Wednesday, October 21, 2020  | 3 Rabiulawal, 1442
ہوم   > بلاگز

زرد چنار اور برہان وانی

SAMAA | - Posted: Feb 5, 2020 | Last Updated: 9 months ago
Posted: Feb 5, 2020 | Last Updated: 9 months ago

فوٹو: اے ایف پی

زبرون پہاڑی کے دامن میں واقع ٹیولپ گارڈن یا باغ گل لالہ کا نظارہ ہمیشہ سے میرے دماغ میں سمایا ہوا ہے۔ جھیل ڈل کے خاموش پانی یا لال چوک سری نگر کے آسیب زدہ سناٹے سے گھبرائے ہوئے انسانوں کو باغ گل لالہ ہمیشہ راحت مہیا کرتا ہے۔ یہاں لگے مختلف اقسام کے ٹیولپس ہمیشہ سے امید کا پیغام دیتے ہیں۔ برہان وانی کی شہادت کے بعد سے یہ گارڈن میرے اعصاب پر حاوی ہے۔ گزشتہ سال پانچ اگست کے بعد سے اس گارڈن میں اداسی کے ڈیرے ہیں، مایوسی کسی عفریت کی طرح اس پر چھائی ہوئی ہے، لیکن میں ابھی بھی امید لگائے بیٹھا ہوں۔ یہ امید ہے کشمیر کے دیو قامت چناروں پر سبز پتے اگنے کی امید، پیر پنجال کے پہاڑوں پر برف ہٹنے کے بعد گھڑنچھ کے پھول کھلنے کی آس ۔۔ وادی پر قابض بھارتی افواج کے جانے کا حوصلہ مجھے اسی ٹیولپ گارڈن سے ملتا ہے۔

برہان وانی بھی اس وادی کا ایک ٹیولپ تھا کہ جس کی کلیاں ابھی پوری طرح کھلی نہیں تھیں، جس نے ابھی زمین سے اپنا سر باہر نکالا ہی تھا کہ اسے قابض افواج نے قلم کر دیا۔ لیکن اس کشمیری ٹیولپ کا سر جابرانہ تسلط کے سامنے جھکا نہیں بلکہ مٹی کے اس بیٹے نے پیغام دیا کہ برہان اپنے نام کی طرح روشن دلیل اور واضح پیغام تھا کہ جس نے قوم کے نوجوانوں کو پیغام دیا کہ پہاڑوں کے بیٹے کا سر قلم تو ہوسکتا ہے مگر قابض دشمنوں کے سامنے جھک نہیں سکتا، وہ شمع آزادی کا وہ پروانہ تھا کہ جس نے اپنے لہو سے قوم کی تقدیر روشن کردی۔ اس نے اپنے لہو سے ایسی ہزاروں شمعیں روشن کر دیں کہ قابض دشمن کو خود اپنی بقا کی جنگ لڑنا پڑ گئی۔ اس شمع کی روشنی کے سامنے قابض بھارتی کے تمام دعوے چھوٹے پڑنے لگے۔ وانی کی شہادت کو ایک طویل عرصہ گزر چکا ہے لیکن آج بھی وہ وادی کے نوجوانوں کے دلوں میں مزاحمت کا استعارہ بن کر زندہ و جاوید ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کی یادوں کے نقوش مزید گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ وانی کے یہ نقوش کشمیری نوجوانوں کے دلوں میں اس قدر راسخ ہو چکے ہیں کہ وقت کی گرد بھی اس کے اثرات کو مندمل کرنے سے قاصر نظر آرہی ہے، اور شائد یہ  گرد اسے مزید واضح کرتی جارہی ہے۔

میں ایک کشمیری ہوں، پانچ اگست کے اقدامات نے جہاں میرے اندر پہلے سے موجود بغاوت کی چنگاری کو بھڑکایا ہے، وہیں میرے جذبات کسی آتش فشاں کی مانند ابل رہے ہیں اور یہ لاوا کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے۔ اس لاوے کے ضد میں آکر بھارتی آئین اور قانون بھی جل کر خاکستر ہوسکتا ہے۔ نریندر مودی نے کشمیر کی آئینی حیثیت ختم کرکے سوئے ہوئے شیروں کو بیدار کر دیا ہے۔ یقین جانیں، جو کشمیری پہلے بھارتی ترنگے کو ماتھے پر سجاتے تھے اب وہ بھی اسے جلانے پر مجبور ہیں، اب انہیں بھی جناح کے پاکستان کی تلاش ہے، اب برہان وانی ان کا بھی ہیرو اور ماتھے کا جھومر ہے۔ اب وہ بھی تیری آن میری شان، پاکستان پاکستان کا نعرہ بلند کرنے پر مجبور ہیں۔ کشمیر کی آئینی حیثیت بدل کر بھارت سرکار نے اپنے پاؤں پر خود کلہاڑی ماری ہے اور وہ اس کے اثرات سے بچ نہیں سکتا۔ عالمی برادری کے علاوہ خود سنجیدہ بھارتی حلقوں کی جانب سے آج اقدامات کےخلاف آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ دانشور اور سیاست حکومت پر فیصلہ بدلنے کیلئے دباؤ ڈال رہے ہیں، لیکن مودی کی روایتی ہٹ دھرمی نے بھارت کا اپنا وجود بھی خطرے میں ڈال دیا۔ یہ وہ خطرہ ہے کہ جس کی ابتدا نظر آتی ہے اور نہ ہی اس کے ٹلنے کے کوئی آثار دکھائی دے رہے ہیں۔ اس وقت بھارتی حکومت کی صورتحال آگے کنواں اور پیچھے کھائی والی بنی ہوئی ہے اور انہیں کہیں بھی جائے اماں نہیں مل رہی، اگر بھارت قانون کو  نافذ کرتا ہے تو تب بھی اس کیلئے خطرہ ہے جبکہ قانون کالعدم قرار دینے کے بعد مودی کا فاشزم اپنی موت آپ ہی مرجائے گا۔

قصہ مختصر بھارت وادی میں مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کیلئے کوششیں کر رہا ہے لیکن خود بھارتی سرکار کو ملک بھر میں مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، کشمیر میں انٹرنیٹ بندش، لاک ڈاؤن اور کرفیو کے ذریعے شہریوں کی آواز بند کرنے کی کوشش کی گئی لیکن شاہین باغ میں ایک ماہ سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود مظاہرین کی موجودگی عالمی برادری کیلئے مودی فاشزم کو بے نقاب کر رہی ہے۔ شہریت کے متنازعہ بل کیخلاف عوامی مزاحمت نے مودی کے فاشزم پر مبنی اقدامات کو مسترد کردیا ہے۔ ایسے موقعے پر پاکستانی حکومت اور عوام کی زمہ داری ہے کہ وہ مودی حکومت کیخلاف عالمی برداری کو باخبر کریں ، دنیا کو بتائیں کہ نریندر مودی عالمی امن کیلئے کس حد تک خطرہ بن چکا ہے۔ یہ ذمہ داری  پاکستان کی ہے کہ وہ کشمیریوں کا حقیقی ترجمان بن کر سامنے آئے اور مضبوط خارجہ پالیسی کے ذریعہ کشمیر کا مقدمہ عالمی برادری کے سامنے پیش کرے۔ یہ تمام باتیں اس صورت میں پوری ہوسکتی ہیں جب پاکستانی حکومت معاملے کی بہتری میں سنجیدہ ہوگی۔

یہاں پاکستان کےساتھ کشمیریوں کی محبت کا تذکرہ کریں تو آج انہیں پاکستانی حکومت سے جہان کئی امیدیں وابستہ ہیں وہیں پاکستانی خارجہ پالیسی پر بھی وہ شکوہ کناں ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان سامنے آکر کشمیر کا مقدمہ لڑے، جب پاکستان کے رویے میں سنجیدگی آئے گی، اسی وقت کشمیر میں آزادی کا سورج طلوع ہونے کے آثار پیدا ہو جائیں گے۔ آج ٹیولپ گارڈن کی ننھی کونپلیں بھی پاکستان کی جانب دیکھ رہی ہیں کہ شاید ارض پاکستان سے کوئی ٹھنڈا ہوا ہی انہیں بھولے۔ آج برہان وانی کی روح پوچھ رہی کہ کون ہے جو اس کے مشن کو تکمیل تک پہنچائے گا۔ انہی وعدوں ، نعروں اور دعوں کی تکمیل ہی کشمیر کی حقیقی آزادی کا پیش خیمہ ثابت ہوگی۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
Kashmir Solidarity Day, 5th February, Burhan Wani, India, Pakistan
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube