ہوم   >  بلاگز

ڈیپ فریزر

SAMAA | - Posted: Feb 14, 2020 | Last Updated: 1 month ago
SAMAA |
Posted: Feb 14, 2020 | Last Updated: 1 month ago

فوٹو: آن لائن

تحریر: محمد ابرار

پاکستانی معیشت گراوٹ کا شکار نظر آرہی ہے اور وزن کے مختلف پیمانے بتانے والوں میں سے کوئی حکومت پہ تنقید کرتا نظر آرہا ہے تو کوئی سابقہ حکومتوں کو رو رہا ہے۔ لیکن موجودہ صورتحال کے نتیجے میں پیدا ہونے والی مہنگائی اور بیروزگاری کے بعد عوام کی کمر ٹوٹ کر رہ گئی ہے۔

بڑے بڑے نعرے لگانے والی اور کپتان کے ہوم گراؤنڈ پنجاب سے تعلق رکھنے والی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت مسلم لیگ ن جہاں بہتر فائدہ اُٹھا سکتی تھی اور عوام کی موثر آواز بن سکتی تھی وہیں بڑے بیانیے والی بڑی جماعت نے چھوٹا فیصلہ لیا اور ذاتی مفادات کے تحفظ کےلیے بطور اپوزیشن کوئی کردار ادا کرنے کی بجائے خود کو ڈیپ فریزر میں رکھ دیا۔

بطور وزیر اعظم عمران خان کی خوش قسمتی یہ ہے کہ ان کی حکومت ناکامی کے ہچکولے کھانے کے باوجود کھڑے ہونے کی کوشش کر رہی ہے لیکن وہیں سب سے بڑی اپوزیشن جماعت کی قیادت بیماری اورعلاج کے بہانے ملک سے باہر ہوا کھانے ایسی کیا گئی کہ واپس آنے کا نام نہیں لے رہی۔ بڑے میاں تو بڑے میاں چھوٹے میاں سبحان اللہ ۔۔۔۔ ضمانت پر رہائی پانے والے اور ضمانت دینے والے ضمانتی دونوں ہی مزے کر رہے ہیں۔ بیمار نوازشریف ہیں لیکن اپوزیشن لیڈر اور ن لیگ کے مرکزی صدر شہباز شریف بھی بھائی کی بیماری کی آڑ میں تین ماہ سے لندن کی ہواؤں کے مزے لیے جا رہے ہیں اور واپس آنے سے انکاری ہیں اور بتانے والے بتا رہے ہیں کہ وہ ابھی واپس نہیں آئیں گے۔

مسلم لیگ ن کی پاکستان میں موجود دوسرے درجے کی قیادت کو دیکھیں تو بھی بطور اپوزیشن وہ ڈیپ فریزر میں لگے ہوئے ہیں۔ موجودہ دور میں بیساکھیوں کے سہارے چلتی معیشت کی بیساکھیوں کو دیمک لگتا نظر آ رہا ہے۔ جرائم میں اضافہ ہو رہا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے من مانی کرتے نظر آرہے ہیں۔ بجلی کی قیمتیں کرنٹ دے رہی ہیں۔ پیٹرول کی قیمت عوام میں شعلے بھڑکا رہی ہے۔ یہاں تک کہ پیٹرول مافیا بھی اپنی من مانی کرتا نظر آرہا ہے۔ آٹے کی قیمت عوام کو پیس رہی ہے۔ چینی کی قیمت نے زندگی کی مٹھاس چھین لی ہے۔ آئی ایم ایف کے میوزک پر عوام ناچ رہے ہیں۔ پہلے سے دوگنے قرضے لیے جا چکے ہیں۔ اسمبلی اکثر وزیر اعظم کی منتظر نظر آتی ہے۔

تاہم اس ابتر صورتحال میں ملک سے اگر کوئی غائب ہے تو وہ ہے ڈیپ فریزر میں سوئی ہوئی اپوزیشن۔ بڑے بڑے نعرے لگا کر لوگوں کو جگانے والے خود ستو پی کر سو رہے ہیں۔ نہ تو کہیں کوئی احتجاج ہو رہا ہے اور نہ ہی کوئی موثر آواز اُٹھائی جا رہی ہے۔ پچھلے تقریباً دو سال کے عرصے میں ن لیگ کی توجہ اپنے لیڈروں کی رہائی، ان کی علالت اور ان کے علاج تک محدود رہی ہے۔ یہ درست ہے کہ ووٹروں کو اپنے قائدین سے بے حد محبت ہوتی ہے لیکن لیڈروں کو اس محبت پہ سینہ پھیلانے کی بجائے یہ ضرور سوچنا چاہیے کہ ووٹرز کی محبت بھی خالی پیٹ زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ سکتی۔ لوگ ووٹ اس لیے نہیں دیتے کہ وہ لیڈروں کی رہائی کا مطالبہ کرتے رہیں بلکہ لوگ اس توقع پر ووٹ دیتے ہیں کہ انکے قائدین ان کی فلاح کےلیے کچھ کریں گے۔ ان کی اور انکے گھرانوں کی زندگی محفوظ اور پرسکون بنائیں گے۔ ان کے حق کیلئے بہتر اپوزیشن کا کردار ادا کرتے ہوئے حکومت کے سامنے اُن کی آواز اُٹھائیں گے لیکن یہاں تو گرفتاری پر گریہ زاری کرتی ہوئی اپوزیشن نظر آرہی ہے۔ فکر ہے تو صرف اپنی عوام کا کیا؟ الیکشن سے قبل پھر عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کا فن تو سبھی کو آتا ہے۔ پھر وہی نعرے ہوں گے وہی عوام کا پیسہ حلق سے کھینچنے کی باتیں ہوں گی۔ وہی سڑکوں پر گھیسٹنے کا شور ہوگا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر آج کے حالات عمران خان کو اپوزیشن میں میسر آ جاتے تو بہت بہتر پوزیشن میں آسکتے تھے۔ عوام کے دلوں میں گھر کر سکتے تھے اور عوام کی آواز بننے کا تسلسل جاری رکھ سکتے تھے لیکن اگر تسلسل جاری رہا تو صرف ماتم کا اس کے سوا کچھ نہیں۔ حالات کا تقاضا کچھ اور ہے۔ ایسے میں اپوزیشن کی سب سے بڑی پارٹی کانوں میں انگلیاں ڈالے عوام کی آواز دبانے کی کوشش میں لگی ہوئی ہے، لندن میں قیام کیے کسی ’مبارک‘ فون کا انتظار کر رہی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ن لیگ کی قیادت کو چاہیے کہ کسی اور سے نہیں تو عمران خان سے ہی اپوزیشن کرنے کا فن سیکھ لے کیونکہ خان صاحب اس قوم کو یہ باور کروا چکے ہیں کہ وہ اپوزیشن کرنے کے مرد میدان ہیں اور اس حد تک اپوزیشن کرتے ہیں کہ حکومت میں رہتے ہوئے بھی اپوزیشن لیڈروں کی طرح ہی تقریر فرماتے ہیں۔

کپتان نے تو مہنگائی کو بھی اپوزیشن کی طرح منگل کی ڈیڈ لائن دے دی تھی لیکن مہنگائی نے بھی گزشتہ حکومت کی طرح ان کی بات پہ شاید دھیان نہیں دیا۔ کپتان شاید مہنگائی کو دی گئی ڈیڈ لائن پر بھی ایمپائر کی انگلی اُٹھنے کا انتظار کررہے ہیں اور لگ یوں رہا ہے کہ شاید ایمپائر بھی اس وقت ڈیپ فریزر میں سو رہا ہے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
Deep Freezer, pmln, pti, politics, Samaa blogs
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube