ہوم   >  بلاگز

تخریبی اشتراک

SAMAA | - Posted: Jan 16, 2020 | Last Updated: 1 month ago
SAMAA |
Posted: Jan 16, 2020 | Last Updated: 1 month ago

جمعہ 10 جنوری کوکوئٹہ کے علاقے سیٹلائٹ ٹاﺅن کے قریب اسحاق آباد کی ایک مسجد میں خودکش دھماکے میں 15 نمازی جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے۔ یہ سانحہ نماز مغرب کی ادائیگی کے دوران پیش آیا۔ دوسری صف میں کھڑے دہشتگرد نے جسم سے بندھے بم کا دھماکا کر دیا۔ یقینا مسلمان تھا، جس نے اپنے کلمہ گو مومن بھائیوں کو خون میں نہلایا۔ زندگی کے ساتھ اپنی آخرت بھی برباد کر دی۔ ذمہ داری داعش نامی گروہ نے قبول کرلی۔ جن سے وابستہ افراد کسی دوسری دنیا کی مخلوق نہیں ہیں۔ افغانستان کے بعض علاقوں میں کمین گاہیں رکھتے ہیں۔ بلوچستان کے اندر لشکر جھنگوی وغیرہ کے لوگ اور سابقہ قبائلی علاقوں کے شدت پسند مسلح گروہوں سے وابستہ افراد ان سے تعلق رکھتے ہیں۔ پاکستان کے اندر ان کا نیٹ ورک نہیں رہا ہے۔ البتہ شخصی ارتباط و روابط ضرور ہیں۔ پیش ازیں 7 جنوری کو کوئٹہ کے میکانگی روڈ پر دھماکا کیا گیا جس میں دو شہری جاں بحق، کئی زخمی ہوئے۔ یہ واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ دہشتگردوں نے پھر سے اپنے لوگ سبوتاژ کے لیے متحرک کر دیے۔

افغانستان کے اندر داعش نامی گروہ کی شناخت مبہم نہیں ہے۔ وہاں کے اہم افراد اسی طرح افغان طالبان بار ہا کہہ چکے ہیں کہ ان افراد کو امریکی سی آئی اے اور کابل انتظامیہ کی حمایت حاصل ہے۔ افغان طالبان قابض افواج کے ساتھ ان کو بھی ایک لمحہ برداشت نہیں کرتے۔ کئی بار انہیں جانی و مالی نقصان پہنچا چکے ہیں۔ طالبان اس گروہ کا محاصرہ کرتے ہیں تو امریکی، نیٹو اور افغان فورسز طالبان پر فضائی حملہ کرکے انہیں فرار کا موقع دیتی ہیں۔ امریکی نمائندے زلمے خلیل زاد اعتراف کرچکے ہیں کہ طالبان کو داعش کی سرکوبی میں کامیابیاں ملی ہیں۔ سابق افغان صدر حامد کرزئی مختلف اوقات پکار اٹھے ہیں کہ افغانستان میں داعش کی سرپرستی ہو رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس صورتحال میں نئی دہلی لا تعلق ہے۔

دراصل بھارت افغانستان کے اندر کلیدی کردار کا حامل ہے جو کابل انتظامیہ کی پوری عمل داری میں بے لگام ہے۔ بندوبست اور منصوبوں کا ہدف اگر پاکستان ہے، تو ساتھ افغانستان کے اندر امن عمل کو سبوتاژ کرنے کی سعی بھی کرتا ہے۔ اس ضمن میں ’’را‘‘ اور کابل انتظامیہ کے درمیان ارتباط و ہم آہنگی ہے۔ یہ امر بھی مبالغہ سے خالی ہے کہ کابل انتظامیہ کی ’’این ڈی ایس‘‘ امریکی ’’سی آئی اے‘‘ اور بھارتی ’’را‘‘ کے ایک شعبہ کے طور پر کام کرتی ہے۔ ایسے ہی جیسے سابقہ ’’خاد‘‘ کی حیثیت روسی اتحاد کے ’’کے جی بی‘‘ کی تھی۔ نور محمد ترہ کئی، ببرک کارمل اور ڈاکٹر نجیب اللہ روسی مشیروں، معاونین اور کے جی بی کے ماتحت تھے۔ ان کی ہر وزارت روسی معاونین و مشیر چلاتے تھے۔ کابل ریڈیو اور سرکاری ٹی وی کے اندر تک روسی بیٹھے ہوئے تھے۔ موجودہ کابل رجیم بھی تحتُ الاثر ہے، بھارتی اور امریکی پراکسیس ہیں، بیرونی ہدایات پر عمل کی پابند ہیں۔ اپنے عوام اور ملک کے مفادات سے زیادہ انہیں واشنگٹن اور نئی دہلی کی رضا مقدم ہے۔

کوئٹہ کی مسجد میں دھماکا، 15 افراد شہید، متعدد زخمی

چناںچہ کوئٹہ کے اس خودکش حملے کے بعد جاسوسی کے ان اداروں نے حملے کی تشہیر اپنے مقصد کے تحت کرلی۔ یقینی طور پر دھماکے سے ’’را‘‘ اور ’’این ڈی ایس‘‘ لا تعلق نہیں ہیں۔ اس گروہ اور بعض افغان ابلاغی حلقوں نے خبر اُڑائی کہ ’’طالبان کے شیڈو چیف جسٹس شیخ عبدالحکیم زخمی ہوگئے جبکہ کوئٹہ شوریٰ کے حلیم احمد خان، گل آغا اخوند اور امان اللہ سمیت ان کے جنگجو جاں بحق ہوگئے۔ مزید یہ کہ عبدالطیف اور نظر محمد نامی افراد جو طالبان کےلیے فنڈز اکٹھے کرنے پر مامور تھے، بھی چل بسے۔ نیز بھونڈا پروپیگنڈا یہ بھی کیا کہ مسجد میں طالبان کی میٹنگ ہو رہی تھی۔ جس میں پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی اور منشیات کے اسمگلر بھی شریک تھے‘‘۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ دھماکے میں نشانہ بننے والوں میں کوئی بھی نامعلوم الاسم شخص نہ تھا۔ تمام کی شناخت ولدیت سمیت ہوچکی ہے، جن میں 6 افغان باشندے تھے۔ اس محلے کے رہائشی بلوچستان پولیس کے آفیسر ڈی ایس پی امان اللہ اسحاق زئی بھی جاں بحق ہوئے۔ یہ محلے کی مسجد ہے، اہل محلہ نماز ادا کرتے ہیں۔ دوئم، طالبان افغانستان کے غالب حصے پر کنٹرول رکھتے ہیں انہیں یہاں میٹنگ کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ رہی یہ بات کہ آئی ایس آئی کے لوگ شریک تھے تو پھر تو یہ اجلاس کوئٹہ چھاﺅنی جیسے محفوظ مقام پر ہونا چاہیے تھا۔ سوئم بلوچستان و کوئٹہ کے اندر ہزاروں لاکھوں افغان باشندے مقیم ہیں۔ اور روزانہ ہزاروں افغان باشندے پاکستان آتے اور جاتے ہیں۔ افغان سرکاری اداروں و محکموں کے ملازمین کے رشتہ دار اور خاندان کے افراد یہاں رہائش رکھتے ہیں۔ وہاں کے بڑے بڑے سیاستدان، معتبرین اور اراکین پارلیمنٹ کے خاندان یہاں سکونت پذیر ہیں۔ یعنی تجارت پیشہ ہوں یا سرکاری لوگ سب کا پاکستان آ نا جانا رہتا ہے۔ گویا نہ آنے کی قید کسی پر نہیں ہے۔ یہاں کی مساجد اور مدارس میں افغان طلباء تعلیم کی غرض سے مقیم ہیں۔ بعینہ عصری تعلیمی اداروں میں پڑھتے ہیں۔ بلکہ افغان قومی کرکٹ ٹیم کے بیشتر کھلاڑی پاکستان میں پلے بڑھے ہیں۔ ان کی تعلیم و تربیت حتیٰ کہ کرکٹ سے وابستگی بھی پاکستان میں ہی ہوئی ہے۔

سو افغانستان کی اس بڑی سیاسی و مزاحمتی تحریک کا افغان عوام ہی حصہ ہیں۔ ان کے وابستگان کی پاکستان میں رہائش حیرانگی و اَچنبھے کی بات ہرگز نہیں ہے۔ نہ شیخ عبدالحکیم اس دھماکے میں زخمی ہوئے ہیں۔ دہشتگردی میں اسحاق آباد کے معصوم لوگ جان سے گئے ہیں۔ ذمہ داری کوئی بھی قبول کرے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ مردم کشی ”را“ اور اس کے طفیلی افغان جاسوسی کے ادارے ” این ڈی ایس“ نے کی ہے۔ پاکستان کے نقصان و بدنامی کی کوشش کے ساتھ، مقصد امریکا اور طالبان کے درمیان معاہدے میں رخنہ ڈالنا بھی ہے۔

چند ماہ قبل کوئٹہ کے کچلاک کی ایک مسجد میں طالبان تحریک کے امیر مولوی ہیبت اللہ اخونزادہ کے بھائی حافظ احمداللہ کو بم دھماکے میں قتل کر دیا۔ بعض پشتون سیاسی مکتبہ فکر کا اس نوع کی دہشت گردی کی مذمت سے گریز بھی عیاں کرتا ہے کہ ان واقعات میں ہمسایہ ممالک کے ادارے ملوث ہیں۔ گویا نئی دہلی اور کابل کی پاکستانی پراکسیس کا داعش وغیرہ اور ’’را‘‘ و ’’این ڈی ایس‘‘ کے اشتراک و تخریبی عملیات پر سوال نہ اُٹھانا بھی ایک سوال ہے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
Pakistan, Quetta blast, Afghanistan, India, CIA, NDS, RAW, terrorism
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube