Posted: Mar 25, 2020 | Last Updated: 4 months ago

فوٹو : آن لائن

کرونا تو ہمیں بعد میں مارے گا ہمیں تو ہماری حکومت نے کرونا سے پہلے ہی جیتے جی مار ڈالا ہے۔ قائد اعظم کالونی کراچی کے رہائشی ’’ع‘‘ کہتے ہیں کہ ایک جانب حکومت احتیاطی تدابیر کے اعلانات کر رہی ہے جبکہ دوسری جانب قائد اعظم کالونی (جو کہ ضلع وسطی میں کراچی سرکلر ریلوے سے ملحقہ 100 سے زائد خاندانوں پر مشتمل آبادی تھی (جسے حکومتی اداروں نے مئی 2019 میں مسمار کردیا تھا) کے مکین آج بھی اپنے مکانوں کے ملبے پر زندگی کی گاڑی گھسیٹ رہے ہیں۔ ہمارے پاس سر چھپانے کو جگہ نہیں جو حکومت چھت فراہم نہیں کرسکتی وہ کرونا کا کیا کرے گی؟ انہوں نے مزید بتایا کہ پانی کی فراہمی تو دور کی بات ہے یہاں خواتین، بچوں کےلیے باتھ روم کی سہولت تک نہیں۔ ہمارے لیے تو کرونا مئی 2019 میں آگیا تھا جب ہمارے گھروں کو مسمار کرکے ہمیں بے گھر کر دیا گیا تھا اور سپریم کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود سندھ حکومت نے ہماری آبادکاری کےلیے اب تک کوئی ٹھوس آقدامات نہیں کیے اور صرف ہماری آبادی نہیں بلکہ حسین ہزارہ گوٹھ، جمعہ گوٹھ، غریب آباد، موسیٰ کالونی، واحد کالونی، مجاہد کالونی تک 1000 سے زائد خاندان مسماری و بےدخلی کا شکار ہوئے ہیں۔ یہ تمام وہ آبادیاں ہیں جہاں پہلے ہی ناقص انفراسٹرکچر کے مسائل تھے اور مئی 2019 میں ہونے والی مسماری کے بعد صورتحال مزید بدتر ہوچکی ہے۔

کرونا وائرس ایک وبائی مرض کے طور پر پوری دنیا کا احاطہ کر چکا ہے۔ ایک ایسا وبائی مرض جس کا کوئی علاج فی الوقت دستیاب نہیں ماسوائے احتیاط کے، جس میں یہ بیانیہ سامنے آرہا ہے کہ ہم اپنے ہاتھ اکثر اور کم ازکم 30 سیکنڈ تک دھوئیں اور بیمار ہونے کی صورت میں خود کو قرنطینہ میں رکھیں لیکن اگر ہم یہ سوچیں کہ پاکستان میں کتنے لوگ ایسے ہیں جو ان میں سے ایک بھی کام نہیں کرسکتے، کیونکہ ان کے پاس ہاتھوں کو دھونے کےلئے صاف پانی کی وافر مقدار موجود نہیں اور نہ ہی ان کے پاس جگہ کے لحاظ سے اتنی سہولت موجود ہے کہ وہ خود کو دوسرے لوگوں سے الگ تھلگ رکھ سکیں۔

بنیادی سوال یہ ہے کہ ایسے خطرناک حالات میں ان افراد کا مستقبل کیا ہوگا؟ کیا حکومت وقت اس بارے میں کچھ سوچ رہی ہے؟

ابھی تک، کرونا وائرس کی اطلاع پاکستان میں صرف اعلیٰ اور درمیانی آمدنی والے بستیوں میں ملی ہے جہاں صحت کا اوسط نظام موجود ہے اور حالات عام طور پر صفائی ستھرائی والے ہیں۔ لیکن اگر یہ بیماری کم آمدنی والے بستیوں میں پھیل جائے تو کیا ہوگا؟

پاکستان دنیا کا چھٹا سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے۔ حالیہ آبادی مردم شماری 2017 کے نتائج کے مطابق، پاکستان کی مجموعی آبادی 207.8 ملین ہے۔ اسکی شہری آبادی، ملک کی کل آبادی کا تقریبا 36.4 فی صد ہے جو تقریبا 7کروڑ 56 لاکھ (75.6 ملین) افراد پر مشتمل ہے۔ ملینیئم ڈیویلپمنٹ اہداف سے متعلق اقوام متحدہ کی سائٹ کے مطابق، پاکستان کو کچی آبادیوں کے شدید مسائل کا سامنا ہے اور 2015 میں پاکستان کی شہری آبادی کا تقریبا 45.5 فی صد کچی آبادیوں میں رہائش پذیر تھا۔ ایک کچی آبادی کے افراد کو اسی چھت کے نیچے رہنے والے افراد کے ایک گروپ کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔

مندرجہ بالا اعدادو شمار کے مطابق، پاکستان میں 3 کروڑ 44 لاکھ (34.4ملین) افراد کچی آبادیوں یا غیر رسمی بستیوں میں رہتے ہیں جہاں بنیادی ضروریات کےلئے پانی کی فراہمی بہت کم ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بہتر پانی تک رسائی، بہتر صفائی تک رسائی، رہائش کا مناسب مقام اور رہائش کا استحکام کا فقدان ہے۔ ایسے افراد کے لیے کہ جب بنیادی ضروریات کیلئے پانی کی فراہمی نہ ہو ایسی صورت میں 30 سیکنڈ تک ہاتھ دھونے کا کوئی تصور نہیں ملتا۔ ان کچی آبادیوں میں جگہ محدود ہے اور کمرے اکثر مشترک ہوتے ہیں۔ ایک کمرے میں ایک خاندان کے 8 سے 10 افراد رہنے پر مجبور ہیں۔ کچھ جگہوں پر یہ صورتحال ہے کہ 15 سے 20 افراد ایک بیت الخلا شیئر کرنے پر مجبور ہیں۔ یوں گنجان آبادی والے علاقے کرونا وائرس جیسی بیماری کے پھیلاؤ کےلئے خاص طور پر ذرخیز بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ کیونکہ یہاں وائرس ایک شخص سے آسانی سے دوسرے شخص تک جا سکتا ہے۔ وفاقی و صوبائی حکومتیں ان کچی آبادیوں یا غیر رسمی بستیوں میں رہنے والے 3 کروڑ 44 لاکھ (34.4ملین) افراد کے خطرے سے دوچار ہونے کے بارے میں کوئی گفتگو نہیں کر رہیں جو ایک انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے۔ حکومتی ادارے بخوبی واقف ہیں کہ بہت کم آمدنی والی بستیوں میں بنیادی سہولیات اور خدمات کا فقدان ہے۔ غیر محفوظ پانی، ناکافی صفائی ستھرائی، کھلی نکاسی آب اور گندے پانی کے ڈھیر یہ تمام عوامل ہیں جو مختلف اقسام کے وائرس کو اپنی طرف راغب کرتے ہیں۔ متعدی بیماریوں کے زیادہ پھیلاؤ کی بنیادی وجوہات یہی ہیں۔

سندھ کچی آبادی اتھارٹی کے اعدادوشمار کے مطابق صوبہ سندھ میں کچی آبادیوں اور غیر رسمی بستیوں کی کل تعداد 1414 ہے جس میں سے شہر کراچی میں 575 جبکہ حیدرآباد میں 408 کچی آبادیاں ہیں۔ عالمی بینک کی 2008 میں رہائش سے متعلق کی گئی تحقیق کے مطابق صوبہ پنجاب میں کچی آبادیوں اور غیر رسمی بستیوں کی کل تعداد902 تھی۔ جبکہ صوبہ خیبر پختونخواہ میں 65 اور صوبہ بلوچستان میں یہ تعداد 55 تھی جبکہ کیپیٹل ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کے مطابق اسلام آباد میں کچی آبادیوں اور غیر رسمی بستیوں کی کل تعداد 52 ہے۔ یوں مجموعی طور پر پورے پاکستان میں کچی آبادیوں اور غیر رسمی بستیوں کی کل تعداد 2488 سے زیادہ ہے۔

دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان کی کچی آبادیوں اور غیر رسمی بستیوں میں ناقص انفراسٹرکچر کا مسئلہ ہے اور ان کچی آبادیوں اور غیر رسمی بستیوں میں رہنے والے شہریوں کےلئے بہتر منصوبہ بندی اور ترقی کی بحالی کی ضرورت ہے تاکہ انفراسٹرکچر اورعام صحت سے متعلق معاملات کو بہتر بنایا جاسکے۔ لیکن فی الوقت، ہمیں اس معاملے پر نہایت سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے کہ تیز رفتاری سے پھیلتا ہوا ’’کرونا وائرس‘‘ کس طرح گنجان آباد اور غیر محفوظ ماحول میں رہنے والے لوگوں پر اثر انداز ہوسکتا ہے؟ اور اس کے بدترین اثرات کو کس طرح کم کیا جاسکتا ہے؟۔ یقینا یہ ایک دشوار اور مشکل مرحلہ ہوگا کیونکہ حکومت نے ماضی میں کبھی کسی مرحلے پر کچی آبادیوں اور غیر رسمی بستیوں میں صحت اور معاشرتی ضروریات سے متعلق نہ کوئی تحقیق کی نہ کسی طرح کے اعدادوشمار جمع کیے۔

اس وقت سب سے اہم سوال یہ ہے کہ موجودہ حالات میں ’’کورونا وائرس‘‘ لاحق خطرات سے نمٹنے کے لئے وفاقی و صوبائی  حکومتیں گنجان آباد علاقوں کے ساتھ ساتھ کچی آبادیوں اور غیر رسمی بستیوں کے رہائشیوں کےلیے کس طرح کے حفاظتی انتظام کر رہی ہیں؟ جبکہ دوسری جانب کچی آبادیوں اور غیر رسمی بستیوں کے رہائشی کس حد تک اس معاملے کی سنگینی سے آگاہ ہوئے ہیں اور موجودہ خطرات سے نمٹنے کےلئے کیا کوئی انتظامات کر رہے ہیں یا نہیں؟ اور کرونا وائرس سے متعلق ان کا ردعمل کیا ہے؟

اس وقت جو حالات ہیں ان میں حکومت وقت (بشمول وفاقی، صوبائی و شہری) کوشش بھی کرے تو ان کچی آبادیوں اور غیر رسمی بستیوں کے اعداد و شمار جمع نہیں کرسکتی اور اعدادو شمار کے بغیر کسی بھی طرح کی پالیسی بنانا ناممکن ہے۔ کیونکہ  اگر حکومتی ادارے ان کچی آبادیوں اور غیر رسمی بستیوں میں رہنے والے لوگوں کی تعداد تک نہیں جانتے تو وہ کس طرح ان افراد کی صحت سے متعلق خطرات کو سمجھ سکتے ہیں۔ چاہیئے کہ ان خطرات سے نمٹنے کی تیاری اور کرونا وائرس جیسے وبائی مرض کے ردعمل کے لحاظ سے کوئی منصوبہ بنانا۔

اس حقیقت کو تسلیم کیے بغیر چارہ نہیں کہ یہ کچی آبادیوں اور ان کے رہائشی شہر کے نظام (رسمی و غیر رسمی معیشت سے لے کر معاشرتی معاملات تک) کا حصہ ہیں اور شہر کی ترقی اور اسے چلانے میں اپنا حصہ ڈالتے ہیں۔ مگر اس کے باوجود انہیں تضحیک آمیز انداز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ حکومتی اداروں سے لے کر دیگر شہری تک انہیں غیر قانونی و قبضہ گیر گردانتے ہیں۔ یہ وہ طبقہ ہے جس پر روزی روٹی کے معاملات بری طرح مسلط ہیں۔ ایسے حالات میں ان کم آمدنی والے طبقے کے افراد کی نقل و حرکت میں کمی لانا یا قابو پانے کی کوششوں کو عملی جامہ پہنانا مشکل ہوتا ہے۔ کچی آبادیوں کے رہائشی مستقل حرکت میں رہتے ہیں، وہ روزانہ کی مزدوری کرتے ہیں، پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرتے ہیں۔ گھروں کے درمیان، تو کبھی آبادیوں کے اندر، ایک آبادی سے دوسری آبادی اپنے کام کے مقامات پر جاتے ہیں۔ اس طرح کی نقل و حرکت پر قابو پانے کی کوشش کرنا انتہائی مشکل ہوگا۔

کیونکہ ماضی میں ہم نے کچی آبادیوں اور غیر رسمی بستیوں کے رہائشیوں کے حالات اور صحت و صفائی کے نظام کے  متعلق کوئی جامع تحقیق نہیں کی تو اس وقت کوئی بھی اندازہ لگانا ممکن نہیں کہ اگر کرونا وائرس نے کسی کچی آبادی اور غیر رسمی بستی کے رہائشیوں کو لپیٹ میں لیا تو کیا حالات ہونگے؟ کیونکہ وہ لوگ صحت و صفائی کے حوالے سے آگاہی نہیں رکھتے بلکہ ساتھ ہی معاشی طور پر اتنے کمزور ہیں کہ علاج معالجے کے اخراجات برداشت کرنے سے معذور ہیں۔ ان کچی آبادیوں‘ اور غیر رسمی بستیوں کے رہائشیوں کے لئے صحت و صفائی کی سہولیات محدود ہونے کی وجہ سے متعدد افراد دائمی علاج کے بغیر بہت سارے مسائل کے ساتھ زندگی کزارنے پر مجبور ہیں۔ ان غیر رسمی بستیوں میں رہائش پذیر انتہائی کمزور لوگ ( مثلا۔ بوڑھے اور وہ لوگ جو پہلے ہی کسی طرح کے مرض کے شکار ہیں) کرونا وائرس سے بہت زیادہ متاثر ہوسکتے ہیں، کیونکہ یہ لوگ کسی حکومتی مدد کے بغیر نگہداشت تک رسائی حاصل کرنے سے قاصر ہیں۔

کچی آبادیوں اور غیر رسمی بستیوں میں کرونا کا پھیلاؤ ’’بدترین صورت حال‘‘ پیش کرے گا اور بلا شبہ اس پر قابو پانا ایک بہت بڑا چیلنج ہوگا۔ مثال کے طور پر، بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے کےلئے موجودہ سفارشات میں اکثر ہاتھ دھونے شامل ہیں لیکن یہ انتہائی مشکل ہے کیونکہ ان آبادیوں میں صاف پانی کی رسائی محدود ہے۔ ایک اور سفارش، تنہائی کی ہے۔ لیکن ان بستیوں میں جہاں آبادی کی کثافت بہت زیادہ ہے وہاں عملی طور پر ’’تنہائی‘‘ تقریبا ناممکن ہے۔ خود کو الگ کرنا اور کم از کم 14 دن گھر پر رہنا تمام شہری غریبوں کےلئے ناممکن ہے جو مزدوری سے روزمرہ کی اجرت کماتے ہیں۔

اس وقت شہری نظام میں تیزی سے خلل پڑنے کا بھی خطرہ ہے۔ مثال کے طور پر؛ صحت کی سہولیات اور اشیائے خورونوش کی فراہمی کے نظام کو خطرہ ہے۔ ایک جانب کرونا وائرس کے ٹیسٹ سے لے کر دیگر طبی سہولیات تو دوسری جانب اشیائے خورونوش کی قلت اور قیمت میں اضافے کی وجہ سے شہری فسادات کا خدشہ ہے۔ جیسا کہ پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کرونا وائرس کے پہلے مریض کے سامنے آنے کے بعد یکایک ماسک، دستانے اور سینیٹائیزرز مارکیٹ سے غائب ہوگئے۔ ان کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں۔ اگر ہم کچی آبادی اور غیر رسمی بستی کے رہائشیوں کے حوالے سے بات کریں تو یہ چیزیں عام حالات میں بھی ان کی دسترس سے باہر تھیں۔ عمومی طور پر ان کی زندگی کا محور روزگار اور خوراک کا حصول ہوتا ہے انکی دوسری ترجیح بنیادی سہولیات کا حصول ہوتا ہے جیسے کے پانی کی فراہمی جس کےلیے یہ عام شہری کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ادائیگی کرتے ہیں (ان کو ملنے والا پانی کسی طور بھی صاف اور محفوظ نہیں ہوتا) اسی طرح صحت کی بنیادی سہولیات تک انکی رسائی نہ ہونے کے برابر ہے۔ کیونکہ یہ نہ تو مہنگا علاج کروا سکتے ہیں نہ ہی مہنگی ادویات خرید سکتے ہیں تو عام طور پر یہ سرکاری اسپتالوں کا رخ کرتے ہیں جہاں علاج کی سہولیات ناکافی ہوتی ہیں۔ یہ آبادیاں رہائش کی کمی کے سبب وجود میں آئیں ہیں اور لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت انھیں بنایا تو یہاں نکاسی آب کا کوئی بہترین نظام نہیں ملتا بلکہ کھلے نالے ہیں جو گھروں کے دروازوں کے ساتھ ہیں اور اس کے ساتھ ہی رہائشیوں کی گزرگاہ ہے۔

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کی پاکستان میں شہری حکومت کا نظام کتنا مستحکم ہے؟ کیونکہ  نچلی سطح سے حالات کو  قابو کرنا آسان ہوتا ہے اور معاشرتی شمولیت، بھروسہ مند پیغامات کی فراہمی، نگرانی رکھنا، یا نقل و حرکت کو محدود کرنے کی کوشش کرنا صرف اور صرف نچلی سطح یعنی وارڈ کونسل کی حدود میں زیادہ کامیاب ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا لوگ شہری حکومت پر اعتماد کرتے ہیں؟ کرونا وائرس سے بچاؤ کی منصوبہ بندی کرنے والوں کو ان تمام پیچیدگیوں کو دھیان میں رکھنے کی ضرورت ہے۔  خاص طور پر کمیونٹی کےلیے کام کرنے والے گروہوں کو ساتھ ملانے کی ضرورت ہے۔

ماہرین شہری منصوبہ بندی وقتا فوقتا  اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ کم آمدنی والے بستیوں کو زیادہ موثر انفراسٹرکچر کی ضرورت ہے۔ مگر افسوسناک پہلو یہ ہے کہ شہر کے حکام ان کچی آبادیوں کو ’’غیر قانونی‘‘ کے نام سے موسوم کر کے اپنی جان چھڑا لیتے ہیں یوں  ان بستیوں میں بنیادی خدمات جیسے پائپ لائن کے ذریعے پانی، صفائی ستھرائی یا بجلی کےلئے سرمایہ کاری نہیں ملتی ہے۔ حتیٰ کہ انہیں صحت کی بنیادی سہولیات یا باقاعدہ کچرا و  فضلہ جمع کرنے کی سہولت نہیں ملتی ہے اور پھر بھی ان بستیوں میں اکثر شہر کی آدھی آبادی رہتی ہے کیونکہ یہ   بہت سارے افراد کےلئے واحد سستی و قابل گنجا ئش رہائش ہے۔

پوری دنیا کے ساتھ ساتھ کرونا وائرس پاکستان کےلئے ایک بڑا خطرہ ہے مگر یہ بات واضح ہے کہ کرونا وائرس کے، شہری غریبوں (کچی آبادیوں اور غیر رسمی بستیوں) پر پڑنے والے اثرات ملک کی باقی آبادی سے کہیں زیادہ ہوں گے۔ اس لیے اس تناظر میں علیحدہ سے پالیسی بنانے کی ضرورت ہے- یہ وقت کی ضرورت ہے کہ ان کچی آبادیوں‘ اور غیر رسمی بستیوں نا جائز قرار دیئے جانے، بے دخل کیے جانے کی بجائے ان کو تسلیم کرتے ہوئے کرونا وائرس منصوبہ بندی کی جائے۔ کیونکہ اگر منصوبہ بندی کرتے ہوئے ان تمام حقائق کو سامنے نہ رکھا گیا تو ہم کسی طور مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کر سکیں گے۔

مصنف اربن پلانر، کراچی اربن لیب کے سینئر ریسرچ ایسوسی ایٹ اور این ای ڈی یونیورسٹی میں وزٹنگ لیکچرر ہیں۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
CORONAVIRUS, COVID-19, CHINA, PAKISTAN, IRAN, EUROPE, USA, CANADA, UK, HEALTH, WHO, AMERICA, AFRICA, ASIA, VACCINATION, ITALY, FRANCE, SPAIN, US, coronaviruspakistan, PTI, IMRAN KHAN, NSC, #CoronaVirusUpdate, #CoronaOutbreak, #coronavirus, KARACHI
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube