ہوم   >  بلاگز

بلوچستان، کورونا وائرس کی دستک

SAMAA | - Posted: Feb 25, 2020 | Last Updated: 1 month ago
SAMAA |
Posted: Feb 25, 2020 | Last Updated: 1 month ago

ووہان  شہر سے پھیلنے والی ناویل کورونا نامی وباء نے چین کو آزمائش اور مشکل میں ڈال رکھا ہے، چین میں انتہائی مہلک مرض سے اب تک ڈھائی ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ تقریباً 80 ہزار متاثرہ افراد اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔ یہ وائرس چین کے تمام تر حفاظتی اقدامات کے باوجود دنیا کے مختلف ممالک پہنچ گیا، حتیٰ کہ فرانس اور اٹلی کے اندر بھی اموات کی اطلاعات ہیں، ہمسایہ ملک ایران کے شہر قم میں بھی لوگ خطرناک بیماری میں مبتلا ہوچکے ہیں، اب تک 12 سے زائد لوگ وائرس کی وجہ سے جان سے گئے ہیں۔ افغانستان کے ایران سے ملحقہ علاقے ہرات میں بھی کئی افراد کورونا سے متاثر ہوگئے، جس کی تصدیق افغان حکومت نے بھی کردی۔

ایران کی سرکار بھی اپنے ہاں اس وباء کی موجودگی اور اموات تسلیم کرچکی ہے گو کورونا کی وباء نے بلوچستان کے دروازے پر دستک دیدی ہے، جس سے یقیناً پورا پاکستان اضطراب کی کیفیت میں آچکا ہے، بلوچستان حکومت نے اپنی استعداد اور وسائل کے تحت بھاگ دوڑ شروع کردی، بلوچستان کی ایران کے ساتھ 900 کلو میٹر سرحد ہے، چاغی، واشک، پنجگور، کیچ اور گوادر کے اضلاع ایران سے ملحقہ سرحد پرواقع ہیں، گوادر کا سمندر بھی ایران سے ملتا ہے، ان پانچوں اضلاع میں سرحد پر آبادیاں موجود ہیں، ان علاقوں کے لوگوں کی سرحد پار رشتہ داریاں ہیں، یہ لوگ قومیت اور زبان کے لحاظ سے بھی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور تجارتی و معاشی رابطے رکھتے ہیں۔

پاکستان اور ایران سے روزانہ کی بنیاد پر آمد و رفت ہوتی ہے، غیر قانونی راستوں سے ایرانی سے تیل اور دیگر مصنوعات پاکستان میں اسمگل کی جاتی ہیں، اسی طرح ہر روز درجنوں افراد غیر قانونی طور پر سرحد عبور کرتے ہیں، یہاں سے منشیات اور انسانی اسمگلنگ بھی بڑے پیمانے پر ہورہی ہے۔

یہی صورتحال افغانستان کے ساتھ بھی ہے، پاکستان کی افغانستان کے ساتھ 2600 کلو میٹر طویل سرحد میں 1100 کلو میٹر بلوچستان کا ہے، چاغی، نوشکی، کوئٹہ، پشین، قلعہ عبداللہ، قلعہ سیف اللہ اور ژوب کے اضلاع افغان سرحد سے ملحق ہیں، یہاں سے بھی روزانہ ہزاروں افراد سرحد کے آر پار آتے جاتے ہیں، مریضوں کی بڑی تعداد افغانستان سے روزانہ کی بنیاد پر کوئٹہ، کراچی علاج کیلئے آتے ہیں، تجارت کیلئے بھی لوگوں کی آمد و رفت ہوتی ہے۔

پاکستان کے مختلف علاقوں سے ہر مہینے 5، 6 ہزار زائرین ایران آتے جاتے ہیں، 23 فروری کو کوئٹہ سیکریٹریٹ میں چیف سیکریٹری بلوچستان کی صدارت میں ہنگامی اجلاس منعقد ہوا، جس میں سیکریٹری داخلہ و قبائلی امور، سیکریٹری صحت، آئی جی پولیس، ڈائریکٹر ایف آئی اے، کلکٹر کسٹم، ڈی جی پی ڈی ایم اے، کمانڈر سدرن کمانڈ، ایف سی نارتھ اور ایف سی ساﺅتھ کے نمائندوں نے شرکت کی، جس میں صورتحال کا مختلف پہلوﺅں سے جائزہ لیا گیا اور کورونا سے بچاﺅ کی تدابیر اور اقدامات پر تبادلہ خیال ہوا۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان سے کسی کو ایران جانے کی اجازت ہوگی اورنہ ہی کسی کو آنے دیا جائے گا، بلوچستان حکومت نے وفاقی حکومت کے ساتھ  عالمی اداروں سے  بھی رابطہ  کیا، جن سے اس مہلک مرض کے پھیلاؤ کو روکنے اور اقدامات  کیلئے مدد مانگی گئی ہے۔ ہونا بھی چاہئے کہ اوپر سے نیچے تک پوری حکومت و سرکاری مشینری اس باب میں یکسو و متحرک ہو۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ ایران سرحد پر 5 کراسنگ پوائنٹس پر ہر قسم کی آمد و رفت بند کردی گئی ہے، ان پوائنٹس پر 45 ڈاکٹرز، 72 تھرمل گنز، 10 ہزار ماسک، 100 ٹینٹ فراہم کئے گئے ہیں، ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت ایران میں پاکستان سے گئے 5 ہزار زائرین موجود ہیں، ان کی اسکریننگ کیلئے ایرانی حکومت سے بھی درخواست کی گئی ہے کہ کسی کو بغیر اسکریننگ پاکستان آنے نہ دیا جائے جبکہ ایران سے آنیوالے افراد کو پاکستان میں بھی 14 دنوں تک الگ تھلگ (قرنطینہ میں) رکھا جائے گا، اس کے بعد کلیئر قرار دیئے جانے والے زائرین کو بسوں میں براہ راست ان کے علاقوں تک پہنچایا جائے گا۔

انتظامیہ نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ ایران سے ایک ماہ کے دوران پاکستان آنیوالے 7664 تاجروں اور زائرین کی بھی اسکریننگ کی جائے گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ 100 بستروں پر مشتمل خیمہ اسپتال تفتان میں قائم کردیا گیا، 10 ہزار ماسک بھی پہنچادیئے گئے ہیں، 2 موبائل آفس یونٹس، 4 موبائل کنٹینرز اور ڈاکٹروں کی ٹیم سمیت 10 ایمبولنسز تفتان بجھوادی گئی ہیں۔

ایران کے ساتھ قانونی آمد و رفت کے راستے تو بند کردیئے گئے ہیں مگر غیر قانونی راستوں سے آنے اور جانیوالوں کو روکنا سرِدست ضروری ہے۔ لازم ہے کہ اس وباء کے پھیلاﺅ کے تدارک کے ضمن میں بحیثیت مجموعی پوری قوم کو متحد ہونا پڑے گا، تساہل، غفلت، کام چوری اور بدعنوانی کا خیال تک نہیں لانا چاہئے، اگر خدانخواستہ یہ وائرس ملک میں پھیل گیا تو کسی کی بھی جان اور خاندان محفوظ نہیں ہوگا۔

اخبارات میں چھپنے والی خبر کے مطابق پی آئی اے نے چین کیلئے اپنی پروازیں 15 مارچ تک کیلئے معطل کردی ہیں، چین کیلئے کسی روٹ پر پی آئی اے کی کوئی پرواز نہیں چلائی جائے گی۔ کوئٹہ میں تعینات ایرانی قونصل جنرل محمد رفیعی نے سوشل میڈیا پر جاری ویڈیو پیغام میں اس تناظر میں وضاحت کی ہے کہ حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر غلط خبریں پھیلائی گئیں کہ ایرانی قونصل خانے نے سیاحوں، تاجروں، زائرین اور سرکاری اہلکاروں سمیت پاکستانی شہریوں کے ایران میں داخلے پر پابندی عائد کردی۔

قونصل جنرل کے مطابق ایران نے 21 فروری کو ہونیوالے ایرانی پارلیمنٹ کے انتخابات کی وجہ سے پاکستان کے ساتھ اپنی مشترکہ سرحد بند کی تھی، تفتان میر جاوہ سرحد کھلی ہے اور پاکستانی بغیر کسی پریشانی کے ایران داخل ہورہے ہیں، کورونا وائرس پھیلنے سے پاکستانی شہریوں کے ایران میں داخلے پر پابندی نہیں۔

اسی طرح ایران کی منصوبہ بندی اور بجٹ آرگنائزیشن کے سربراہ محمد باقر نو بخت نے بھی کہا ہے کہ وزارت صحت اور طبی عملہ کورونا وائرس سے نمٹنے کیلئے قبل از وقت اقدامات کیلئے تیار ہیں، ایران میں 18 افراد کورونا سے متاثر ہوئے ہیں۔

عراق کے ساتھ ملحقہ ایران کے شہر قم میں کورونا وائرس کے پھیلاﺅ کے بعد بلوچستان حکومت نے پاکستانی شہریوں کے ایران کے سفر پر پابندی لگادی تھی جس سے سینکڑوں افراد پاک ایران سرحد پر پھنس گئے جبکہ ایران سے ملحقہ بلوچستان کے کم از کم 5 سرحدی اضلاع میں خوردنی اور روز مرہ کی اشیاء کیلئے ایران پر انحصار کیا جاتا ہے، سرحد کی بندش کی وجہ سے ان علاقوں کے مکینوں کیلئے بھی مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
CORONAVIRUS, IRAN, COVID-19, PAKISTAN, BALOCHISTAN, QUARANTINE, ISOLATION, HEALTH, WORLD, CHINA, WHO
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube