ہوم   >  بلاگز

جدید میڈیا میں شدت پسندی کا تدارک کیسے

SAMAA | - Posted: Jan 20, 2020 | Last Updated: 1 month ago
SAMAA |
Posted: Jan 20, 2020 | Last Updated: 1 month ago

فوٹو: اے ایف پی

دنیا بھر میں بالخصوص پاکستان میں کسی بھی ابھرتے ہوئے حساس نوعیت کے کیس میں سوشل میڈیا کی غلط معلومات نے اپنا منفی کردار ادا کیا ہے جس کی وجہ سے لوگوں کی جانوں کا ضیاع بھی ہوا ہے۔ حقائق کے برعکس تصاویر کے ذریعے پگڑیاں اچھالنے کا رواج بھی اپنے عروج پر ہے، یہ معلومات اور من پسند ترمیم شدہ تصاویر کی وجہ سے لوگوں کو گمراہ کیا جاتا ہے اور ایسی غلط معلومات نے لوگوں کو ناکردہ گناہوں کی سزا دلا دی ہے۔ سوشل میڈیا میں معلومات کا چوکیدار نہ ہونے کی وجہ سے مختلف گروہوں نے اپنے ہم خیال لوگوں کی ٹیمیں تشکیل دی ہوئی ہیں تاکہ لمحہ بہ لمحہ لوگوں کو غلط پٹی باندھ کر حقائق سے دور رکھا جائے۔

سوشل میڈیا کا غلط معلومات پر مبنی ’مواد‘ کا سب سے زیادہ نقصان تنازعاتی واقعات کے دوران اپنا کردار ادا کرتا ہے۔ پاکستان میں میڈیا اینکرز کو ہر شام ’بولنے‘ کےلیے موضوعات ملتے رہتے ہیں لیکن تنازعات کے اثرات اور حساسیت پر توجہ نہیں دی جاتی ہے۔ اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ سوشل میڈیا صارفین بالخصوص صحافی تنازعاتی موضوعات پر رپورٹنگ کی سوجھ بوجھ رکھے۔ بے وجہ اور بوجوہ سامنے آنے والے غلط معلومات کو پرکھ سکیں اور مختلف ذرائع سے ایسی معلومات کی تصدیق کے طریقہ کار سے آگاہی حاصل کرلیں۔

وزارت اطلاعات و نشریات کے تحت چلنے والے پاکستان پیس کولیکٹو اور ’سماء ڈیجیٹل‘ کے زیرِ اہتمام پرعزم پاکستان کے سابقین اور سماء ڈیجیٹل کے ٹیم کےلیے کراچی میں تین روزہ تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔ اس تربیتی ورکشاپ کا مقصد ہر قسم کے جھوٹی خبروں اور غیرتصدیق شدہ مواد سے آشنا کرنا تھا تاکہ فرق معلوم ہوسکے اور حقائق تک پہنچا جا سکے۔

استعداد کار میں اضافے کی اس ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے مذہبی اسکالر ڈاکٹر ریحان احمد یوسفی نے شدت پسندی اور دہشتگردی پر مبنی بیانیوں اور مشکلات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ آئے دن سامنے آنے والے معاملات بالخصوص مذہبی اور فرقہ وارانہ معاملات کے دوران سوشل میڈیا میں عام لوگوں کو گمراہ کیا جاتا ہے۔ صحافی ’الٹے اہرام‘ طرز کی شکل میں خبر کو سامنے لانے کے چکر میں کئی چیزوں کو سیاق و سباق سے باہر نکالتے ہیں، جبکہ اخبارات میں اکثر لوگ صرف سرخی کو دیکھ کر ہی خبر کے بارے میں پورا فیصلہ کرلیتے ہیں۔ ایسی خبریں مذہبی معاملات میں انتہائی حساس ہوتی ہیں، گھوٹکی میں نو عمر بچے نے پروفیسر کےخلاف توہین رسالت کی شکایت کی اور یہ خبر میڈیا اور سوشل میڈیا میں ’بھڑک‘ اٹھی اور کسی نے تحقیق تک نہیں کی کہ نوعمربچے کی شکایت و گواہی کیا حیثیت رکھتی ہے۔ بعد میں بچہ اپنے بیان سے بھی مکر گیا لیکن ابھی تک مین اسٹریم میڈیا میں یہ خبر نہیں چل سکی ہے۔ انہوں نے کہا اہرام مصر اس لئے شہرت پاگیا کہ اس کے تہہ میں بادشاہ خزانہ چھپاتے تھے اب خبر کو اس کی الٹ کرنے کی وجہ سے خزانہ بآسانی ہاتھ آجاتا ہے اور خبر کا خزانہ انتہائی خطرناک ہوتا ہے۔ انہوں نے انتہا پسندی میں عوام اور قیادت کے کردار کو الگ کرکے روشنی ڈالی۔ دہشت گردی کی اصل بیماری شدت پسندی ہے۔ انہوں نے موجودہ ملکی حالات اور سماجی رویوں کو اس شعر کے ذریعے واضح کیا کہ

مگس کو باغ میں جانے نہ دیجیو

کہ ناحق خون پروانے کا ہوگا

خبر کے اثرات و محرکات کے حوالے سے ماہر نفسیات و محقق ڈاکٹر یاسر آفاق نے اظہار خیال کرتے ہوئے بتایا کہ انسانی فطرت ہے کہ وہ اپنے اندر موجود تعصبانہ جراثیم کو ہی مضبوط کرتا ہے اور خبر سمیت کسی بھی تحریر سے وہی مواد کارآمد سمجھتا ہے جو اس کے ’تعصب‘ کو مزید مضبوط کر دے، جس کی وجہ سے سیکھنے کا عمل بھی سخت متاثر ہوتا ہے، اب جبکہ سوشل میڈیا کا دور ہے تو زیادہ تر صارفین اپنے پیدائشی تعصبات کو ہی اس کی زینت بناتے ہیں۔ صحافت جیسے شعبے میں کم از کم اس تعصب کو پہچاننے کی ضرورت ہے تاکہ اس پر نظرثانی کرسکیں ورنہ کسی میں تنقیدی خیال ابھر نہیں سکتا ہے۔

وقاص نعیم نے جدید میڈیا میں معلوماتی ’بگاڑ‘ پر اپنا نکتہ نظر سامنے رکھا اور بتایا کہ اگرغلطی سے کوئی غلط معلومات پھیلائی گئی ہوں تو اسے مس انفارمیشن کہا جاتا ہے جبکہ جان بوجھ کر غلط معلومات پھیلانے کو ڈس انفارمیشن کہا جاتا ہے جبکہ ایسا مواد جو غلط نہیں ہوتا مگر کسی کی شخصیت یا شہرت کو نقصان پہنچانے کے لئے پھیلایا جائے اسے ’مَل انفارمیشن‘ کہا جاتا ہے۔ وقاص نعیم نے شدت پسندی کے تناظر میں جعلی مواد کے چند حالیہ واقعات میں ہونے والے اثرات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ ایسے مواد کی تحقیق کےلیے مختلف طریقے ہیں، جدید میڈیا میں مواد کی تصدیق کےلیے سب سے پہلے اس کی اصلیت کو دیکھا جائے۔ کوئی بھی مواد انٹرنیٹ میں آجائے اس کا ایک مخصوص کوڈ ہوتا ہے جو کہ گوگل امیج ریورس جیسے ویب سائٹس سے حاصل کرکے معلوم کیا جاسکتا ہے۔

میڈیا کےلیے شدت پسندی اور دہشتگردی کے تدارک کا مواد بنانے کے حوالے سے پاکستان پیس کولیکٹو کے محمد اکمل خان اور عثمان ظفر نے شرکاء کو لیکچر دیا اور بتایا کہ سوشل میڈیا تیز ترین میڈیا ہونے اور بغیر ایڈیٹر یا گیپ کیپر کے کام کرنے کے باعث مواد سے بھرا ہوتا ہے، ایسے میں صارفین اور معلومات لینے والوں کےلیے اس بات کا فرق کرنا بہت مشکل ہوتا ہے کہ یہ شدت پسند نظریات ہیں یا حقائق ہیں، ان چیزوں کو جانچنے کےلیے ایک معیار وضع ہے جس کے ذریعے ایسے نظریات کی نشاندہی بڑی آسانی سے ہوسکتی ہے۔ شدت پسند نظریات اور دہشتگردی پر مبنی بیانیے کبھی بھی محرومیوں سے شروع ہوتے ہیں، اور بات ہمیشہ ’ہاں اور نا‘ جیسے آپشن پر رہے گی۔ بات سادہ زیادہ ہوگی اور بات کو گھماکر ماضی کی طرف لے جایا جائیگا، مدعا انصاف اور شکایت ناانصافی کی ہوگی، من پسند حاشیات پر مبنی ہوگی اور پسماندگی صرف ایک بہانہ ہوگا۔ ان سے نمٹنے کےلیے درمیان سے سوال نکالیں۔ بات کا سیاق و سباق ڈھونڈیں۔ ماضی کی بجائے حال اور مستقبل پر توجہ مرکوز کریں۔ برابری، اشتراکیت اور ہمدردی کے عنصر کو آگے لائیں اور پسماندگی کے خلاف آواز اٹھائیں۔

تین روزہ گفت و شنید کے اس سیشن میں پرعزم پاکستان کے محمد اکمل خان، عثمان ظفر، برہان الحق اور سماء ڈیجیٹل کی ایڈیٹر ماہم مہر ہمہ وقت موجود رہیں اور شرکاء کے سوالات کا جواب دیتے رہے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
counter extremism, modern media, Samaa blogs, TV, peace
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube