ہوم   >  بلاگز

پھر تخریب و خلل کی سیاست

SAMAA | - Posted: Dec 31, 2019 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Dec 31, 2019 | Last Updated: 2 months ago

یہ ایک الگ بحث ہے کہ آیا بلوچستان عوامی پارٹی (باپ )اپنی اصل میں ایک فکری و عوامی جماعت ہے یا الیکٹ ایبلز پر مشتمل سیاسی جتھہ، بہر حال اس جماعت کی بلوچستان کے اندر حکومت ہے، جولائی 2018ء کے عام انتخابات میں ان سے منسلک 15 افراد منتخب ہوئے، ما بعد شمولیتیں ہوئیں، اس طرح ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی، بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی، پاکستان نیشنل پارٹی، جمہوری وطن پارٹی اور تحریک انصاف کی شراکت سے ایک اتحادی حکومت بنالی۔ جام کمال خان عالیانی بالاتفاق وزیراعلیٰ بنائے گئے، جمعیت علمائے اسلام، بلوچستان نیشنل پارٹی اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی حزب اختلاف کی نشستوں پر بیٹھ گئیں۔

باوجود اس کے کہ حزب اختلاف اچھی خاصی مؤثر ہے، تجربہ کار اور معاملات کو دیکھنے اور سمجھنے والے لوگ اس کا حصہ ہیں مگر اس حکومت کو شاید حزب اختلاف سے کوئی تکلیف نہ ہو کیوںکہ حزب اختلاف کا کام ہی اپنی فہم کے تحت حکومت کی ہر اُس پالیسی پر گرفت کرنا ہوتا ہے، جو ان کی دانست میں عوام اور صوبے کے مفاد سے متصادم ہو، وہ تجاویز دیتی ہے، نقص و اغلاط کی نشاندہی کرتی ہے۔

حزب اختلاف کی بجائے وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال کیلئے مشکلات اپنی ہی صفوں سے پیدا کی جارہی ہیں، اندرون کی اس رسہ کشی اور ضرب کاری سے حکومت کی توجہ یقیناً فرائض سے ہٹ کر اس تخریب کاری پر مرکوز رہتی ہوگی، جس سے لا محالہ صوبے اور عوام کے مفاد کو زد پڑ رہا ہے۔ بلوچستان عوامی پارٹی فی الواقع ایک فکری، نظریاتی، عوامی جماعت ہوتی تو اندرون کی ان وارداتوں کا تدارک پارٹی آئین و روایات سے کردیا جاتا، جام کمال فیصلوں اور اقدامات میں پوری طرح مختار ہوتے تو شاید وہ تخریب کا باب کب کا بند کرچکے ہوتے، کابینہ اور پارٹی فورم کی بجائے معاملات کہیں اور زیر بحث نہ لائے جاتے۔

گویا اس جماعت کی نکیل کئی ہاتھوں میں ہے، اس بنا پر جام کمال خان کی مجبوریاں بھی سمجھ سے باہر نہیں۔ دھونس اور دباﺅ کے یہ حربے اول روز سے استعمال کئے جارہے ہیں، اس نزاع کی بنیاد حقیقی اور اصول کی بجائے گروہی اور شخصی مفاد پر ہے، انہدام و سبوتاژ کی سیاست اسپیکر بلوچستان اسمبلی عبدالقدوس بزنجو اور سردار صالح بھوتانی کی جانب سے ہورہی ہے، جنہیں شاید سرفراز ڈومکی کی بھی حمایت حاصل ہے، جو جام کمال سے اختلاف کی بناء پر اگست 2019ء میں وزارت سے استعفیٰ دے چکے ہیں۔ اب تحریک انصاف کے نصیب اللہ مری بھی یقیناً ان کے حامی ہوں گے، جن سے پہلے وزارت صحت کا قلمدان لیا گیا اور اس کے ایک ہفتے بعد (18 دسمبر 2019ء) کابینہ سے بھی برطرف کیا گیا۔

دراصل عبدالقدوس بزنجو کو وزارت اعلیٰ کا چسکا لگ چکا ہے، اس لذت کے اسیر سردار اسلم بھوتانی اور جان جمالی بھی ہیں، سُننے میں آیا ہے کہ اس میں طارق مگسی کی دلچسپیاں بھی ہیں، قدوس بزنجو قاف لیگ میں تھے، نواب زہری کیخلاف کھیل میں آگے آگے تھے، تحریک عدم اعتماد کا منصوبہ تیار کرلیا، نواب زہری نے دباﺅ کے تحت نو جنوری 2018ء میں منصب چھوڑ دیا، جس کے بعد یہ شخص 6 ماہ کیلئے بلوچستان کا وزیراعلیٰ بن گیا۔

جام کمال خان اور بھوتانی خاندان ضلع لسبیلہ میں سیاسی حریف ہیں، ”باپ“ بنانے والے طاقتور ہیں کہ جنہوں ان حریفوں کو ایک چھتری کے نیچے اکٹھا کر رکھا ہے، چنانچہ وقتاً فوقتاً ذرائع ابلاغ پر حکومتی جماعت میں اختلاف کا شور اُٹھایا جاتا ہے، اخبارات میں مختلف ملاقاتوں و دعوتوں کی تصاویر چھپوائی جاتی ہیں، دانستہ صوبے کا سیاسی ماحول ابتر پیش کرنے کی کوششیں کی جاتی ہیں۔

عبدالقدوس بزنجو علیل ہوئے، 22 دسمبر کو کوئٹہ سول اسپتال کے وی آئی پی روم میں داخل ہوئے، یعنی اس لمحہ کو بھی جام کیخلاف استعمال کیا گیا کہ سرکاری اسپتالوں کی حالت بہت بری ہے، حالاں کہ سرکاری اسپتالوں کی یہ درگت آج سے نہیں ہے اور نہ ایسا ہے کہ عبدالقدوس بزنجو کو اس کی خبر نہ تھی۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ کراچی یا کسی دوسرے بڑے شہر میں بھی علاج کراسکتے تھے لیکن یہاں داخل ہونے کا مقصد ہی یہ تھا کہ اسپتال کے مسائل اُجاگر ہوں۔

بہتر ہوتا کہ عبدالقدوس بزنجو اپنے آبائی ضلع آواران جو کہ ان کا حلقہ انتخاب بھی ہے کے ضلعی سرکاری اسپتال سے علاج کراتے اور وہاں کی حالت، ضروریات و مسائل طشت ازبام کرتے، ان کے والد عبدالمجید بزنجو بھی یہیں سے منتخب و اہم حکومتی عہدوں پر رہے ہیں اور 2002ء سے (ماسوائے 2008ء کے) عبدالقدوس بزنجو کامیاب ہوتے آرہے ہیں، اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر رہے، صوبے کے وزیراعلیٰ بھی رہے اور اس وقت بلوچستان اسمبلی کے اسپیکر ہیں، پیش ازیں بھی اہم عہدوں پر رہے ہیں، اس لحاظ سے ان کا ضلع مثالی ہونا چاہئے، یوں کسی پر تنقید و گرفت بھی جائز سمجھی جائے گی۔

وزیراعلیٰ جام کمال نے بھی ’’جیسے آفت آگئی ہو‘‘ سرکاری اسپتالوں کی مشینری، آلات اور عمارتوں کی مرمت کی مد میں 2 کروڑ 8 لاکھ کے اضافی فنڈز کا اجراء اور ساتھ ایم ایس، سیکریٹری صحت کو تادیب جیسے نمائشی اقدامات کی ٹھان لی، حالانکہ سرکاری مشینری مستقیم و پیہم چلتی ہے۔

چناں چہ بعد ازاں 26 دسمبر کو عبدالقدوس نے ویڈیو بیان جاری کیا، جس میں جھول کھاتے ہوئے جام کمال کی تعریف کے ساتھ ان پر وار کی کوشش بھی کی۔ کہتے ہیں کہ جام کمال برے شخص نہیں لیکن وہ اچھے وزیراعلیٰ ثابت نہ ہوسکے، لوگ بلوچستان عوامی پارٹی کو عوام کی نمائندہ جماعت نہیں سمجھ رہے ہیں، پارٹی کو صرف ایک شخص کی وجہ سے خراب ہونے نہیں دیں گے۔ پھر کہا کہ جام کمال کے پاس وژن ہے لیکن وہ کاموں کو تیزی سے آگے بڑھانے کے قابل نہیں رہے، نہ چیزوں کو بہتر کرسکے ہیں۔ یہ بھی فرمایا کہ ہم نے اللہ کو جواب دینا ہے!۔

اگلے روز ”باپ“ کے صوبائی وزراء ظہور بلیدی (وزیر خزانہ )، سردار عبدالرحمان کھیتران ( وزیر خوراک)، سلیم کھوسہ (وزیر ریونیو) اور ترجمان بلوچستان حکومت لیاقت شاہوانی نے نیوز کانفرنس میں اس کا ایک پھسپھسا سا جواب دیا۔ البتہ ان ورزاء نے اتنا ضرور کہا کہ اسپیکر خود اسمبلی کے 147 سیشنز میں سے محض 17 میں ہی شریک ہوئے۔

اصل میں ان افراد نے بلوچستان کو تماشہ بنا رکھا ہے، صوبے اور اس کی ایک کروڑ 22 لاکھ کی آبادی کی توہین کے مرتکب ہوئے ہیں، صوبے کے عوام حرص، مفادات اور کھینچا تانی کی سیاست کو انتہائی نا پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ عوام چاہتے ہیں کہ صوبے کے معزز ایوان کی توہین و تضحیک اور یہاں کی روایات و اقدار کا تماشہ مزید نہ بنایا جائے۔ یقیناً اس تخریبی و گندی سیاست کو روکنے کی ذمہ داری حکومت کی اتحادی جماعتوں اور حزب اختلاف پر بھی عائد ہوتی ہے اور سچ یہ بھی ہے کہ جام کمال، کردار، صلاحیتوں، انتظامی، علمی بلکہ ہر لحاظ سے ان خلل ڈالنے والوں پر فوقیت رکھتے ہیں۔

WhatsApp FaceBook

One Comment

  1. Avatar
      komal khan  January 1, 2020 9:07 pm/ Reply

    I agree with it. it is as i think about. alot of things are to be discussed but here short of time i cannot reply. I will visit again.

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
BALUCHISTAN, PAKISTAN, BAP, JAM KAMAL KHAN, ANWAR UL HAQ KAKAR, ABDUL QUDDUS BIZENJO, QUETTA, OPPOSITION, PMLN, PPP, PTI, IMRAN KHAN,
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube