ہوم   > بلاگز

معذور نہیں، منفرد بچے

SAMAA | - Posted: Mar 21, 2020 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Mar 21, 2020 | Last Updated: 2 months ago

فوٹو: اے ایف پی

تحریر: بینش صدیقہ

معذور بچے خدا کا عذاب ہیں۔ ماں باپ کے گناہوں کی سزا ہیں۔ فیاض الحسن چوہان صاحب کے اس بیان پر جس کو دیکھو تنقید کر رہا ہے۔ میں تو عالی مرتبت وزیر صاحب کو اس بیان پر سلیوٹ پیش کرنا چاہتی ہوں۔ سمجھ نہیں آرہا کہ وزیر صاحب کے بیان پر اتنا واویلا مچانے کی کیا ضرورت ہے۔ انہوں نے کون سی انوکھی بات کی۔ ان کا تعلق اس جماعت سے ہے جس کو اکثریت کی بنا پر حکومت ملی۔ اس معاملے میں بھی انہوں نے اس اکثریتی مائنڈ سیٹ کی نمائندگی کی ہے جو بیماری، معذوری، پریشانیوں کو اللہ کی پکڑ قرار دیتی ہے۔ میں گارنٹی کے ساتھ کہتی ہوں کہ یہ بات ہر اس ’’ماں‘‘ کو سننی پڑتی ہے جو کسی ایسی اولاد کو پالنے کا کارنامہ انجام دے رہی ہے جو کسی نہ کسی بیماری یا معذوری کا شکار ہے۔

دیکھا کیسا مزا آیا ۔ ۔ بڑی بڑی باتیں کرتی تھیں نا ۔ ۔ کیسا اللہ نے سبق سکھایا ۔ ۔ تمھارے گناہوں کی سزا ہے ۔۔۔۔ بھگتو اب۔!

یہ الفاظ نہیں ہیں بلکہ پگھلا ہوا سیسہ ہے لیکن یہ سیسہ ہر اس ماں کے کان میں انڈیلا جاتا ہے جو کسی ’’منفرد‘‘ بچے کی ماں ہو۔ پھر مجھے کیسے استثنیٰ مل سکتا تھا۔ میری بیٹی کو بھی گردن توڑ بخار نے اتنا کمزور نہیں کیا جتنا ڈاکٹرز کی مجرمانہ غفلت نے اس کو ادھ موا کرکے چھوڑا۔ پےدرپے ہونے والے 6 آپریشنز کے باعث ننھنی کلی کی زندگی داؤ پر لگی تھی، ساری عمر کی معذوری کے خطرات سر پر منڈلا رہے تھے۔ ایسے میں ارد گرد چوہان صاحب جیسی صاحب بصیرت شخصیات کے وعظ ۔۔۔ سبحان اللہ ۔۔۔

منسٹر صاحب اپنی زبان سے لاکھوں افراد کی دل آزاری کرنے کے علاوہ  آپ کا بیان آپ کے کمزور ایمان کی علامت ہے۔ خدارا بیماریوں، معذوریوں کو خدا کا قہر اور عذاب سمجھنا چھوڑ دیں۔ آپ نے اپنے رب کے بارے میں ایسا گمان کیوں کیا؟ دوسروں کو خدا کا خوف دلانے کے بجائے یہ کام سب سے پہلے آپ خود کرلیجیے کہ چہرے پر داڑھی سجانے اور نقابوں سے چھپانے سے کوئی ولی اللہ نہیں بن جاتا۔ خدا کا خوف کیجیے کہ آپ اس رب کے بارے میں ایسا گمان کر رہے ہیں جو اپنے بندوں کو ستر ماؤں سے بڑھ کر چاہتا ہے۔ وہ معصوم بچوں کو ایسے گناہوں کی سزا دے گا جو انہوں نے کیا ہی نہ ہو؟

اگر آپ کی بات درست ہے تو حضرت ایوب علیہ السلام 30 برس بیمار رہے۔ وہ تو خدا کے برگذیدہ بندے تھے، بیماری بھی ایسی کہ دیکھنے والے کراہت سے منہ پھیر لیں۔ جسم پر کیڑے پلتے رہے، جسم گل سڑ گیا۔ وہ تو پہلے ہی اپنے رب سے لو لگائے ہوئے تھے پھر وہ کیوں بیمار ہوئے۔ تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ سب سے ذیادہ مشکلیں تکلیفیں انبیاء اور پیغمبروں نے جھیلی ہیں کہ سیدھا راستہ دکھانے والوں کے راستے کٹھن رہے ہیں۔

معذور افراد کے حقوق کے حوالے سے ڈاکٹر خالد جمیل اختر کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ اس حوالے سے ان کا کہنا ہے کہ ہم 30 سال سے یہ کوشش کر رہے ہیں کہ بیماریوں اور معذوریوں کے حوالے سے لوگوں کی سوچ بدلیں لیکن حکومت کے ایک انتہائی اہم نمائندے کے منہ سے اس طرح کی بات سننا حیران کن ہے۔ ان صاحب کے ساتھ صوبائی وزیر صحت یاسمین راشد بھی موجود تھیں۔ یاسمین ہماری آگہی مہم کی بڑی فعال کارکن رہ چکی ہیں۔ میں حیران ہوں کہ انہوں نے بھی انہیں روکنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ میں سمجھتا ہوں کہ چوہان صاحب ذہنی طور پر جذباتی اور ڈسٹرب انسان ہیں کیونکہ وہ اکثر متنازعہ بیانات دیتے رہتے ہیں۔ حکومت کو ان کےخلاف ایکشن لینا چاہیے کیونکہ وہ کسی نجی محفل میں نہیں بلکہ ایک پریس کانفرنس میں حکومت کے نمائندے کے طور پر بیٹھے تھے۔ ان کی سوچ یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ وہ معاشرے کے کمزور اور خصوصی توجہ کے مستحق افراد کو کس حقیر نظر سے دیکھتے ہیں۔

ڈاکٹر خالد اختر کا یہ بھی کہنا ہے کہ تین دہائیوں میں انہوں نے نوٹ کیا ہے کہ وہ بچے جو کسی بھی معذوری کا شکار ہوں، ننانوے فی صد انہیں صرف مائیں سنبھالتی ہیں۔ باپ یا گھر کے دیگر افراد اپنا فرض پورا نہیں کرتے۔ باپ اگر خیال کرتا بھی ہے تو عموما صرف اتنا کہ پیسے دے دیے اور اس کی ذمہ داری ختم۔ مجھے بڑا ترس آتا ہے ان بچیوں پر جن کی پہلی اولاد ہی اسپیشل چائلڈ ہو۔ سب سے پہلے تو انہیں پورا خاندان طعنے دیتا ہے۔ جیسے یہ اس کے کسی گناہ کی سزا ہے۔ اس لڑکی کی زندگی جسیے ختم ہو کر رہ جاتی ہے۔ اس بچے کی ذمہ داری اس کے سر ایسی پڑتی ہے کہ وہ کسی محفل میں شریک نہیں ہوسکتی۔ ڈاکٹر صاحب کے بقول وہ حلفیہ یہ بات کہتے ہیں کہ جن چند کیسز میں باپ نے اپنے خصوصی بچے پر ماں کی طرح توجہ کی تو اس کیس میں بچے کی پیش رفت حیران کن رہی ہے کیونکہ یہ آپ کے ارد گرد کے لوگ ہی ہیں جو آپ میں مثبت سوچ بیدار کرتے ہیں۔ آپ کو احساس نہیں ہونے دیتے کہ آپ میں کچھ کمی ہے۔ جب آپ سوچ لیں کہ معذوری کوئی مسئلہ نہیں ہے تو وہ واقعی مسئلہ نہیں رہتی۔

میرا ماننا ہے کہ چوہان صاحب جیسی بصیرت افروز گفتگو کرنے والے آپ کے ارد گرد نہ ہوں تو حالات سے لڑنے کا حوصلہ بیدار نہ ہو۔ منفرد بچوں کے پیارے ماں باپ حوصلہ نہ ہا ریے گا۔ ’’چوہان‘‘ نما پتھر، روکاوٹیں پہاڑ بن کر راستہ تو روکتی ہی ہیں۔ آپ کو منہ کے بل گرتا ہوا دیکھ کر خوشی سے تالیاں پیٹنا چاہتی ہیں لیکن ڈٹ کر کھڑے رہنا ہی آپ کے بچے کی صحت اور زندگی کا ضامن ہے۔ منفرد بچوں کو پالنا آپ کا وہ کارنامہ ہے جس پر نہ تو کوئی آپ کی تعریف کرے گا نہ ستائش سے نوازے گا لیکن اللہ کی عدالت میں اس کا صلہ سب سے بڑھ کر ہے۔ صحت مند خوبصورت بچہ ماں کا لاڈلا تو ہوتا ہی ہے بلکہ باپ کی آنکھوں کا تارا بھی ہے اور ننھنیال ددھیال میں ہاتھوں ہاتھ لیا جاتا ہے لیکن کمزور بیمار بچہ شاید ماں کے علاوہ کسی کا نہیں ہوتا۔ کیونکہ بات سچ ہے کہ فتح پر ہر ایک نازاں ہوتا ہے لیکن جو شکست پر بھی حوصلہ نہ ہارے اصل فاتح وہی تو ہے۔

WhatsApp FaceBook

2 Comments

  1. Avatar
      Khalid Hassan  March 21, 2020 2:08 pm/ Reply

    Good Blog. Thanks to author to awaers us.. we should try to acknowledge all thses mothers. Who’s are facing this issue

  2. Avatar
      Bena  March 21, 2020 6:31 pm/ Reply

    add some good pic on title.special childrens have charismatic personalities which attract people more thn wheelchairs. Its a dead pic.

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube