ہوم   >  بلاگز

طاہرہ عبداللہ نے فیمنزم کا مطلب سمجھا دیا

SAMAA | - Posted: Jan 20, 2020 | Last Updated: 1 month ago
SAMAA |
Posted: Jan 20, 2020 | Last Updated: 1 month ago

مصنف اور ڈائریکٹرخلیل الرحمان قمر سے ان کے لکھے مقبول ترین ڈرامہ ’’ میرے پاس تم ہو‘‘ کے مکالموں اور خیالات کے باعث کافی لوگ نالاں ہے۔ مگر وہ ہر پلیٹ فارم پر اپنے نقطہ نظر کا بھرپور دفاع کرتے نظر آرہے ہیں۔

سماء ٹی وی کے پروگرام نیوز بیٹ میں میزبان بیرسٹر احتشام نے خلیل الرحمان قمر، سماجی کارکن طاہرہ عبداللہ اور اویس توحید کو مدعو کیا۔ پروگرام کے تینوں میزبانوں کے مابین بھرپور مکالمہ ہوا جس میں طاہرہ عبداللہ نے عورت کی عظمت اور فیمنزم کا تصور واضح کیا۔

اویس توحید اور طاہرہ عبداللہ نے ایک موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ خلیل الرحمان قمر نے اپنے ڈراموں میں عورت کے حیا کو لباس سے جوڑ دیا ہے جبکہ خلیل الرحمان قمر نے اس کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ میں اس بات کا بالکل قائل نہیں کہ عورت کی حیا کو محض لباس سے جوڑ دیا جائے۔

طاہرہ عبداللہ کا کہنا تھا کہ سادہ اور انقلابی تعریف یہ ہے کہ فیمینزم کوئی تنظیم نہیں بلکہ انقلابی سوچ اور نقطہ نظر ہے جو سمجھتا ہے کہ ’’عورت بھی انسان ہے‘‘۔

قرآن کی آیت کا حوالہ دیتے ہوئے طاہرہ عبداللہ نے کہا کہ میری عزت کسی مرد کے ہاتھ میں نہیں، بلکہ میرے اندر ہے، میرے حقوق بھی کسی مرد کے ہاتھ میں نہیں ، میں اسی عورت سے پیدا کی جاتی ہوں جس سے مرد پیدا کیا جاتا ہے تو میں اپنے حقوق لیکر دنیا میں آتی ہوں جنہیں آئین پاکستان سے تحفظ ملتا ہے۔ نہ عورت نے کسی سے حقوق مانگنے ہیں نہ کسی نے دینے ہیں۔

انسانی حقوق کی کارکن نے دھیمے لہجے میں واضح کیا کہ عورت ماں ہو، بہن ہو ، بیوی ہو، بیٹی ہو لیکن انسان ہے اور اسے انسان تسلیم کیا جائے، وفا اور حیا کا پیمانہ مردوں نے طے کیا ہے اور یہ وہی مرد ہیں کہ عورت نے انہیں جنم دیا اور عورت کو ہی انہوں نے کوٹھے پر بٹھایا جس کے پاس مرد جاتے ہیں۔ یہ پیچیدہ گفتگو ہے۔ ہمیں یہ بتانے کیلئے مردوں کی ضرورت نہیں کہ ہم کون ہیں، کون اچھی عورت ہوتی ہے اور کون بری عورت ہوتی ہے۔

اس موقع پر خلیل الرحمان قمر نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ میں طاہرہ عبداللہ کا بیحد احترم کرتا ہوں لیکن علم نہ تھا کہ مردوں کے حقوق کی بات آئے تو یہ اتنا چِڑ جاتی ہیں۔ اگرحقوق مانگنے کا مسئلہ نہیں تو ہمارا تو جھگڑا ہی کوئی نہیں۔ میں نے ایسا کچھ نہیں کہا کہ آئین پاکستان کی روگردانی ہو۔

ڈرامہ ’’ میرے پاس تم ہو ‘‘ کے موضوع اور مختلف مکالموں کے باعث تنقید کا نشانہ بنائے جانے والے مصنف نے کہا کہ میں اس بات کو نہیں مانتا کہ عورت اور مرد کے حقوق برابرہوتے ہیں، میں جب عورت کا نام لوں تو احترام سے لیتا ہوں۔ نہ ان کے حقوق غضب کیے نہ ایسا چاہتے ہیں لیکن جب آپ پلے کارڈز لیکر نکلتی ہیں تو درحقیقت آپ مانگ رہی ہوتی ہیں، عورت کو پتہ ہی نہیں اس کے حقوق کیا ہیں، وہ مردوں کے حقوق میں سے حصہ مانگتی ہیں جو انہیں نہیں ملے گا۔

خلیل الرحمان قمر نے کہا کہ عورت کی حیا کی وجہ کپڑوں سے نہیں جوڑی، اس پروگرام کے دونوں شرکاء نے میرا ڈرامہ نہیں دیکھا، میرا موضوع نہیں ایمان ہے کہ حیا کا تعلق آپ کے کپڑوں سے نہیں ہوتا۔ بےحیائی معاشرے کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے کا طریقہ ہے۔ ہماری کچھ مذہبی حد بندیاں ہیں جنہیں ہرحال میں پورا کرنا ہوگا یا پھر ہم ان سے باہر نکل جائیں۔

طاہرہ عبداللہ نے عورتوں کے حقوق پر بات کرنے کیلئے اویس توحید کا شکریہ ادا کرتے ہوئے واضح کیا کہ میں سمجھتی تھی اور یہ ماننے کو جی چاہتا تھا کہ اب ہم 21ویں صدی میں ہیں لیکن ہم یہ سن سن کر تھک گئے ہیں کہ کون اچھا ہے ، کون برا۔ تنگ آگئے ہیں کہ اب مرد عورتوں کو بتائیں کہ ہم کیسے ہیں ، ہمیں کیا کرنا چاہیے، کیا پہننا چاہیے۔ اویس توحید نے ہماری بخوبی ترجمانی کی جس کیلئے ان کی شکرگزار ہوں۔

طاہرہ نے کہا کہ ملک میں  1200 سے 2000 کے قریب عورتیں ہر سال صرف اس شبے کی بنیاد پر ماردی جاتی ہیں کہ وہ غلط عورتیں ہیں۔ صدیوں سے پدرسری نظام چلتا آرہا ہے جس میں ایک خوفناک چیز کا اضافہ ہوا ہے ’’عورت سے نفرت‘‘۔ تم حیادارنہیں ہو، وفادارنہیں ہو، مجھے تم پر فضیلت ہے جیسی باتیں جبکہ کسی کا کسی کے اوپرحق نہیں۔ یہ کہا جاتا ہے کہ عورت کی فطرت میں وفا کرنا ہے اگر نہیں کرتی تو بری عورت ہے۔ مردکی فطرت میں دھوکہ دہی شامل ہے اور وہ ایسا کرے گا تو فطرتی مرد ہے۔

انہوں نے کہا کہ عورت کے ستر کی بات کی جاتی ہے لیکن یہ کیوں بھول جاتے ہی کہ وہیں مرد کو نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم دیاگیا ہے ، کثرت ازدواج کا ذکرہے تو وہاں یہ ذکر بھی ہے کہ بربابری نہیں کر پاؤ گے ، تو یہ باتیں ہم کیوں بھول جاتے ہیں۔

جواب میں خلیل الرحمان قمر کا کہنا تھا کہ مجھے مس کوڈ کیا جاتا ہے۔ میں کاروکاری جیسے فعل پر عورتوں سے بڑی گالی دیتا ہوں، افسوس ہے کہ کہاں میں نے مرد کو یہ کہہ دیا کہ تم وفاداری کے تصور سے آزاد ہو۔حیران ہوں میری سوچ پر قدغن کیوں لگائی جا رہی ہے، کیا میں اس بات سے مکرگیا ہوں کہ مرد کو نگاہ نیچی رکھنے کا حکم ہے۔

خلیل الرحمان سے سوال کیا گیا کہ انہوں نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ’’مرد کے پاس انکار کی قابلیت نہیں ہوتی جبکہ اچھی عورت انکار کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے‘‘ جس پر انہوں نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ یہاں میں عورت کی اچھائی بیان کی ہے۔ میرا کانسیپٹ ہے کہ مرد صریحا عشق میں ہو تو وہ بہت باوفا ہوتا ہے لیکن دوسرے حالات میں وہ مواقع سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ میں رشتے میں دھوکہ دہی کیخلاف ہوں اور اسے گالی دیتا ہوں ۔ آپ کسی تعلق میں نہیں ہیں تو جو دل میں آئے کریں۔

پروگرام کے آخر میں طاہرہ عبداللہ نے ایک نظم سناتے ہوئے خلیل الرحمان قمر پر واضح کیا کہ یہ نظم کسی عورت نے نہیں بلکہ ساھر لدھیانوی نے لکھی ہے۔

اویس توحید نے نقطہ اٹھایا کہ ڈراموں میں خواتین کو ہمیشہ مظلوم اورمحتاج دکھایا جاتا ہے حالانکہ بڑے شہروں میں موجود خواتین کے ہاسٹلز اس بات کی گواہی ہیں کہ چھوٹے شہروں کی خواتین بھی اب معاشی خود انحصاری کی جانب گامزن ہیں اور اپنے حقوق کا تحفظ کر رہی ہیں۔

خلیل الرحمان قمر نے کہا کہ اویس توحید نے میرے ڈرامے نہیں دیکھے۔ میں نے خواتین کو کسی طرح ڈکٹیٹ کیا اور نہ ہی خود انحصاری کی مخالفت کی ہے مگر ہم آزادی اور خود مختاری کے نام پر معاشرے کی جڑیں کھوکھلے نہیں کرسکتے۔ کچھ لوگ انگریزی کتابیں اور مغربی کلچر پڑھ کر اس کی روشنی میں سوچتے اور بات کرتے ہیں۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube