ہوم   >  بلاگز

لفظ اور زبان

SAMAA | - Posted: Feb 17, 2020 | Last Updated: 1 month ago
SAMAA |
Posted: Feb 17, 2020 | Last Updated: 1 month ago

تحریر: اکرم کُنجاہی

بولی! بناوٹ، تصنع اور آرائش کے بغیر، مختصر خاندان کی رہائش کےلیے ایک سادہ سا مکان ہے۔ زبان! وسیع و عریض راستہ دالانوں، طویل راہ داریوں اور ہرے بھرے سبزہ زار پر مشتمل، ایک عالی شان مکان کا نام ہے۔ اِس لیے کہ بولی میں ہم اپنے جذبات و احساسات یا جذبہ و جمال کا اظہار تو کر لیتے ہیں۔ اپنی جمالیاتی فکر کو تخلیقات میں بھی ڈھال لیتے ہیں مگر علوم و فنون اور فکر و فلسفہ کی وسعتوں کا ساتھ ایک مکمل زبان ہی دے سکتی ہے۔ فکر و منطق کو اپنا کر ایک علمی زبان اپنا مکمل تشخص قائم کر سکتی ہے۔ لفظ، بولی اور زبان کی عمارت میں بنیادی اکائی یا اینٹ کا درجہ رکھتا ہے۔ یہ بنیادی اکائی جتنی مضبوط، توانا اور دیر پا ہوگی، اُس سے تشکیل پانے والی عمارت بھی اتنی ہی پائیدار ہوگی۔ امتدادِ زمانہ کا سامنا کرنے کے قابل ہوگی۔ گرم و سردِ زمانہ کا کم سے کم اثر لے گی۔ بولی ہی اخترعات، کشادگی، وسعت اور پھیلاؤ، تنوع اور تبدیلی کے بعد، نئے سانچوں، نئے تخلیقی رویوں کو اپنانے اور سماجی رابطوں میں اضافے کے بعد کسی زبان کی شان بنتی ہے۔

لہٰذا یہ کہنا مناسب ہوگا کہ الفاظ بھی اپنا وجود رکھتے ہیں، جیتے جاگتے اور سانس لیتے ہیں۔ کسی جان دار کی طرح نشو و  نما پاتے ہیں۔ ارتقا پذیر ہیں۔ بہت طاقت ور ہیں۔ ہم عشرت و غم کا، دکھ درد کا، پیار و محبت کا، کامیابی و ناکامی کا، تنہائی و اُداسی کا، رشتے اور تعلق کا، نفرت اور دشمنی کا، اپنائیت و رغبت کا، شعور و ادراک کا، لاشعوری و وجدانی کیفیات کا، پسند اور ناپسند کا، داد و تحسین کا، اجازت و ممانعت کا اظہار الفاظ ہی کے ذریعے کرتے ہیں۔ الفاظ اپنا اثبات چاہتے ہیں کہ وہ ہماری زندگی کا لازمی حصہ ہیں۔ لفظ خاموش ہو جائیں تو خاموشی موت کی علامت بن جاتی ہے کہ زندگی کی جاودانی اور اُس کے منظروں کا اظہار الفاظ ہی تو کرتے ہیں۔ جاڑے میں، اُفقِ مشرق سے طلوعِ مہر کا منظر ہو یا غروبِ آفتاب کے وقت پھیلی شفق۔ برکھا رُت کی رم جھم ہو یا دھنک کی ست رنگی، اور بھی بھلی ہو جاتی ہے جب الفاظ منظر کشی کرتے ہیں۔ یہ الفاظ ہی ہیں جو ہمارا تصور کسی خاص چیز یا شخص کی طرف منتقل کرتے ہیں۔ ہم پھول کہیں گے تو ہمارا تصور پورے چمن کا منظر ہمارے سامنے لے آتا ہے مگر ہم کسی کارخانے سے متعلق نہیں سوچتے۔ ہم دھنک کا لفظ بولیں تو فوراً آسمان کی طرف دیکھیں گے، گھر کی دیوار نہیں۔ ہم لفظ سمندر بولیں تو سننے والے کا ذہن یقینا پانی کے بہت بڑے ذخیرے، موجوں، کشتیوں اور ساحل کی طرف جائے گا، وہ بازار کی سجی سجائی دوکانوں کو ہرگز تصور میں نہیں لائے گا۔ الفاظ بھی مصور کے برش کا کام کرتے ہیں۔

یہ الفاظ ہی ہوتے ہیں جو معانی اور مفہوم کو سامع اور قاری تک منتقل کرتے ہیں۔ عمدہ اور مناسب الفاظ میں ترسیل تخلیق کار کی ذمے داری ہوتی ہے مگر تفہیم کا انحصار قاری پر ہوتا ہے۔ ہر قاری کا علم اور مطالعہ مختلف ہوتا ہے۔ اُن کی ذہنی و فکری سطح ایک سی نہیں ہوتی۔ مثلاً پاپولر فکشن کے قارئین کی تفہیمی سطح وہ نہیں ہوتی جو سنجیدہ ادب کے باشعور اور صاحبِ مطالعہ قاری کی ہوتی ہے۔ لہذا لفظیات کا چناؤ اہم کردار ادا کرتا ہے۔ پھر ہر بات کا اظہار راست انداز میں ممکن بھی نہیں ہوتا۔ زندگی کے بےشمار ایسے گوشے ہوتے ہیں جن پر پہلو بچا کر ہی گفتگو کی جا سکتی ہے۔ ماہرینِ لسانیات کی اکثریت کا خیال ہے کہ انسانی زندگی کے ابتدائی دور میں الفاظ صرف اشیا کے نام کے طور پر برتے جاتے تھے اور سینہ بہ سینہ منتقل ہوتے اور سفر کرتے تھے۔ مثلاً اُس عہد میں سورج کا مطلب سورج ہی تھا، چاند کا چاند اور دریا کا دریا۔ بعد ازاں ایک طرف تو احساسات کے اظہار کےلیے بھی الفاظ اختراع ہوئے۔ جب انسان تہذیب یافتہ عہد میں داخل ہوا، اشیا میں حسنِ ترتیب سے آشنا ہوا تو یہ نام یا الفاظ لکھے جانے لگے۔ اُن کا مفہوم وہی رقم کیا گیا جو انسان بول چال میں سمجھتے تھے۔ دراصل یہ لغت کی ابتدائی شکل تھی اور کسی اسم یا نام کے معانی یا مفہوم، اُس کے لغوی معانی تھے۔

انسان اور انسان کی معاشرت کے ساتھ ساتھ الفاظ بھی ارتقا کے عمل سے گزرنے لگے۔ انسان نے جدید بستیاں بسائیں۔ معاشرے کی صورت میں، گھر اور خاندان میں رہنے لگا۔ تہذیب اور ثقافت کے مفہوم سے بہرہ مند ہوا۔ علوم و فنون سے آشنا ہوا تو اُس کے اظہار، ترسیل اور تفہیم کے انداز اور معیار میں بھی تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ وہ الفاظ کو متعین کردہ معانی (لغوی معانی) سے ہٹ کر بھی برتنے لگا۔ وہ سورج، چاند اور ستاروں کے تلازمات پر بھی غور کرنے لگا۔ یوں علامتوں  اور استعاروں نے بھی جنم لیا۔ لغوی معانی کے ساتھ اصطلاحی معانی بھی اہمیت اختیار کرگئے۔ خاص طور پر شعرأ نے تو ایک ایک لفظ کو ان گنت معانی میں استعمال کیا۔ آسمان، دھنک، پنچھی، نشمین، برق، پھول، باغباں وغیرہ کا وہی مفہوم نہیں تھا جو لغت میں درج ہے۔

مظفر وارثی نے کیا عمدہ بات کہی تھی: لفظ سے جب نہ اٹھا بارِ خیال، کیسے کیسے کیا اظہارِ خیال

سخن وروں نے حدِ نظر کی وسعتوں سے آگے سوچنا شروع کیا تو انہیں محسوس ہوا کہ بہت کچھ سوچا تو جا سکتا ہے مگر اُسے الفاظ کا جامہ پہنانے کے لیے زبان و بیان کی وسعتیں درکار ہیں۔

انسان آوازوں کے ذریعے اپنا مدعا دوسروں تک پہنچاتا ہے۔ اِن آوازوں کو جب الفاظ کی مدد سے صفحہ قرطاس پر منتقل کیا جاتا ہے تو وہ قلم بند کی ہوئی تحریر بھی زبان کہلاتی ہے۔ گویا ہم اپنی بات گفتگو اور تحریر کی صورت میں لوگوں تک پہنچاتے ہیں بلکہ زبان کے ارتقا میں پہلا مرحلہ اشارے کا تھا، جب انسان اشاروں سے کام لے کر اپنے ساتھیوں سے کچھ کہتا تھا، دوسرا مرحلہ تکلمی زبان اور تیسرا تحریری زبان کا ہے۔ اور یہ زبان ہے جو دو اہم فریضے سر انجام دیتی ہے:۔

ہماری اظہار و ترسیل کی ضرورت پوری کرکے ہمیں کامل ابلاغ کی صلاحیت عطا کرتی ہے۔ یہ نقطہ قابلِ غور ہے کہ انسانی ضرورت میں صرف مادی اشیا ہی شامل نہیں ہیں، ہر انسان کی روحانی تشنگی بھی ہے اور زبان ہی روح کو سیرابی کے چشموں تک لے جاتی ہے۔ یہ زبان ہے جو گردو پیش کے مظاہر اور دیگر انسانوں سے ہمارا رشتہ استوار کرتی ہے۔ انسانیت کو ایک وحدت میں ڈھال دیتی ہے۔ فرد، معاشرے، تہذیب اور تاریخ کو مربوط کرکے ایک لڑی میں پروتی ہے۔ اِس لیے زبان آج جس ترقی یافتہ مقام تک پہنچی ہے وہ کئی ادوار، کئی طبقات اور لا تعداد نفوس کی کوششوں کا ثمر ہے۔ زبان اور ماحول کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ ترقی یافتہ زبان، ماحول کو انسانی زندگی کےلیے بہار آفریں کر دے گی اور ترقی یافتہ ماحول اگر چاہے تو زبان کے فطری بہاؤ میں اضافہ کر سکتا ہے۔ آفاقی وسعتوں کو زبان ہی سمیٹ سکتی ہے۔ دریا کو کوزے میں بند کر سکتی ہے۔

زبان و ادب بھی انسان کی طرح ارتقا پذیر ہوتے ہیں۔ بچپن، جوانی، بڑھاپا۔ بچپن سادہ اور معصوم ہوتا ہے۔ بلا کا بھولپن۔ زبان و دل میں کوئی بُعد نہیں جو زبان پر ہے وہی مفہوم دل میں ہے۔ الفاظ بھی ابتدا میں ایسے ہی تھے۔ ہر لفظ کا ایک ہی مفہوم تھا۔ سادہ سا۔ اُن میں کوئی عدم ابلاغ والا معاملہ نہ تھا۔ جوانی میں انسان لفظ زیادہ سیکھ لیتا ہے۔ جذباتی ہوتا ہے، بہت بولتا ہے۔ کسی مصلحت کوشی یا تہہ داری کو درمیان میں نہیں آنے دیتا۔ زبان نے بھی ایک ایک چیز، جذبے یا احساس کے اظہار کےلیے متعدد الفاظ اختراع کر لیے۔ بڑھاپا انسان کو سوچ سمجھ کر، پہلو بچا کر اور نا گفتنی بھی تہہ داری کے ساتھ کہنے کی دانش و بینش عطا کرتا ہے۔ زبان بھی ارتقا کے کئی مراحل طے کرنے کے بعد بُرد بار، متین اور دانا ہو جاتی ہے۔ اُسے بھی نا گفتنی کو تہہ داری وعلامت کے ذریعے گفتی بنا دینے کا ہُنر آ جاتا ہے۔ آج اُردو زبان کا کوئی سا لفظ بھی لے لیجیے، آپ  دیکھیں گے کہ مختلف شعرا اُسے کس کس رنگ اور ڈھنگ سے برت رہے ہیں۔ تجرید و علامت والوں کی تو بات ہی الگ ہے۔ لفظ کا اصطلاحی مفہوم اُسے کہاں سے کہاں لے جاتا ہے۔ پھر تلمیحات اور شعری ترکیبیں کیا کیا رنگ دکھاتی ہیں۔ مثلاً چاند چہرہ، شہابی یا کتابی چہرہ، غنچہ دہن، شعلہ رو، آفتابِ سخن، اقلیمِ سخن، تاج دارِ مدینہﷺ، منزلِ صنعت، دیدہ ور، بینائے قوم، بھنور کی آنکھ، رواہوارِ شوق وغیرہ۔ ہم کہتے کچھ ہیں اور مراد کچھ اور لیتے ہیں۔ اُردو زبان میں تو ایک ایک لفظ کے کئی کئی مرادفات ہیں کہ ہماری زبان فارسی، عربی، ہندی، سنسکرت اور انگریزی سب ہی زبانوں سے استفادہ کرتی ہے۔

تعارف: اکرم کنجاہی شاعر، ادیب، نقاد اور ادبی رسالے غنیمت کے ایڈیٹر ہیں

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
Urdu language, samaa blogs, communication, human
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube