ہوم   > بلاگز

الٹی بستی، اندھیر نگری، چوپٹ راج

SAMAA | - Posted: Mar 17, 2020 | Last Updated: 2 months ago
Posted: Mar 17, 2020 | Last Updated: 2 months ago

سیہون شریف میں لعل شہباز قلندر کی درگاہ کے دامن سے جڑی تاریخی ’’الٹی بستی‘‘ ایک  پراسرار حیثیت و منفرد مقام رکھتی ہے، الٹی بستی سے جڑی بہت سی لوک داستانیں منسوب ہیں جس میں سب سے زیادہ مشہور لعل شہباز قلندر کے مرید خاص سکندر بودلہ بہار کی داستان ہے جس پر ایک عام فہم یقین نہیں کر پاتا۔ اسی کہانی کی حقیقت جاننے کیلئے وائس آف سندھ کی ٹیم نے مطالعاتی دورے کیلئے سیہون میں قائم الٹی بستی کو منتخب کیا۔

ہم کراچی سے ساڑھے تین گھنٹہ کا سفر کرکے جب سیہون پہنچے اور ہماری گاڑی لعل شہباز قلندر کے مزار سے آگے نکل کر روڈ پر آئی تو دور سے دیکھنے پر مٹی کے ٹیلوں سے بنے چھوٹے چھوٹے پہاڑ دکھائی دیے مگر ان ٹیلوں کے پاس جاکر اندازہ ہوا کہ یہی ’’الٹی بستی‘‘ ہے۔ ہم گاڑی سے اتر کر تھوڑا پیدل چل کر جب اس قلعے کے دامن میں پہنچے تو اندازہ ہوا کہ یہاں زندگی بستی تھی، بچی کچھی دیواروں کی بناوٹ اور مٹی کے پہاڑ میں دھنسی ہوئی چوڑائی سے اندازہ ہوتا ہے کہ کسی زمانے میں یہ مضبوط قلعہ رہا ہوگا۔

کہا جاتا ہے کہ دنیا میں جتنی بھی کہاوتیں اور ضرب المثل وجود میں آئی ہیں ان کے پیچھے کوئی نہ کوئی کہانی ضرور ہوتی ہے بالکل اسی طرح ایک مشہور جملہ جو ہم اکثر و بیشتر خبروں میں حکومت وقت کے حوالے سے سنتے ہیں وہ ’’اندھیر نگری، چوپٹ راج‘‘ اس جملے کی حقیقت بھی سیہون سے جڑی ہوئی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ موجودہ شہر سنڈیمن، سنڈیمانا، شوآستان، سیوستان، سیستان کے مختلف ادوار طے کرتا ہوا سیہون تک پہنچا ہے، سیہون سے جڑی ایک ایسی ہی لوک داستان جس کو معروف صوفی بزرگ لعل شہباز قلندر کی نسبت سے ہے۔ صوفیائے اکرام کی کتب کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ لعل شہاز کی آمد سے پہلے سیوستان میں ایک ہندو راجہ جیسر جی کی حکمرانی تھی مگر وہ راجہ چوپٹ کے نام سے مشہور تھا وہ ایک انتہائی ظالم اور عیاش راجہ تھا اور اس سے اس کی رعایا جس میں ہندو مسلمان دونوں ہی شامل تھے انتہائی پریشان تھے۔ اس وقت یہ مقولہ مشہور ہوا تھا ’’اندھیر نگری‘‘ چوپٹ راج اور لوگ راجہ کی حکومت کے بارے میں کہا کرتے تھے، راجہ کے ظلم و ستم سے تنگ آکر وہ کسی ایسے مسیحا کی تلاش میں تھے کہ جو کہ انہیں بادشاہ کے مظالم سے نجات دلائے بادشاہ نے اپنی حفاظت کےلئے ایک مضبوط قلعہ تعمیر کر رکھا تھا اسی لئے باوجود تنگ ہو نے کے کوئی بھی راجہ کو نقصان پہنچانے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔

اسی قلعے کے سامنے ایک فقیر سکندر بودلہ جو ہر وقت یہ نعرہ لگاتا رہتا تھا کہ بہت جلد ظالم بادشاہ سے نجات ملے گی  میرا مرشد آرہا ہے، مر شد آرہا ہے، یہ سن کر چوپٹ راجہ نے سپاہیوں کو حکم دیا کہ وہ فوری طور پر بودلہ کو گرفتار کر کے قید خانے میں ڈال دیں جنہوں نے راجہ کے حکم کی تعمیل کے طور پر بودلہ کو فوری طور پر قید خانے میں ڈال دیا مگر قید تنہائی کے خوف کے بغیر بودلا نے قید خانے میں بھی مرشد آرہا ہے اس بات کی خبر بھی بادشاہ تک پہنچائی گئی تو اس نے اپنے نجومیوں کو جمع کیا اور ان سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ایسا لگ رہا ہے یہ قلعہ اور آپ کی حکومت اب قائم رہنے والی نہیں ہے جس پر راجہ چوپٹ نے انتہائی ظالمانہ فیصلے کے طور پر حکم دے کر بودلہ کو زبح کروا دیا۔ جیسے ہی یہ خبر لعل شہباز کو پہنچی تو انہوں نے جلالی انداز میں اپنا کشکول الٹا زمین پر پٹخا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے ہی وہ مضبوط قلعہ پلٹ گیا۔

جس کے بعد یہ روایت مشہور ہے کہ بادشاہ کو اس غرور، تکبر اور لوگوں پر کیے جانے والے ظلم و بربریت کو دیکھتے ہوئے حضرت لعل شہباز قلندر نے دعا کی کہ اس ظالم بادشاہ کا غرور و تکبر نیچا ہو جائے۔ ان کی اس دعا کے ساتھ ہی بادشاہ کا مضبوط اور عالیشان قلعہ الٹا ہوگیا اور اس میں موجود لوگ آنے والی اس اچانک قیامت کے سبب ہلاک ہوگئے جس کے بعد سے ناصرف یہ قلعہ بلکہ پوری بستی جو کہ سیہون شریف میں حضرت لعل شہباز قلندر کے مزار مبارک سے کچھ ہی فاصلے پر ہے، صدیوں بیت جانے کے باوجود آج بھی اس معدوم ہوتے قلعے کے آثار موجود ہیں اور حضرت لعل شہباز قلندر کے مزار پر آنے والے زائرین نا صرف مزار مبارک پر حاضری دیتے ہیں بلکہ عبرت ناک انجام کو پہنچنے والی اس بستی جس کے اب صرف خدوخال موجود ہیں کو دیکھنے کے ساتھ ساتھ عبرت حاصل کرتے ہیں کیونکہ یہ مزار محکمہ اوقاف کے زیر اثر ہے۔ لہٰذا الٹی بستی یا الٹے قلعے کے بارے میں جاننے کےلیے ان کے ذمہ داران سے رابطہ کیا تو انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ ماضی میں حضرت لعل شہباز قلندر جوکہ ایک صاحب کرامت بزرگ تھے نے لوگوں کو مظالم سے نجات دلانے کےلئے راجہ کے قلعے کو الٹاکر نے کےلئے بددعا دی تھی اور جس کے بعد سیہون سے ناصرف مظالم کا خاتمہ ہوا بلکہ ظالم و جابر بادشاہ کے پوری بستی اور قلعہ پلٹ گیا جوکہ آج بھی لوگوں کےلئے دیدہ عبرت بنا ہوا ہے اور جسے دیکھنے کےلئے روزانہ سینکڑوں کی تعداد میں لوگ آتے ہیں۔

سیہون کے قلعے کی قدامت کے حوالے سے کئی محقق اس رائے کے حامی ہیں کہ جب سکندر اعظم سندھ میں داخل ہوا تو یہ قلعہ موجود تھا، ایک اندازے کے مطابق یہ قلعہ رائے سہاسی دوئم کے زمانے میں تعمیر کیا گیا تھا، اس کے بعد اس قلعے کو 713 میں محمد بن قاسم نے فتح کیا تھا جب راجا ڈاھر کو شکست ہوئی تھی۔ تاریخ کے اوراق آج بھی سیہون کی تاریخ کے شواہد دیتے ہوئے نظر آتے ہیں مگر محققین اس بابت کہنے سے قاصر ہیں کہ کب اور کس طرح اس قلعے کا زوال شروع ہوا۔ صرف سینہ بہ سینہ کہانیاں مشہور ہیں۔ آج اس قلعے کی خستہ حال بچی کچھی دیواریں نشان عبرت بنی ہوئی ہیں۔

WhatsApp FaceBook

One Comment

  1. Avatar
      Areeb  March 20, 2020 5:19 pm/ Reply

    Very Informative.

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube