ہوم   >  بلاگز

کراچی:برطانوی دورکا فراہمی آب کا نظام تباہی سےدوچار

SAMAA | - Posted: Feb 21, 2020 | Last Updated: 1 month ago
SAMAA |
Posted: Feb 21, 2020 | Last Updated: 1 month ago

کراچی میں برطانوی دور کا پہلا فراہمی آب کا نظام اور منفرد تعمیرات کا حامل تاریخی ورثہ سندھ حکومت کی عدم دلچسپی کے باعث تباہی سے دوچار ہے۔

برطانوی راج میں کراچی میں پانی کی قلت کا مسئلہ سنگین ہوگیا تھا جسے حل کرنے کے لیے انگریز میونسپل کمشنرز سر جوڑ کربیٹھ گئے تھے اور انہوں نے اکتوبر1859 میں شہریوں کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے لئے جدید تقاضوں کے مطابق ایک اسکیم تیار کی تھی ۔ 150پہلے میونسپل کمیشن کی جانب سے تیار کی جانے والے اس اسکیم کو ڈملوٹی اسکیم کا نام دیا گیا تھا ۔

ڈملوٹی اسکیم کو اس وقت کے برطانوی انجینئر مسٹر جی جے میری سن نے تیارکیا تھا ۔ منصوبے کے تحت ملیر ندی سے پانی کراچی شہر تک لانا تھا ۔ عروس البلاد کراچی تاریخ کے آئینہ میں کے مصنف عثمان دموہی لکھتے ہیں کہ انجینئر جے میری سن نے یہ اعلان کرکے کراچی کے شہریوں کو حیرت زدہ کردیا تھا کہ وہ ملیر ندی کی تہہ سے 1200 گیلن یومیہ پانی حاصل کرکے کراچی کی اس وقت کی 80 ہزار آبادی کے ہر فرد کے لئے 22گیلن یومیہ پانی مہیا کرسکتے ہیں ۔

اسکیم کے تحت ملیر ندی سے لوہے کے پائپوں کے ذریعے شہر کو پانی فراہم کرنا تھا ، منصوبہ کا تخمینہ 18 لاکھ 59 ہزارروپے لگایا گیا تھا بعد میں اس کی لاگت کو کم کرکے 15 لاکھ 25 ہزارکردیا گیا مگر برطانیہ میں لوہے کے پائپوں کی قیمت میں اضافہ ہوجانے کی وجہ سے اسکیم کو ترک کرنا پڑا لیکن کچھ عرصہ بعد کراچی میونسپلٹی کے چیف انجینئر جیمز اسٹریچن نے اس اسکیم کی بعض خامیوں کو دورکرکے اخراجات میں3 لاکھ روپے کم کرتے ہوئے منصوبے کو قابل عمل بنادیا تھا ۔ منصوبے میں تبدیلی کے بعد ہر شہری کے لیے 22گیلن یومیہ پانی کے بجائے صرف 8گیلن پانی مہیا کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔

کراچی کے ممتاز پارسی سہراب کیٹرک اپنی یادادشت میں لکھتے ہیں کہ 1882 میں شہر سے ساڑھے16 میل دور دریائے ملیر کے کنارے ڈملوٹی کے مقام پر 2 کنویں کھودے گئے تھے جن کے اندر اینٹوں کی چنائی کی گئی تھی اور 20 لاکھ گیلن کے ذخیرے سے 80 ہزار کی آبادی کو 25گیلن فی کس کے حساب سے پانی فراہم کیا جاتا تھا ، وہ لکھتے ہیں کہ ابتدا میں ڈملوٹی کے کنویں سے پانی گائے کی کھال کے بنی مشکوں میں شہر لایا جاتا تھا اور بہشتی اس پانی کو گھرگھر پہنچاتے تھے ۔ بعدازاں ڈملوٹی کے پانی کو ذخیرہ کرنے کے لئے شہر کے نزدیک وسیع پختہ ٹینک تعمیر کیے گئے ۔

اٹھارہ فروری 1880کو گورنر بمبئی مسٹر رچرڈ ٹیمپل نے ذخیرہ آب کے لئے 20لاکھ گیلن پانی جمع کرنے کے لئے ٹینک کا سنگ بنیاد رکھا ۔ ٹینک کی تعمیر 21اپریل1883 میں مکمل ہوئی، منصوبے کا باقاعدہ افتتاح کمشنر سندھ مسٹر ارسکن اور جوڈیشنل کمشنرمسٹر برڈوڈ نے کیا ۔پہلے فیز میں انگریزوں نے ڈملوٹی کے مقام پرملیرندی کے قریب کھدائی کرکے80فٹ گہرے 10 چھوٹے اور بڑے سائز کے کنویں کھودے اوران کنوؤں سے پانی کی سپلائی کے لیے شہر تک 19 میل لمبی لوہے کے پائپ کی لائن بچھائی گئی۔

ڈملوٹی اسکیم کے تحت ذخیرہ آب کے لئے 634 ہائڈرنٹس تعمیرکئے گئے ۔ فراہمی آب کے اس نظام کو ڈملوٹی کنڈیوٹ سسٹم کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ لیکن بعد میں آبادی میں تیزی سے اضافے اور خصوصا یکم ستمبر1939 میں جرمنی اور پولینڈ کے درمیان شروع ہونے والی دوسری جنگ عظیم کے بعد کراچی ایک اہم فوجی چھاؤنی میں تبدیل ہوگیا تھا۔ ہربارگرمیوں کے موسم میں یہ کنویں خشک ہوجاتے اور کراچی میں قلت آب کا مسئلہ پیدا ہوجاتا، اس نظام کے تحت 60 سال تک کراچی شہر کو مناسب مقدار میں پانی فراہم ہوتا رہا ۔انگریزوں کے تعمیر کردہ اس نظام کے ذریعے کراچی کو 1970تک 20 ایم جی ڈی پانی فراہم ہوتا رہا اور بتدریج اس میں کمی آتی گئی اور کئی سالوں سے ان کنوؤں سے پانی کی فراہمی صفر ہے۔

سہراب کیٹرک لکھتے ہیں کہ کراچی کے اس وقت کے میئر جمشید نسروانجی اس صورت حال پر اس قدر فکر مند ہوئے کہ رات بھر میں ان کے بال سفید ہوگئے ۔ ایسی صورت میں کراچی میونسپلٹی کی خوش قسمتی تھی کہ ایک مراٹھا انجنیئر مسٹربھیڈے کی خدمات حاصل ہوئیں ،انہوں نے کارپوریشن پر یہ حقیقت واضح کردی کہ بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر شہر کو پانی کی فراہمی کے لئے2 کنویں پر انحصار خطرناک ہوگا۔انہوں نے سندھ کا دورہ کرکے ایک اسکیم تیار کی کہ کوٹری کے قریب دریائے سندھ سے پانی حاصل کیا جاسکتا ہے ۔

اس اسکیم پر بمبئی کی حکومت سے 20 برس تک مذاکرات چلتے رہے، نوجوان لارڈ لائیڈ نے بمبئی کونسل کے سامنے اس مسئلہ کو رکھا اور اسکیم کو منظور کرایا ۔ اوراس طرح ہالا یار اسکیم کو متعارف کرایا گیا۔ اس اسکیم کے تحت دریائے سندھ کے پانی کو کلری جھیل تک پہنچانے کے لیے نہر نکالی گئی تھی اور کلری جھیل سے پختہ نالے کے ذریعے گھاروسے کراچی کو پانی کی فراہمی شروع کی گئی۔

ڈملوٹی سے لائنرایریا تک فراہمی آب کا قدیم پختہ کنڈیوٹ سسٹم ابھی تک برقرار ہے اور کینجھر جھیل سے 15 ایم جی ڈی پانی اس قدیم کنڈیوٹ سسٹم میں ڈال کر ملیرکینٹ، صفورا چورنگی، کراچی یونیورسٹی، گلشن بلاک 6، نیپا چورنگی، عزیز بھٹی پارک، مشرق سینٹر، الہلال سوسائٹی، پرانی سبزی منڈی ، کشمیر روڈ اور لائنزایریا تک پہنچایا جاتا ہے ۔

چند ماہ قبل ایک نیوز پیکیج کی تیاری کے سلسلے میں گڈاپ جانا ہوا تھا جہاں فراہمی آب کے اس قدیم نظام اور اس سے جڑے دیوہیکل کنووں کو دیکھنے کا موقع ملا ۔ ڈملوٹی کنوؤں میں نصب بیشترسامان غائب ہوچکا ہے ۔ بھاری بھرکم مشینری زنگ آلود ہوگئی ہے ۔ کنوین سے ملحقہ رہائشی مکانات پر مقامی افراد نے ڈیرے ڈال لیے ہیں۔ مختلف علاقوں سے گذرنے والے قدیم انفرااسٹرکچرکو تباہ و برباد کردیا گیا ہے۔ کنڈیوٹ کی اراضی پر لیںنڈ مافیا کے کارندے قابض ہیں۔ افسوس کہ گذشتہ 30 سال کے دوران فراہمی آب کا یہ سسٹم جواپنی نوعیت کا ایک تاریخی ورثہ ہے، مکمل تباہی سے دوچار ہے ۔ کراچی کی انتظامیہ اور واٹر بورڈ حکام کی مبینہ ملی بھگت سے شہر کے مختلف علاقوں سے گذرنے والی کنڈیوٹ اراضی پر رہائشی و تجارتی پلازہ تعمیرہوچکے ہیں جبکہ مزید اراضی پر قبضے کا سلسلہ جاری ہے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube