Saturday, August 8, 2020  | 17 Zilhaj, 1441
ہوم   > بلاگز

اداروں میں مافیا سسٹم کا راج

SAMAA | - Posted: Jan 2, 2020 | Last Updated: 7 months ago
SAMAA |
Posted: Jan 2, 2020 | Last Updated: 7 months ago

ڈیڑھ سال قبل اگر پی ٹی آئی کا تصور کیا جائے تو ایسی سیاسی جماعت کا خیال ذہن میں ابھرتا  ہے جو  نوجوان نسل  کے بہتر مستقبل کی آمین ہے۔ مہنگائی ،بے روزگاری جیسے مسائل اوربحرانوں میں گھِری معیشت کپتان کے کھلاڑیوں کی ایک چٹکی کی منتظر ہے۔ایسی سیاسی جماعت جس کے اقتدار میں آنے کے بعد تمام اداروں سےسیاسی اثرو رسوخ ختم ہو گا، سفارش اور رشو ت  جیسے ناسور  سے بچنے کیلئے سخت قوانین متعارف کروائے جائیں گے ،ہر قسم کے مافیا  کی حکومتی سطح پر ناصرف حوصلہ شکنی کی جائے گی بلکہ سخت قانونی کارروائی  بھی عمل میں لائی جائے گی، کرپٹ سیاستدانوں اور اشرافیہ کا کڑا احتساب ہوگا،پاکستان ایک ایسی فلاحی ریاست ہوگی جس میں عام شہری کو بہتر معیار زندگی فراہم کیا جائے گا۔

ڈیڑھ سال قبل پکنے والے اس خیالی پلاؤ کی خوشبو اس قدر لذیز تھی کہ پاکستانی عوام اس کو کھائے بنا رہ سکی ، جس کی مرہون منت انتخابات 2018 میں  عمران خان کو اپنی صلاحیتیں دکھانے کا موقع ملا۔

اقتدار میں آنے کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے کہا تھا کہ  میں کرپشن ختم کر نے کیلئے فرشتے کہاں سے لاؤں ، میں ادارے ایسے بناؤں گا کہ کوئی کرپشن کرہی  نہیں سکے گا۔ کپتان  کے دیگر دعوؤں کی طرح یہ بات بھی شاید انتخابات تک ہی محدود تھی کیونکہ پی ٹی آئی قیادت نے بین الصوبائی مفادات کی آڑ  میں ایسے ادارے  کو بگاڑنے  کا تہیہ کر لیا  ہے جو  کرپشن کے بغیر کام کر رہاہے۔پاکستان کے دیگر اداروں کا کباڑہ تو تقریباً نکل ہی چکا ہے لیکن خوراک کی فراہمی کیلئے کرپشن فری اور رول ماڈل ادارے  سےقانون سازی کے  اختیارات لے کر ایسے ادارے کو تفویض کیے گئے  ہیں جہاں کرپشن روز  کا معمول  بن چکا ہے۔

وہ مافیا  جس کو کافی عرصے سے اپنی ناقص اورغیر معیاری پروڈکٹس بیچنے میں کافی مشکلات حائل تھیں، ان کو فیصلہ سازی  کے ایوانوں سے بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں پنجاب فوڈ اتھارٹی سمیت پاکستان میں کام کرنے والی دیگر اتھارٹیز کے اختیارات ختم کر کے وفاقی ادارے”پاکستان اسٹینڈرڈ اینڈ کوالٹی کنٹرول  اتھارٹی” کو منتقل کیے گئے ہیں  جو کہ آئین پاکستان کی خلاف ورزی ہے۔ آئین کے آرٹیکل 154 میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ خوراک کےمعیار اور کوالٹی کا تعین کرنا صوبوں کے ذمہ  ہے اور اس بات کی وضاحت سپریم کورٹ آف پاکستان نے بھی کی ہے۔ صوبائی سطح پر اختیارات ختم کیے جانے کے بعد ایسے ادارے کو منتقل کیے گئے ہیں جہاں  فوڈ مافیا کی دسترس ہے اور وہ اپنی غیر معیاری اور ناقص پروڈکشن کی رجسٹریشن آسانی سے کروا سکتے ہیں۔

فوڈ مافیا  کےعلاوہ کئی اعلیٰ پائے کے سیاستدان بھی پنجاب فوڈ اتھارٹی کیخلاف  تھے۔ چند ماہ قبل اسپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہی نے دوران اجلاس اتھارٹی کےحوالے سے سخت ردعمل کا اظہار کیا تھا کیونکہ گلبرگ لاہور میں واقع  ریسٹورنٹ کو اتھارٹی نے حفظان صحت کے ناقص انتظامات پرسیل کیا تھا اور وہ اسپیکر پنجاب اسمبلی کے انتہائی قریبی عزیز کی ملکیت ہے۔

شہباز شریف نے اپنے دور اقتدار میں اس ادارے کو فعال کرنے کیلئے نہ صرف فوڈ مافیا بلکہ سیاسی جماعتوں کا دباؤ برداشت کیا۔ فوڈ سیفٹی ٹیموں نےکسی وڈیرے یا جاگیر دار کے دباؤ میں آئے بغیر معیاری خوراک کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے دن رات کاوشیں کیں ۔یہی وجہ ہے عالمی سطح پر ادارے کی کارکردگی کو سراہا گیا۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارو ں نے پنجاب فوڈ اتھارٹی  کے قوانین اورمعیاری خوراک کی فراہمی کیلئےکی جانے والی کاوشوں پر مثبت ردعمل کا اظہار کیا ۔

پنجاب فوڈ اتھارٹی نے خوراک کے حوالے سے جو معیار طے کر رکھا تھا،اس سے عوام دشمن عناصر کو کافی پریشانیاں لاحق تھی۔غیر معیاری  فلیورز اور کیمیکلز سے جوسز اور کولڈ ڈرنکس  تیار کرنے والی کمپنیوں کیخلاف  اتھارٹی سختی سے نبرد آزما تھی  لیکن قانون سازی اور اجزائے ترکیبی کے معیار طے کرنے کے اختیارات چھینے جانے کے بعد فوڈ مافیا کو پنجاب سمیت دیگر صوبوں میں ناقص پروڈکٹس  مارکیٹ میں فروخت کر نے میں کافی حد تک آسانی ہوجائے گی۔

 اگر” پاکستان اسٹینڈرڈ اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی ” کے23 سالہ ریکارڈ اور پرفارمنس کا جائزہ لیا جائے تومعلوم ہوتا ہے کہ ناقص میٹریل سے تیاراشیاء کو با آسانی پاکستان اسٹینڈرڈ  کا سرٹیفکیٹ بانٹا جاتا ہے۔ کسی بھی چیز کوسرکاری اورغیرسرکاری فیس کی مدد سے با آسانی رجسٹر کروایا جا سکتا ہے۔ اس ادارے کی شفافیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ “پی ایس کیو سی اے ” کے سیکریٹری، ڈائریکٹر اور ڈپٹی ڈائریکٹر پرنیب اور ایف آئی اے کی جانب سے 33 انکوائریاں چل رہی ہیں۔

مشترکہ مفادات کونسل  کےاجلاس میں  وزیراعظم عمران خان  اور دیگر شرکاء کو بتایا گیا کہ خوراک کے معیار کے حوالے سے تمام ترقی یافتہ ممالک میں یکساں قوانین نافذ ہیں ۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی خوراک کے حوالے سے قانون سازی کرنے میں حد سے تجاوز کرتی ہے۔

وفاقی حکومت کے مطابق “پی ایس کیوسی اے ” پاکستان بھر میں خوراک کے معیار اور اجزائے ترکیبی کے حوالے سے یکساں قانون سازی کرے گی لیکن پنجاب فوڈ اتھارٹی کے قوانین کے مطابق عام شہریوں کی صحت  اورموسمیاتی یا علاقائی تبدیلیوں  کو پیش نظر  رکھتے ہوئے کسی بھی پروڈکٹ   کے اجزائے ترکیبی کو نہ صرف بدلا جا سکتا ہے بلکہ مکمل طور پربند بھی کیا جاتا ہے  لیکن کسی بھ پروڈکٹ کو بند کرنے سے قبل  کمپنی کو متبادل پروڈکٹ لانے کا ٹائم دیا جاتا ہے۔ اتھارٹی کا مقصد معاشرے میں خوف کی فضا پیدا کرنا نہیں بلکہ معیاری خوراک بنانے والوں کی حوصلہ کرنا ہے تاکہ عام شہریوں کو صحت  بخش خوراک  کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔

امریکہ سمیت تمام ترقی یافتہ ممالک بھی پنجاب فوڈ اتھارٹی کے طرز کے قوانین پر عمل پیراہیں۔ مثال کے طور پرپاکستان کے شمالی علاقہ جات میں  بسنے والے افراد کو نمک میں آئیوڈین کی مقدار کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے جبکہ پاکستان کے دیگر علاقوں میں آئیو ڈین کی مقدار کی اس قدر ضرورت نہیں ہوتی،یہی صورتحال دیگر روزمرہ استعمال ہو نے والی اشیاء کی ہے۔ پاکستان میں علاقائی تبدیلوں کے پیش نظر خوراک کا یکساں معیار  کیسے نافذ کیا جا سکتا ہے؟اگر کوئی کمپنی اپنی پروڈکٹ  کو “پی ایس کیو سی اے “میں رجسٹر کرواتی ہے تو پنجاب فوڈ اتھارٹی  سمیت دیگر فعال اتھارٹیزاس کے خلاف کارروائی کرنے کی مجاز نہیں ہونگی۔

پنجاب فوڈ اتھارٹی  نے دودھ کے معیار کو بہتر بنانے کیلئے نہ صرف قانون سازی کی ہے بلکہ پنجاب  بھر میں  پاسچر ائیزڈ  دودھ کو کھلے اور غیر معیاری دودھ کے متبادل  کے طور پرمتعارف کروانے کیلئے کوشاں ہے کیونکہ عام دودھ میں ناصرف بھاری مقدار میں ملاوٹ کی جاتی ہے بلکہ پنجاب کے باسیوں کی غذائی ضروریات بھی پوری نہیں ہو سکتی۔یہ پاکستان کا واحد ادارہ ہے جو خوراک کے معیار  کے حوالے سےکسی قیمت پر کوئی سمجھوتا نہیں کرتا۔

“پی ایس کیو سی اے “کو  خوراک کامعیار کے اختیارات  سونپے جانے کے پیچھے پاکستانی فوڈ  مافیا سمیت  غیر ملکی کمپنیوں بھی کافی حد تک کوشاں تھی  کیونکہ پنجاب فوڈ اتھارٹی  نہ صرف  ملکی بلکہ غیر ملکی پروڈکٹس میں شامل اجزاء کی کوالٹی اور مقدار کا   بھی وقتاً فوقتاًجائزہ لیتی ہےیہی وجہ ہے کہ تمام کمپنیوں کو پنجاب بھر میں اپنی  اشیاء کے معیار کو  متوازن رکھنا پڑتا ہے جو  ان کے پیٹ میں مروڑ  پڑنے کی بڑی وجہ بھی ہے۔ اتھارٹی نے سیون اپ کے لوگو پر لیموں کا نشان  ہٹوایا کیونکہ اس میں لیموں کا دور دور  تک کوئی نشان نہیں تھا،  اس کے علاوہ  بھی درجنوں ایسی مثالیں موجود ہیں۔

پاکستان  ایک ایسا ملک ہے جہاں  ہر قسم کی اشیاء خوردوش میں ملاوٹ کی جا رہی ہے  جس کا ادراک نا صرف معاشرے میں رہنے والے فرد واحد کو ہے بلکہ اقتدار  کے ایوانوں میں بیٹھے معززین بھی اس کو باخوبی جانتے ہیں ۔ ان تمام حقائق کو بالائے طاق رکھتے ہوئے پنجاب فوڈ اتھارٹی سے اختیارات واپس لینا  ملاوٹ مافیا کو غیبی مدد فراہم کرنے کے مترادف ہے۔پی ٹی آئی قیادت قومی مفاد کو نظر انداز کرتے ہوئے بزنس کمیونٹی کو مستفید کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔اگر وزیر اعظم عمران خان نے اس صورتحال پر سنجیدگی سے غور نہ کیا  تو فوڈ مافیا کو  نوازنے میں پی ٹی آئی قیادت کا نام سر فہرست ہو گا۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube