ہوم   > بین الاقوامی

قاسم سلیمانی: مشرق وسطیٰ میں طاقتور ترین ایرانی کمانڈر

SAMAA | - Posted: Jan 3, 2020 | Last Updated: 1 month ago
SAMAA |
Posted: Jan 3, 2020 | Last Updated: 1 month ago

جنرل قاسم سلیمانی صرف ایران کی پاسداران انقلاب کی القدس فورس کے سربراہ نہیں تھے بلکہ پورے مشرق وسطیٰ میں ایک طاقتور ترین شخصیت کے طور پر دیکھے جاتے تھے۔

امریکی فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن کے سابق اسپیشل ایجنٹ علی سوفان اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں کہ موجودہ ایران کو پوری طرح اس وقت تک نہیں سمجھا جاسکتا جب تک جنرل سلیمانی کو نہ سمجھ لیا جائے۔

جنرل سلیمانی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ایران کی شام، لبنان، عراق اور یمن میں موجودہ جنگی پالیسیوں اور حکمت عملی کے مؤجد تھے۔ سلیمانی کی موجودگی میں ایران نے سرکاری اور غیرسرکاری مسلح گروہوں کا استعمال کرتے ہوئے نا صرف اپنے اتحادیوں کو مزید طاقتور بنایا بلکہ ایران کو بھی مشرق وسطیٰ میں ایک بڑی طاقت میں تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

سلیمانی کا اثر و رسوخ

علی صوفان لکھتے ہیں کہ بشار الاسد کی شام میں حکومت بچانے کا سہرا بھی جنرل سلیمانی کے سر جاتا ہے، موجودہ دور میں ایران کا شام سے اتحاد اتنا طاقتور ہوچکا ہے کہ اگر جنرل سلیمانی چاہیں تو تہران سے لبنان اور اسرائیل کی سرحد تک بلا روک ٹوک آزادی سے سفر کرسکتے ہیں۔

امریکی میگزین دی نیویارکر کے مطابق شام میں بشار الاسد کے دشمنوں کے خلاف جنرل سلیمانی خود دمشق میں رہ کر جنگ کی نگرانی کرتے تھے۔

ایران کی پاسداران انقلاب کی القدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی جمعہ کے روز امریکی فوج کے عراق میں کئے گئے ایک میزائل حملے میں مارے گئے، ان کے ساتھ عراقی فوج کے گروپ ہشید ال شابی کے ڈپٹی ہیڈ ابومہدی المہندس بھی ہلاک ہونیوالوں میں شامل ہیں۔

امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر کی گئی۔ امریکا نے دعویٰ کیا ہے کہ قاسم سلیمانی امریکی سفارتکاروں اور عراق میں موجود امریکی فوجیوں پر حملے سمیت خطے میں امریکی مفادات پر حملوں کی منصوبہ بندی میں ملوث تھے۔

عراقی فوج کے ایک سابق افسر کے مطابق قاسم سلیمانی کم گو اور زیادہ تر چپ رہنے والے شخص تھے، جب بھی وہ گفتگو کرتے، ان کا لہجہ دھیما ہوتا تھا۔ انہیں خِلب بھی کہا جاتا تھا جس کے معنی پُرکشش شخصیت کے حامل شخص کے ہوتے ہیں۔

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای سے جنرل سلیمانی کا گہرا تعلق رہا، رہبر اعلیٰ انہیں انقلاب ایران کا زندہ شہید قرار دیتے تھے۔

مخالفین کی سلیمانی سے متعلق رائے

اسرائیلی خفیہ ایجنسی کے سابق سربراہ میئر ڈاگن نے نیوریاکر کو بتایا کہ جنرل سلیمانی سیاسی طور پر ایک چالاک طبعیت کے مالک ہیں اور ان کے تعلقات ہر کسی کے ساتھ ہیں۔

جنرل سلیمانی ایک کامیاب جنگی کمانڈر ہونے کے باوجود اپنے خاندان کا بے حد خیال رکھا کرتے تھے، مشرق وسطیٰ کے ایک سیکورٹی افسر کے مطابق سلیمانی اپنی بیوی سے عزت سے پیش آتے تھے اور کبھی کبھی ان کے ساتھ گھومنے بھی جاتے تھے، ان کے تین بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔

مغربی انٹیلی جنس افسران کے مطابق 2010ء میں حزب اللہ اور ایران نے امریکا اور اسرائیل کیخلاف ایک نئی مہم کا آغاز کیا، یہ مہم ایران کے نیو کلئیر پروگرام کیخلاف اٹھائے جانے والے اقدامات کا ردعمل تھی۔ نیویارکر کے مطابق قاسم سلیمانی نے اس کے بعد مغربی مفادات کیخلاف متعدد حملے کروائے، یہ حملے ایران سے بہت دور تھائی لینڈ، نئی دہلی، لاگوس اور نیروبی تک جاپہنچے۔

امریکی میگزین میں ڈیکسٹر فلکنز نے لکھا ہے کہ 2011ء میں جنرل سلیمانی نے میکسیکو کے ایک ڈرگ کارٹیل کو پیسے دیکر وائٹ ہاؤس کے قریب امریکا میں موجود اس وقت کے سعودی سفیر کو بم دھماکے سے اڑانے کا منصوبہ بھی بنایا جو کہ ناکام رہا۔

ڈیکسٹر فلکنز لکھتے ہیں کہ اس کے بعد دو سابق امریکی سیکیورٹی افسران نے کانگریس کی ایک کمیٹی میں تجویز پیش کی کہ جنرل سلیمانی کو مار دینا چاہئے، ان میں سے ایک سیکیورٹی افسر نے مزید کہا کہ سلیمانی زیادہ تر سفر میں رہتے ہیں، یا تو انہیں پکڑ لینا چاہئے یا قتل کردینا چاہئے۔ اس کمیٹی کی میٹنگ کے بعد ایران کے حامیوں نے سوشل میڈیا پر ایک مہم چلائی جس کا عنوان تھا ’’وی آر آل قاسم سلیمانی‘‘۔

ڈیکسٹر فلکنز لکھتے ہیں کہ مشرق وسطیٰ کی شخصیات جنہیں وہ دہائیوں سے جانتے ہیں وہ قاسم سلیمانی کا نام سنتے ہی خاموش ہوجاتے ہیں۔ ایک کرد افسر سے جب انہوں نے سلیمانی سے متعلق سوال کیا تو اس نے کہا ہمارا اس سے کچھ لینا دینا نہیں، امریکی جاسوس بھی جنرل سلیمانی کو ایک علیحدہ کیٹیگری میں شمار کرتے ہیں، ایک ایسا دشمن جس سے وہ نفرت بھی کرتے ہیں اور پسند بھی کرتے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور سلیمانی کے درمیان لفظی جنگ

سال 2018ء میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ٹویٹر پیغام میں ایرانی صدر حسن روحانی کو دھکمی دی کہ اگر ایران نے کبھی امریکا کو دھمکانے کی کوشش کی تو اسے اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔

صدر ٹرمپ کی اس دھمکی آمیز ٹویٹ کا جواب صدر روحانی نے نہیں بلکہ جنرل سلیمانی نے دیا۔ علی صوفان اپنے مضمون میں لکھتے ہیں کہ ایران کے شہر ہمدان میں ایک تقریر کے دوران جنرل سلیمانی نے امریکی صدر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ کے بیان کا جواب دینا ایرانی صدر کی شان کیخلاف ہے، اس لئے وہ خود بحیثیت ایک سپاہی ٹرمپ کو جواب دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ دنیا سے کسی بار ٹینڈر یا کسینو کے مینیجر کی طر ح بات کرتے ہیں۔ اپنی تقریر کا اختتام پر انہوں نے امریکا کو دھمکی دیتے ہوئے کیا کہ ’’ڈونلڈ ٹرمپ تم خطے میں ہماری طاقت اور قابلیت کو اچھی طرح جانتے ہو کہ ہم اس طرح کی جنگ کیلئے کتنے طاقتور ہیں۔ آجاؤ ہم تمہارا انتظار کررہے ہیں۔ ہم موقع پر موجود ہیں۔ تم جانتے ہو کہ ایسی جنگ میں تم اپنی تمام قابلیت کھودو گے۔ تم شاید اس جنگ کی شروعات کرلو لیکن اس جنگ کے اختتام کا تعین ہم کریں گے۔‘‘

قاسم سلیمانی کا عروج

علی صوفان کے مطابق جنرل سلیمانی کا تعلق ایرانی صوبے کرمان کے ایک پہاڑی گاؤں سے تھا، جہاں وہ 1953ء میں پیدا ہوئے، 13 برس کی عمر میں انہیں خاندان کے معاشی حالات خراب ہونے کے باعث  اسکول چھوڑنا پڑا اور وہ کرمان کے مرکزی شہر میں مزدوری کرنے لگے، جبکہ 1978ء میں انقلاب ایران کی شروعات کے وقت وہ علاقائی فراہمی آب کے محکمے میں ٹیکنیشن بن چکے تھے۔

سلیمانی نے اپریل 1979ء میں پاسداران انقلاب بننے کے بعد اس میں شمولیت اختیار کی، علی صوفان اپنے مضمون میں لکھتے ہیں کہ سلیمانی کی ساکھ ایک ایسے افسر جیسی تھی جو اپنے سپاہیوں کا خیال رکھتا تھا۔ سلیمانی اپنے سپاہیوں میں ’’دی گوٹ تھیف‘‘ یعنی بکری چور مشہور تھے، ان کا یہ نام اس لئے پڑا کیونکہ وہ جنگ کے دوران اپنے سپاہیوں کیلئے بکریاں لے آتے اور انہیں کھلاتے تھے۔

عراقی لیڈران داعش کیخلاف کامیاب جنگ کا کریڈٹ بھی سلیمانی کو دیتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ سوئٹزر لینڈ میں ایک تقریر کے دوران سابق عراقی وزیراعظم حیدر العابدی نے ایران کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے عراق کو بغیر پیسوں کے اسلحہ اور بارود فراہم کیا۔ حیدر العابدی نے خاص طور پر جنرل قاسم سلیمانی کا نام لیکر تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ داعش کے خلاف جنگ میں عراق کے سب سے اہم اتحادی ہیں۔

قاسم سلیمانی کے ملٹری کیرئیر کی جھلکیاں

سلیمانی نے 1970ء کی دہائی میں پاسداران انقلاب میں شمولیت اختیار کی۔

وہ 1980ء کی دہائی میں ایران اور عراق جنگ کے دوران ہر محاذ پر لڑتے نظر آئے اور پاسداران انقلاب کے اکتالیسویں ڈیویژن کے لیڈر بن گئے، جنگ کے خاتمے کے بعد سلیمانی کو ان کے آبائی صوبے کرمان بھیج دیا گیا جہاں انہیں ایرانی منشیات فروشوں کیخلاف کارروائیاں کرنے کی ذمہ داریاں سونپی گئیں۔

جنرل سلیمانی کو 1990ء کی دہائی میں پاسداران انقلاب کی القدس فورس کا کمانڈر بنادیا گیا اور انہوں نے افغان طالبان کیخلاف ایرانی فوجی اقدامات کی نگرانی کی اور افغانستان میں شمالی اتحاد کے ساتھ شراکت داری استوار کی۔

جنرل سلیمانی نے 2000 کی دہائی میں عراق پر امریکی حملے کے بعد  شیعہ جنگجوؤں کے گروہ بنائے، جنہوں نے امریکا اور اس کے اتحادیوں کے خلاف جنگ میں بھرپور حصہ لیا، 2006ء میں انہوں نے حزب اللہ کی اسرائیل کیخلاف جنگ میں تزویراتی معاونت کی۔ 2008ء میں انہوں نے سینئر امریکی جنرل ڈیوڈ پیٹریاس کو ایک پیغام بھیجا جس میں انہیں بتایا کہ وہ ایران کی عراق، شام، لبنان، غزہ اور افغانستان کی پالیسیوں کو کنٹرول کرتے ہیں۔

داعش کیخلاف جنگ میں 2010ء کی دہائی میں سلیمانی کا بہت بڑا کردار تھا۔ انہوں نے عراق میں موجود مقدس مقامات کی حفاظت کیلئے متعدد جنگجو گروہ تشکیل دیئے، جن میں سے ایک زینبیون بریگیڈ بھی ہے جس میں پاکستانی شیعہ نوجوان بھی شامل تھے۔

اس مضمون کی تیاری میں دی نیویارکر کیلئے ڈیکسٹر فلکنز کے آرٹیکل اور کامبیٹنگ ٹیررازم سینٹر کے میگزین میں علی صوفان کے مضمون سے مدد لی گئی ہے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
IRAN, US, IRAQ, QASEM SOLEIMANI, INTELLIGENCE, BAGHDAD, MISSILE ATTACK, SYRIA, ISRAEL, DONALD TRUMP
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube