ہوم   >  بلاگز

کوئٹہ کی مسیحی برادری ملک کی ترقی اورامن کی خواہشمند

SAMAA | - Posted: Dec 30, 2019 | Last Updated: 2 months ago
Posted: Dec 30, 2019 | Last Updated: 2 months ago

کوئٹہ میں دہشت گردی کے کئی واقعات میں بڑی تعداد میں پاکستانی  شہری، فورسز اور دیگر مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھوبیٹھے ہیں، ہزاروں کی تعداد میں افراد زخمی ہوئے۔ بلوچستان بالخصوص کوئٹہ میں بسنے والی مسیحی برادری بھی دہشت گردی کے اس عفریت سے محفوظ نہ رہ سکی ہے۔

کوئٹہ کی عیسیٰ نگری میں رہائش پذیر 45 سالہ فوزیہ بی بی کی کہانی بھی کچھ مختلف نہیں ہے۔اس کا بیٹا بھی دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ چکا ہے۔ اس نےدہشت گردوں کےہاتھوں اپنا بیٹا تو کھویا لیکن آج بھی پاکستان کو اپنا گھر مانتے ہوئے یہاں امن کے لئے دعاگو ہے۔

فوزیہ بی بی کے بیٹے کو 14 اپریل 2018 کو چرچ کے باہر فائرنگ کرکے ہلاک کردیا گیا۔ اس کا شوہر بھی ایک حادثے میں زخمی ہوکر مفلوج و معذور ہوچکا ہے۔حکومتی امداد سے ملنے والی رقم بھی اس نے اپنے شوہر کے علاج پر خرچ کردی ہے۔

فوزیہ بی بی کا کہنا تھا کہ ان تمام تر واقعات کے باوجود آج بھی دعا گو ہیں کہ پاکستان میں مستقل امن قائم ہو۔ اس کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کو بنیاد بنا کر ملک چھوڑنا درست نہیں، دہشت گردی سے صرف ایک طبقہ نہیں بلکہ مختلف طبقات اور مذاہب کے ماننے والے افراد ، عام شہری اور فورسز کے افسران و اہلکاروں اپنی جانوں کا نذرانہ دے چکے ہیں۔ اس نے دوٹوک کہا ہے کہ میسحی برادری ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ہمیشہ کوشاں رہے گی۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube