ہوم   >  بلاگز

مذہبی رواداری کی عمدہ مثال اوڈیرو لال

SAMAA | - Posted: Feb 12, 2020 | Last Updated: 2 months ago
Posted: Feb 12, 2020 | Last Updated: 2 months ago

گزشتہ دنوں وائس آف سندھ کی دعوت پر سندھ یاترا پر جانا ہوا۔ دورے کا مقصد بین المذاہب ہم آہنگی اور روداری کو پروان چڑھانا تھا۔ اکثر وبیشتر مذہبی انتہا پسندی کی بات کر کے پاکستان کو بدنام کرنے کی مذموم کوشش کی جاتی رہی ہے اور لوگ اپنے مقاصد کیلئے مذہبی انتہا پسندی کا ہتھیار استعمال کرتے رہے ہیں مگر جب بات زمینی حقائق کو سامنے رکھ کر کی جائے تو معاملہ بالکل برعکس ہے۔ سندھ کو صوفیائے اکرام کی سرزمین کہا جاتا ہے جہاں بزرگان دین نے محبت، رواداری اور بھائی چارے کا پیغام عام کیا۔ سندھ کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ یہاں ساتھ رہنے والوں نے ہمیشہ ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے اور جب بات میل جول کی آتی ہے تو سندھ کے ہندو مسلمان ایک پیج پر نظر آتے ہیں۔ جس وقت بھارت کے ہندو بابری مسجد شہید کررہے تھے اور وہاں کے مسلمانوں پر ظلم وستم ڈھا رہے تھے اس وقت سندھ کے مسلمان اپنے ہم وطن ہندؤں کے گھر اور مندروں کی حفاظت کر رہے تھے انہی مندروں میں سے ایک مندر ’’اوڈیرو لال‘‘ ہے جس کی حفاظت مقامی لوگوں نے رات بھر مندر میں گزار کر کی تھی۔

حیدرآباد سے 30 کلو میٹر دور ٹنڈوآدم خان میں واقع اوڈیرو لال ایک ایسی جگہ جہاں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے ایک ہی چار دیواری کے اندر عبادت کرتے ہیں اور مل جل کر رہتے ہیں۔ مذہبی رواداری کی بہترین مثال ہے، درحقیقت یہ صرف ایک مقبرہ ہے جس کا طرز تعمیر مغل بادشاہ شاہجہاں کے دور میں تعمیر کردہ مساجد سے ملتا جلتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ شاہجہاں اکبر اوڈیرو لال کی تعلیمات سے متاثر تھا یہی وجہ ہے کہ مقبرہ مسلم طرز تعمیر کا شاہکار ہے، پہلے یہاں صرف مقبرہ بنا تھا اس کے بعد مندر اور مسجد تعمیر ہوئی۔ اوڈیرو لال کی پیدائش کے حوالے سے مختلف روایات ہیں اور پیدائش کا سن 1007ء بتایا جاتا ہے۔ اس بچے کا نام اُڈیرو لال رکھا گیا اور انہیں ’’جھولے لال‘‘ کا لقب بھی دیا گیا کیونکہ مانا جاتا ہے کہ ان کا جھولا خود بخود ہلتا تھا، ان کو امر اوڈیرو لال عرف پانی کا پیر یا زندہ پیر بھی کہا جاتا ہے۔

محققین آج تک یہ معلوم نہ کرسکے کہ جس صاحب قبر کے ماننے والے ہندو مسلمان دونوں ہیں وہ دراصل شیخ طاہر بھرکو ہے کہ اوڈیرو لال، ہندؤں کے مطابق جھولے لال کا اصل نام اشتا دیو تھا۔ مزار کے اندر داخل ہوتے ہوئے دروازے پر ایک طرف سمادھی رکھی ہوئی ہے جس پر ہندو اور مسلمان دونوں ہی پھول چڑھاتے ہیں۔ پوری دنیا سے لوگ یہاں آتے اور سوچتے ہیں کہ یہ کیا معجزہ ہے، مسجد بھی ہے اور مندر بھی ہے لوگ ایک ساتھ عبادت کر رہے ہیں۔

اوڈیرو لال  کے ماننے والے مسلمان اور ہندو دونوں ہی تھے، یہی وجہ ہے کہ اس کے سجادہ نشینوں میں ہندو اور مسلمان دونوں شامل ہیں۔ درگاہ اوڈیرو لال کی خاص بات یہ ہے کہ یہاں مندر اور مسجد ساتھ ساتھ بنے ہوئے ہیں لیکن پھر بھی کبھی کوئی کشیدگی دیکھنے میں نہیں آئی۔ مزار کے خدمت گزار علی اکبر کے مطابق علاقے میں ہندوؤں کی تعداد بہت کم ہے زیادہ تر ہندو دوسرے علاقوں سے آتے ہیں۔ شام کے وقت ہندو اپنی پوجا پاٹ کرتے ہیں اور بھجن گاتے ہیں جب کہ مسلمان اپنی پانچ وقت نماز باجماعت ادا کرتے ہیں۔ علی اکبر کے مطابق یہاں کا انتظام و انحصرام مقامی لوگوں کے ہاتھ میں ہے اور سندھ حکومت کی طرف سے کوئی کام یہاں پر نہیں کرایا گیا ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ سندھ حکومت اس قومی ورثے کو بچانے کیلئے اقدامات کریں کیونکہ یہاں سال میں دو میلے ہوتے ہیں اور بڑی تعداد میں عوام یہاں آتے ہیں جس کی وجہ سے دنیا بھر میں پاکستان کا مثبت چہرہ دنیا کے سامنے جاتا ہے۔ یہاں پر بڑا میلا اپریل اور دوسرا چھوٹا میلا ستمبر میں منعقد ہوتا ہے جس میں دنیا بھر سے اوڈیرو لال کے ماننے والے شرکت کرتے ہیں لیکن زیادہ تر افراد بھارت سے آتے ہیں۔ وطن عزیز میں مذہبی رواداری اور ہم آہنگی کی بہترین مثال جو اوڈیر لال میں دیکھنے کو ملتی ہے اسکی مثال کہیں اور نہیں ملتی ہے۔ وطن عزیز میں بسنے والے تمام مذاہب اپنی عبادات و رسومات بے خوف و خطر انجام دیتے ہیں اور وطن عزیر کی ترقی و خوشحالی کیلئے دعا کرتے ہیں۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
Sindh, historical place, Odero Lal, Muslim, Hindu, worshipers, religious
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube