ہوم   >  بلاگز

نعمت اللہ خان محسن کراچی کیوں تھے؟

SAMAA | - Posted: Feb 25, 2020 | Last Updated: 1 month ago
SAMAA |
Posted: Feb 25, 2020 | Last Updated: 1 month ago

فوٹو: راہ ٹی وی

تحریر: اسداحمد

نعمت اللہ خان کون تھے؟ یہ جاننے سے پہلے یہ سمجھنا زیادہ ضروری ہے کہ سن 2001 کا کراچی کیسا تھا؟؟ اتنا خراب کہ کراچی کا اصل مینڈیٹ رکھنے والی جماعت ایم کیو ایم نے نئے بلدیاتی نظام کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے انتخابات کا بائیکاٹ کر دیا تھا۔ ٹوٹی سڑکیں، ابلتے گٹر، کچرے کے ڈھیر، بوسیدہ بسیں، اجڑے پارکس اور سڑکوں پر ٹریفک کا اژدہام نتیجتاً گھنٹوں ٹریفک جام ۔ ۔ ۔ یہ جو آج آپ کو لیاری ایکسپریس وے، ناردن بائی پاس، بے شمار انڈر پاسز اور درجنوں فلائی اوورز نظر آتے ہیں کسی کا بھی وجود نہیں تھا۔

نعمت اللہ خان صاحب نے حلف اٹھایا تو کراچی کا بجٹ صرف 6 ارب روپے تھا۔ جی ہاں! صرف 6ارب روپے تھا مگر انتھک محنت کےلیے مشہور نعمت صاحب نے حوصلہ، تدبر اور ہمت سے کام لیتے ہوئے نئے آئیڈیاز پر کام شروع کیا۔ صوبائی حکومت ان کے مخالفین کے پاس تھی مگر انہوں نے وفاقی حکومت اور جنرل مشرف کا اعتماد حاصل کیا۔

ابتدائی سال شہر کی صفائی، پارکس کی بحالی اور یونین کونسلز کی سطح پر شہریوں کے مسائل کے حل پر فوکس کیا۔ پھر کراچی میں پہلی بار 300 کے قریب بڑی اور آرام دہ گرین سی این جی بسیں متعارف کرائیں۔ کراچی میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج نارتھ ناظم آباد کی تعمیر شروع اور مکمل ہوئی۔ کے ایم ڈی سی کی فیڈرل بی ایریا میں واقع پرانی عمارت خالی ہوگئی تو یہاں شہر کے لیے امراض قلب کا دوسرا اسپتال ’’کراچی انسٹیٹیوٹ آف ہارٹ ڈیزیز‘‘ بناکر شہریوں کو تحفہ دیا۔

وفاقی حکومت نے لیاری ایکسپریس وے اور ناردرن بائی پاس جسے بڑے منصوبے دیے تو ان کی تکمیل میں لگ گئے۔ پانی کا بحران موجود تھا۔ عظیم منصوبہ کے تھری کا دوبارہ ٹینڈر کرایا جس کے بعد 6ارب 80 کروڑ روپے کا منصوبہ اب کم ہوکر 6ارب پر آگیا تو بقول گورنر سندھ عشرت العباد جنرل پرویز مشرف بھی دیانت داری پر حیران رہ گئے۔ کراچی کے بڑے حصے کو پانی ملنا شروع ہوا۔ وقت گزرنے کے ساتھ وسائل میں اضافہ ہوا تو شہر کے ہر ٹاؤن میں ماڈل پارکس بنانا شروع کیے۔

انٹر سائنس کے طلبا و طالبات کےلیے ایک بہت بڑا کام یہ کیا کہ ڈی جی سائنس، نیشنل کالج اور سرسید گرلز سمیت 6 کالجز میں انتہائی کم فیس پر جامعہ کراچی سے منظور شدہ بی سی ایس کمپیوٹر سائنس پروگرام متعارف کرا دیا۔ یوں وہ طالب علم جو ہزاروں اور لاکھوں روپے نہیں خرچ کرسکتے تھے اب کم فیس مگر میرٹ پر بہترین ڈگری حاصل کرنے لگے۔ 32 کالجز کی تعمیر مکمل ہوئی۔

ایف ٹی سی فلائی اوور، شاہراہ فیصل فلائی اوور مکمل ہوئے مگر ان تمام کاموں کے باوجود نعمت اللہ خان کو اندازہ تھا کہ کراچی کا انفراسٹرکچر تباہ حال ہے اور اسے بہتر بنانا ہوگا۔ صدر جنرل پرویز مشرف سے 2003 میں کراچی کےلیے 20ارب روپے کے پیکج کا مطالبہ کیا۔ جواب میں صدر نے کہا کہ آپ لینڈ سے ریونیو حاصل کریں۔ نعمت اللہ خان نے جواب دیا میں شہریوں پر کوئی نیا ٹیکس نہیں لگاؤں گا اور پھر صدر پاکستان کے سامنے نیا آئیڈیا پیش کیا۔

نعمت اللہ خان نے کہا کراچی میں کے پی ٹی، پورٹ قاسم، پی آئی اے، اسٹیل ملز، ای پی بی جیسے وفاقی ادارے ہیں۔ یہ کراچی کے وسائل استعمال کرتے ہیں مگر شہر پر کچھ خرچ نہیں کرتے۔ میں منصوبوں کی نشاندہی کرتا ہوں آپ فنڈز دلوائیں۔ جنرل مشرف اس اچھوتے خیال پر حیران رہ گئے۔ کراچی کا درد وہ بھی رکھتے تھے اس لیے فوراً جواب دیا کہ میں تمام اسٹیک ہولڈرز کا اجلاس بلوا تا ہوں آپ پریزینٹیشن تیار کریں۔ اگست 2003 میں یہ تاریخی اجلاس ہوا۔ سٹی ناظم نعمت اللہ خان نے صدر سمیت تمام شرکاء کو بریفنگ دی۔ کراچی کےلیے 29ارب روپے کا پیکج منظور ہوا اور 26 اگست 2003 کو ڈان اخبار نے اجلاس کی تفصیل شائع کی۔

تعمیر کراچی پروگرام کے تحت کچھ منصوبے نعمت صاحب کے دور میں مکمل ہوئے مگر بڑے منصوبے اور میگا پراجیکٹس شروع آپ کے دور میں ہوئے مگر افتتاح بعد کے سالوں میں ہوا۔ اس لیے صدر پرویز مشرف نے 17 دسمبر کو کراچی میں ہونے والی ایک تقریب میں ترقیاتی کاموں کا کریڈٹ نعمت اللہ خان کو دیا۔

نعمت اللہ خان کی مدتِ نظامت جون 2005 میں ختم ہوگئی مگر کراچی کا بجٹ 6ارب روپے سے 43 ارب روپے پہنچ گیا۔ انڈر پاسز، سگنل فری کوریڈورز اور فلائی اوورز مکمل ہوئے تو شہر کا انفراسٹرکچر چند سال میں بہت بہتر ہوگیا۔ نئے ناظم مصطفیٰ کمال نے نعمت صاحب کی طرح 6 ارب روپے نہیں بلکہ 43 ارب روپے کے بجٹ سے کام کا آغاز کیا۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube