ہوم   >  بلاگز

کیا عثمان بزدار کی چھٹی ہونے کو ہے؟

SAMAA | - Posted: Jan 21, 2020 | Last Updated: 1 month ago
Posted: Jan 21, 2020 | Last Updated: 1 month ago

فوٹو: آن لائن

وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار جنہیں وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے وسیم اکرم پلس کا خطاب دیا، وزیر اعظم کو یقین تھا کہ عثمان بزدار صوبے میں عوامی فلاح کے منصوبوں پر وسیم اکرم کی باولنگ جیسی رفتار سے کام کریں گے، لیکن وزیر اعلیٰ نے وسیم اکرم پلس کی بجائے مائنس کارکردگی بھی نہیں دکھائی، اسی دوران انہیں وزیر اطلاعات پنجاب فیاض الحسن چوہان نے شیر شاہ سوری کا خطاب دیا، امید تھی کہ پنجاب میں ترقی کی رفتار تیز ہوگی، عوامی فلاح کے منصوبوں پر کام ہوگا، وزارتیں بہترین کارکردگی دکھائیں گی، لیکن انہوں نے شیر شاہ سوری جیسی ترقی میں تو کارکردگی نہیں دکھائی بلکہ شاہانہ طرز زندگی اختیار کرلیا، عثمان بزادر نے جی او آر میں اپنے بنگلے کو آرام دہ، خوبصورت اور دیدہ زیب بنانے کیلئے کروڑوں روپے لگا دیے۔

وسیم اکرم پلس کپتان کی توقعات پر پورے اترے یا نہیں؟ یہ ایسا سوال ہے جس کا جواب گذشتہ ڈیڑھ سال سے ہر کوئی جاننے کی کوشش کررہا ہے۔ لیکن ان ڈیڑھ سالوں میں ان کے کاموں پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ واقعی انہوں نے وسیم اکرم کی رفتار سے کام کیا، ان کے گاوں میں بجلی نہیں تھی، وزارت اعلیٰ کے منصب پر براجمان ہوتے ہی پہلے ہفتے میں بجلی کے کھمبے نصب ہوگئے، پنجاب بھر میں ایم پی ایز فنڈز نہ ملنے کا رونا رو رہے ہیں لیکن وزیر اعلیٰ نے اپنے حلقہ انتخاب کے ممبران پر قومی خزانے کا منہ کھول دیا تھا۔ انہوں نے ڈی جی خان اور تونسہ پر جی بھر کر خزانہ لٹایا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب ایک جانب تو میڈیا کو بتا رہے تھے کہ وہ ابھی سیکھنے کے مراحل میں ہیں جبکہ دوسری جانب وزارت  کے منصب کا بھرپور فائدہ اٹھاتے رہے۔

وزیر اعلیٰ پنجاب کے حوالے سے جہاں اتحادی جماعت مسلم لیگ (ق) کو کافی شکایات ہیں، وہیں پارٹی کے اندر بھی ان کیخلاف ایک محاذ گرم ہے۔ پارٹی عہدیداران اس وقت عملی طور پر تین گروپوں میں تقسیم ہیں۔ ایک وہ لوگ جنہیں وزارت اعلیٰ چاہیے اور وہ اپنی ہی لابنگ میں مصروف ہیں۔ دوسرا گروہ عثمان بزدار کے قابل اعتماد ساتھیوں پر مشتمل ہے جبکہ تحریک انصاف کا تیسرا اور اہم گروہ پارٹی کے ابتدائی کارکنان پر مشتمل ہے، جن کے مطابق وزیر اعلیٰ پنجاب ڈیلیور نہیں کر رہے اور انہیں کی وجہ سے پارٹی عوام میں اپنی مقبولیت کھو رہی ہے، اس لئے ان کا جانا انتہائی ضروری ہے۔ اس وقت پنجاب میں پہلا گروہ زیادہ مضبوط دکھائی دے رہا ہے، یہ گروہ اپوزیشن اور اتحادیوں کیساتھ بھی مکمل رابطے میں ہے اور ان کی خواہش ہے کہ کپتان جونہی اشارہ دیں، وہ تبدیلی کے سفر میں ابتدائی صفوں میں نظر آئے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب تخت لاہور پر براجمان ہوتے ہی سیاست کے اسرار و رموز سے واقف ہوچکیں، وہ اسی پر شادمان ہیں کہ کپتان ان پر خوش ہیں اور جب تک وزیر اعظم عمران خان ان سے راضی ہیں، انہیں کوئی بھی سرد اور گرم ہوا منصب سے ہٹا نہیں سکتی۔

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ وفاق میں اتحادیوں کی ناراضگی کا براہ راست اثر پنجاب پر بھی پڑ سکتا ہے، کیونکہ اس وقت پنجاب میں حکومت کی اہم اتحادی جماعت مسلم لیگ (ق) مشروط بنیادوں پر ایک ہفتے کےلئے حکومت سے راضی ہوئی ہے اور ہفتے کی مدت بھی ختم ہونے والی ہے۔ اس سارے عمل میں براہ راست پنجاب تبدیلی کے امکانات بڑھ جائیں گے اور اگر وزیر اعظم عثمان بزدار کو خود ہی ہٹھا دیتے ہیں تو وزیر اعلیٰ کی لابی کے افراد ان کیلئے مسئلہ کھڑا کر سکتے ہیں اور اگر وزیر اعطم اس سارے عمل کو نظر انداز کرتے ہیں تو پارٹی کے ناراض عہدیداران بھی حکومت کا کام آسان بنانے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ لیکن اگر اتحادیوں کی شرائط تسلیم نہیں کی جاتیں تو مسلم لیگ(ق) بھی اتحاد پر غور کرسکتی ہے، کیونکہ سیاست میں تعلقات نہیں بلکہ مفادات مقدم ہوتے ہیں۔ حالات کچھ بھی ہوں، وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو بہرحال عوامی فلاحی منصوبوں پر کام کرنا ہوگا کیونکہ عوام کو شخصیات سے زیادہ عوامی فلاحی منصوبوں سے غرض ہے۔ پنجاب کے عوام کو جتنا ریلیف ملے گا، وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کا اقتدار اتنا ہی طویل ہوتا جائے گا۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
Samaa blogs, Usman Buzdar tenure, CM Punjab, politics, PTI, PMLQ
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube