ہوم   >  بلاگز

پاکستان میں فارمیسی کےشعبےمیں نوکری کےسنہری مواقع

SAMAA | - Posted: Jan 8, 2020 | Last Updated: 1 week ago
SAMAA |
Posted: Jan 8, 2020 | Last Updated: 1 week ago

پاکستان میں تعلیم یافتہ فارمیسسٹ کی کمی ہے۔ اس وجہ سے کراچی یونی ورسٹی ہر برس سالانہ جاب فیئرکا انعقاد کرتا ہےجہاں طالبعلموں کوایسےاداروں سے منسلک کیا جاتا ہےجوروزگار کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔

ڈین فیکلٹی آف فارمیسی اینڈ فارماسیکوٹیکل سروسز ڈاکٹر راحیلہ اکرام نے سماء ڈیجیٹل سے بات کرتےہوئے بتایا کہ اس سال ڈیواگو،میری اسٹوپس فارمیسی کی میری فارمیسی اور سپرمیڈ کو جاب فئیر میں مدعو کیا گیا۔ انھوں نے نوکریوں کے لیے طالبعلموں کے انٹرویوز لئے۔ انھوں نے کہا کہ فارما سیکٹرز میں بہتری کا کام یہاں یونی ورسٹی سےشروع ہوتا ہے۔

ایسوسی ایٹ پروفیسر فیکلٹی آف فارمیسی  ڈاکٹر عیاد نعیم نے بتایا کہ بہتری کے بہت مواقع موجود ہیں۔ اسپتال میں موجود ہر 15 بستروں کے مریضوں کےلیے ایک لائسنس یافتہ  فارمیسسٹ ضروری ہوتا ہے۔ تاہم یہاں کے اسپتالوں کےلیے ایسا نہیں ہوتا۔

انھوں نے بتایا کہ عالمی ادارہ صحت کے 2012 کے ڈیٹا کے مطابق پاکستان میں ہر 10ہزار افراد کے لیے 1.4 فارمیسسٹ دستیاب ہوتا ہے۔ عالمی پیمانے کے تحت 2000 افراد کے لیے ایک فارمیسسٹ ضروری ہوتا ہے۔

فارمیسیوں کوغیرمعمولی انداز میں قائم کیا جاتا ہے اور زیادہ ترمیں لائسنس یافتہ فارمیسٹ نہیں ہوتےجوخود بخود ہی سرٹیفیکٹ کے بغیر ہی کام کرتے ہیں۔

اسپتالوں کے لیے رجسٹرڈ ہونے کی شرط لازمی ہوتی ہے تاہم زیادہ تر اسپتالوں میں باقاعدہ فارمیسی کی سہولت نہیں ہوتی، جہاں فارمیسی کی تعلیم حاصل کرنے والے کام کرسکیں تاکہ وہ ہیلتھ کیئر نظام کا اہم جز بن سکیں۔

فارمیسی کونسل آف پاکستان کے تسلیم کردہ ملک میں بہت کم ادارے ہیں جہاں فارمیسی کی تعلیم دی جاتی ہے۔ ایسے اداروں کی تعداد 46 ہے۔ پبلک سیکٹرز میں تسلیم شدہ21 ادارے ہیں جبکہ پرائیوٹ سیکٹر میں ان اداروں کی تعداد 25 ہے۔

چئیرمین آف پیشنٹس رائٹس فورم کے ڈاکٹر نور نے پچھلے برس دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان میں صرف 5 فیصد فارمیسیوں میں تعلیم یافتہ فارمیسسٹ موجود ہیں۔

ڈاکٹر نعیم نے بتایا کہ فارمیسی کےکوالی فائیڈ ہونےکےکچھ طریقے موجود ہیں۔ فارمیسی رجسٹرڈ اور لائسنس یافتہ ہونی چاہیے۔ ان فارمیسیوں میں کام کرنے والے رجسٹرڈ ،لائسنس یافتہ اور فل ٹائم کام کرنے والے ہونے چاہئے۔ فارمیسی کی حدود بھی رجسٹرڈ ہونی چاہئے۔ ادویات کو اسٹور کرنے کا طریقہ کار واضح ہونا چاہئے۔

ڈیواگو کمپنی کے منیجر آف فارمیسی آپریشنز ڈاکٹر مسعود احمد نے یہ قواعد تسلیم کرتے ہوئے بتایا کہ کیسے ان کا ادارہ فارمیسی کے شعبے میں بہتری لانے کا کام کررہا ہے۔

ڈیواگو کمپنی نے کراچی یونی ورسٹی سے حال ہی میں تعلیم مکمل کرنےوالے10 فارمیسسٹ کو کیرئیر فیئر کے بعد نوکری دینے کا فیصلہ کیا۔ انھیں دوران ملازمت تربیت کےعلاوہ اچھی تنخواہ بھی دی جائے گی۔

 انھوں نے مزید بتایا کہ اس اقدام کا مقصد کچھ پریشان کن اعدادوشمار تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ملنے والی 40 فیصد سے زائد ادویات جعلی یا انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ہوتی ہیں۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ ڈاکٹر ایک مریض کو کوئی دوا لکھ کر دیتا ہے مگر مریض کو فارمیسی سے کوئی اور دوا فراہم کی جاتی ہے۔ اس کے خطرناک نتائج ہوسکتے ہیں اور مریض کی موت بھی واقع ہوسکتی ہے۔ نامور فارمیسیٹ عبدالطیف شیخ نے بتایا کہ پچھلے برس پاکستان میں 5 لاکھ افراد غلط ادویات لکھے جانے کے باعث انتقال کرگئے۔

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں
 
 
 
 
 
 
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube