ہوم   >  بلاگز

فلم ’’زندگی تماشا‘‘ سے متعلق مفروضے

SAMAA | - Posted: Jan 23, 2020 | Last Updated: 1 month ago
SAMAA |
Posted: Jan 23, 2020 | Last Updated: 1 month ago

 قارئین، میں سنسر ہونے سے قبل اور بعد میں فلم  ’’زندگی تماشا‘‘ دیکھ چکا ہوں۔ کوشش کروں گا کہ فلم کے حوالے سے مکمل جھوٹ اور من گھڑت خبروں پر بات کروں، ان سے جن میں سے کچھ کے جذبات کو فلم دیکھے بغیر تکلیف پہنچی جبکہ کچھ لوگ فلم دیکھے بغیر ہی اسے بہت زیادہ سراہ رہے ہیں۔ یاد رہے کہ اب تک جن لوگوں نے پوری فلم دیکھ رکھی ہے وہ پاکستان سنسر بورڈ کے ارکان ہیں۔ ان میں بیوروکریٹس ، سول سوسائٹی  ارکان اور ہماری خفیہ ایجنسیوں کے نمائندے شامل ہیں جن کے بارے میں آپ کا خیال ہوگا کہ ثقافتی اورمذہبی حوالے سے حساس معاملات سے آگاہ ہیں۔ انہوں نے اس فلم کو 2 بارمنظوری کی سند دی۔ 2 بار۔

کیا فلم بچوں سے بدسلوکی سے متعلق ہے؟

ایسا نہیں ، فلم میں کسی پر بچوں کے ساتھ بدسلوکی کا الزام نہیں ہے، پلاٹ میں ایسا کوئی موضوع ملتا ہے نہ یہ ذیلی پلاٹ کا حصہ ہے۔ فلم میں ایسا کوئی ذکریا نشاندہی نہیں۔ صرف ایک سطرایسی تھی جس میں گرما گرم بحث کے دوران مرکزی کردار کہتا ہے ’’لیکن ان لوگوں کا کیا ہو گا جو بچوں کے ساتھ بدسلوکی کرتے ہیں؟ ‘‘۔ سنسربورڈ نے یہ سطرخارج کی تھی جو خارج ہی ہے۔ پاکستان میں بچوں کے ساتھ بدسلوکی کے واقعات میں روزافزوں اضافہ ہورہا ہے، مذہبی اور سیکولراداروں میں ،  ہمارے گھروں اور گلی محلوں میں اور خواہش ہے کہ اس حوالے سے کوئی فلم بنائی جاتی لیکن یہ فلم وہ نہیں ۔۔ اس فلم میں خوش وخرم بچے عید میلادالنبی منارہے ہیں۔ خطرناک بات یہ ہے کہ ڈھائی منٹ دورانیہ کے ٹریلرمیں ایک داڑھی والے آدمی کو مشکل میں دیکھ کر فرض کرلیا گیا کہ یہ بچوں کے ساتھ زیادتی سے متعلق ہے۔

کیا فلم میں شعائرِاسلام کا مذاق اڑایاگیا؟

یہ پہلی جدید فلم ہے جس میں شعائراسلام کو قبولتے ہوئے جشن منایا جارہا ہے۔ یہ اندرون لاہورعید میلادالنبی کی تقریبات کے دوران فلمایا گیا، ہر پورا یا آدھا یقین رکھنے والا مومن اس دم بخود سنسنی خیزی، آوازوں ، روشنیوں کا احساس کرپائے گا جس میں پورا پورا کُنبہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیدائش کا جشن منانے باہرنکل آتا ہے۔ میں نے کیمرے کی آنکھ سے اتنی عزت وعقیدت کے ساتھ  فلمایا گیا مذہبی جوش وخروش کبھی نہ دیکھا۔ اس میں کوئی طنز ومزاح نہیں صرف وہ خالص خوشی ہے جو 12 ربیع الاول کو اندرون لاہور نظر آتی ہے۔ یہ تقریبات سجائی نہیں جاتیں، عید میلادالنبی پر کسی مذہبی گروپ کی اجارہ داری نہیں۔ یہ ایک کھلا عوامی جشن ہے۔

کیا فلم میں علمائے کرام کوغلط اندازسے دکھایاگیا؟

 فلم میں علماء ہیں ہی نہیں، لگتا ہے کہ گہرا دکھ  داڑھی والے مرکزی کردار کی وجہ سے پہنچا، جس کا نام خواجہ راحت ہے۔ ایک چھوٹا پراپرٹی ڈیلر جو کبھی عالم ہونے کا دعویٰ نہیں کرتا۔ ڈائریکٹر سرمد کھوسٹ کے مطابق وہ کافی حد تک ایک اچھا مسلمان ہے۔ میرا اندازہ ہے کہ یہ چوٹ معاشرے میں پائی جانےوالی مذہبی جنونیت کو چیلنج کرنے کی وجہ سے پہنچی ،جسے ہم اکثرعام کلچرمیں دیکھتے ہیں۔ مرکزی کردار ایک شفیق انسان ہے، ضرورت مندوں کی مددکرتا ہے، شادیوں کیلئے سہرے لکھتا ہے اورعیدمیلادالنبی پرحلوہ تقسیم کرتا ہے۔ وہ ایک پیشہ ورنعت خواں نہیں لیکن اسے نعتیں پڑھنا بہت پسند ہے، فلم کے ایک یادگار منظر میں اسے اپنی بیوی کے ساتھ نعت پڑھنے کی پریکٹس کرتے بھی دکھایا گیا ہے۔

کیا یہ فلم سماجی روایات کو توڑرہی ہے؟

اس فلم میں جس واحد سماجی روایت کو توڑا گیا وہ ایک داڑھی والے آدمی کو گھر کا کام کرتے ہوئے دکھانا ہے۔ یہ ایک مذہبی آدمی کو انسان بناتا ہے۔ مجھے یاد نہیں کہ آخری بار کسی فلم میں داڑھی والے آدمی یا کسی بھی شخص کوکھانا پکاتے، کپڑے دھوتے، بیمار بیوی کے بال سنوارتے کب دکھایا گیا تھا۔ کیا داڑھی والے کو گھر کے کام کرتے ہوئے دکھانا ہمارے ایمان کی توہین ہے؟۔

کیا زندگی تماشا غیرملکی امداد سے بننے والی فلم ہے؟

سرمد کھوسٹ نے یہ فلم پرانے طریقہ سے بنائی، اس کیلئےسرمد نے اپنا پلاٹ بیچا۔ وہ پاکستان میں سب سے زیادہ کامیاب ڈرامہ اور فلم  ڈائریکٹر ہے۔ پاکستان میں سینماپر سب سے پہلے دکھائے جانے والےڈرامہ ’’ ہمسفر‘‘ کا ہدایتکار وہی ہے۔ اسی نے تجارتی اعتبار سے کامیاب فلم منٹو کی ہدایتکاری کی۔ زندگی تماشا پاکستان کی وہ پہلی فیچر فلم ہے جس نے بوسان انٹرنیشنل فلم فیسٹول میں ایوارڈ جیتا۔

میں بہت سے کامیاب ڈائریکٹرزکو نہیں جانتا جو سرکاری اداروں میں پڑھانے کیلئے وقت نکالتے ہیں اور پھر نوجوانوں کو موقع دیتے ہیں۔ بہت سی کاسٹ ، عملہ اور موسیقار اس فلم سے اپنا ڈیبیو کر رہے ہیں۔ بہت سال سے سرمد شوکت خانم میمیوریل اسپتال کیلئے فنڈز جمع کرنے کی مہم میں کلیدی کردار تھا۔ حال ہی میں اس نے پاکستان کی پہلی خاتون فائٹرپائلٹ کی زندگی پر بنائی گئی فلم ڈائریکٹ کی۔ اس نے رمضان ٹرانسمیشن اورمیرے پسندیدہ ایک کوکنگ شو کی میزبانی  بھی کی۔ ہماری پوری کابینہ کو اکٹھا کرو تو بھی سرمد ان سب سے زیادہ پاکستانی ہے۔

تحریک لبیک پاکستان اس قدر پریشان کیوں؟

قارئین آپ کو کچھ ہمدردی دکھاتے ہوئے وہ صدمہ سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے جس سے تحریک لبیک پاکستان حال ہی میں گزری ہے۔ ٹی ایل پی بعض معاملات کو لیکر پریشان ہے۔ گزشتہ انتخابات میں وہ پاکستان کی چوتھی بڑی سیاسی جماعت بن کر ابھری، وہ سینہ ٹھوک کرباہرنکلے اور ہمارے دارالحکومت کا محاصرہ کرلیا۔ اسٹیبلشمنٹ کی بولی لگانے پر انہیں ہزار ہزار روپے کےلفافوں سے نوازتے ہوئے ’’ہمارے بھائی ‘‘ کہا گیا۔ آسیہ نورین کی بریت کے بعد انہوں نے فوج میں بغاوت اور ملک کے اعلیٰ ترین ججوں کے قتل کا مطالبہ کیا۔ یہی وہ وقت تھا جب یہ احساس ہوا کہ یہ معصوم نہیں ہیں جن پر یقین تھا کہ وہ ہیں۔ ریاست نے ان سے سختی سے نمٹنا شروع کردیا۔ ایک وقت میں آپ کو پولیس سے ہنگامہ آرائی کےبعد پشت پر تھپکی اور ہزار روپے کا نوٹ دیا جا رہا ہے، چند ماہ بعد اسی جرم میں 55،55 سال قید کی سزا سنائی جا رہی ہے۔

یہ ہے وہ وجہ جس نے ٹی ایل پی کے جذبات کو مجروح کیا، جب ٹی ایل پی نے پاکستان کے سب سے بڑے آدمی پر توہین رسالت  کا الزام عائد کیا تو انہیں کھڈے لائن لگا دیا گیا۔ ٹی ایل پی کا صرف ایک نقاطی ایجنڈہ ہے، یہ چیخنا کہ توہین رسالت، توہین رسالت، توہین رسالت ۔ اچھا مسلمان نہ ہو یا کافی حد تک اچھا مسلمان ہو ، جیسا کہ سرمد کھوسٹ اپنے مرکزی کردار کو کہتا ہے، کیا پوچھنا چاہے گا کہ اصل میں توہین رسالت کیا تھی؟۔

زندگی تماشا میں اس کا صرف ایک حوالہ تھا جس میں ایک معمولی کردارکہتا ہے ’’ لاواں نعرہ گستاخی دا‘‘۔ ( کیا میں آپ کے خلاف توہین رسالت کا نعرہ لگاؤں؟) ۔

سنسر کرنے والوں نے کہا اس لائن کو کاٹ دو، ڈائریکٹر نے وہ لائن کاٹ دی۔

قارئین ، اب ہدایتکار کواس کے علاوہ کیا کاٹنا چاہیے؟ یہ فیصلہ آپ پر چھوڑا۔

محمد حنیف پاکستان کے مقبول ترین لکھاریوں اور کالم نگاروں میں سے ایک ہیں۔ ریڈ برڈزان کا تازہ ناول ہے۔ ان کا پہلا ناول ’’ آکیس آف ایسپلوڈنگ مینگوز ‘‘ حال ہی میں پھٹتے آموں کا کیس کے نام سے ترجمہ کیا گیا ہے۔

نوٹ: یہ آرٹیکل کوکب مرزا نے انگلش سے اردو میں ترجمہ کیا۔

WhatsApp FaceBook

One Comment

  1. Avatar
      احمد خان  January 24, 2020 9:28 pm/ Reply

    میں اس فلم کو دیکھوں گا کیا آپ مجھے کسی فلم کا لنک بھیجیں گے؟

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube