ہوم   >  بلاگز

اورمیں بچ گیا

SAMAA | - Posted: Dec 27, 2019 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Dec 27, 2019 | Last Updated: 2 months ago

میرے ذہن سے27 دسمبر 2007 کی وہ سہ پہرشاید ہی کبھی نکل سکے گی، جب ایف 8 سیکٹر میں واقع زرداری ہاؤس اسلام آباد سے بے مثال بینظیر، جیالوں کے لشکرکے ساتھ راولپنڈی کے لیاقت باغ میں قوم کا لہو گرمانے کے لئے نکل رہی تھیں لیکن کیا پتہ تھا کہ اس باغ کی آبیاری انہیں اپنے ہی خون سے کرنی پڑے گی ۔

آگے چل کر اس تفصیل میں جائیں گے لیکن آپ بیتی بیان کرتا چلوں کہ بی بی سرینا ہوٹل میں اس وقت کے افغان صدر حامد کرزئی سے ملاقات کے بعد زرداری ہاؤس پہنچیں تو آج ٹی وی کے میرے ساتھی فخر الرحمن سے اسی موضوع پر بات ہو رہی تھی ، اتنے میں نیوز روم سے آواز آئی کہ ٹیم تیار ہے؟۔ بس کیمرہ مین عبدالرافع صاحب کو ساتھ لیا اور جھٹ سے زرداری ہاؤس پہنچ گئے ، وہاں جا کر بی بی کے جیالوں اور دیوانوں سے ملاقات ہوئی تو سب ہی خوش دکھائی دے رھے تھے ،بی بی کے 2 بہادر سپاہی اور جانباز جعفر بٹ عرف کمانڈو اور امجد صفیان نے اکٹھے لیاقت باغ چلنے کی دعوت دی اور خوشی سے نہال ہوتے ہوئے بولے کہ آج بڑا جلسہ اور بڑی تقریر ہو گی۔

گپ شپ جاری تھی کہ بی بی کی گاڑی زرداری ہاؤس سے باہر نکلی ، ان کی گاڑی کے بالکل پیچھے چلنے والی گاڑی میں جست لگا کر سوار ہو گئے۔ کوریج کی غرض سے ویگو میں کھڑے ہو کر راستے کے مناظر کو اپنی اور کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کرنے لگے،براستہ فیض آباد مری روڈ پہنچے ہی تھے کہ وہاں بی بی کے چاہنے والوں اور پیپلز پارٹی کے جیالوں نے قافلہ روک دیا۔ ایک تو سیکیورٹی کے مسائل اور دوسرا جلسہ گاہ پہنچنے کی جلدی تھی لیکن پھر بھی کارکنوں کو دیکھتے ہی بی بی کے جذبات بھی قابو میں نہیں آرہے تھے، پیپلز پارٹی کی سربراہ نے گرمجوشی سے ہاتھ ہلا کارکنوں کے جذبے کا خوب جواب دیا۔

بی بی کی گاڑی جلسہ گاہ میں پہنچی تو ہم بھی جم غفیر میں گرتے پڑتے اسٹیج کے بالکل سامنے میڈیا کے لیے مخصوص جگہ تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ اس روز بے مثال خاتون کے چہرے سے پھوٹنے والی خوشی ،طمانت اور آوازمیں گھن گرج بتا رہی تھی کہ بھٹو کی بیٹی سیاسی میدان میں جیتنے اور مخالفین کو شکست دینے جا رہی ہے ،کیونکہ انکے قدم پرویز مشرف سے نجات ،خوشحال ،پرامن اور جمہوری پاکستان کے راستے کی جانب تیزی سے بڑھ رہے ہیں تھے۔ ان کا جوش اور ولولہ نمایاں تھا جس کے بارے میں کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ انکی یہ تقریر آخری ثابت ہو گی ۔ جلسہ ختم ہونے سے چند منٹ قبل مجھے دوبارہ بی بی کے ان جانبازوں کا پیغام ملا کہ جیسے آئے تھے ویسے ہی واپس بھی جائیں گے یعنی واپسی کے لیے بھی ہمارے لئے وہی گاڑی موجود ہو گی اس لیے بروقت جلسہ گاہ سے باہر آجائیے گا۔

لیکن اللہ کو کچھ اور ہی منظور تھا جلسے کے اختتام سے چند لمحے قبل ہی کیمرہ مین میرے پاس آئے اور بولے کہ رفع حاجت کیلئے جانا ہے، کہاں جاؤں؟ ٹیم ممبر کی یہ مجبوری سنتے ہی جلسہ گاہ سے باہر آیا اور انہیں کہا کہ لیاقت باغ چوک میں قائم واش روم چلے جائیں۔ وہ واپس آئے تو ہم نے فیصلہ کیا کہ بجائے جلسہ گاہ جانے کے مری روڈ پر پیدل چلتے ہیں، جب قافلہ مری روڈ پر آئے گا تو بی بی کے جانبازوں کے ساتھ ہو لیں گےلیکن پھر اچانک ایک دھماکے کی آواز نے تقدیر اور ملک کی سیاسی تاریخ ہی بدل دی ۔

کچھ لمحوں کے لئے تو قدم رک سے گئے اور نفسا نفسی کے عالم میں واپس جلسہ گاہ کی جانب لپکنے کی کوشش کر ہی رہا تھا کہ آفس سے فون آیا کہ بینظیر بھٹو کو گولی لگ گئی ہے یہ سنتے ہی اپنا رخ واپس فیض آباد کی جانب کیا تو بھیڑ اور گھمبیر صورتحال کا سامنا کرنا پڑا ۔ کہیں دوڑ کر اور کہیں موٹر سائیکل پر لفٹ لیکر چاندنی چوک تک پہنچا تو خبر آئی کہ بی بی کو پمز نہیں لے جایا جا سکتا تاہم انہیں مری روڈ پر صادق آباد اسٹاپ سے دوسری گاڑی میں منتقل کر کے جنرل اسپتال لے جایا جا رہا ہے۔

بطورصحافی خبر کی کھوج اورایونٹ یعنی بینظیربھٹو کی گھر تک واپسی کی کوریج  میری ذمہ داریوں میں شامل تھے،لہذا کسی بھی صورت میں جنرل اسپتال کے اندر داخل ہونا میرا مشن ٹھہرا،اسی سوچ میں تھا کہ ایمرجنسی وارڈ تک کیسے پہنچا جائے ، اچانک ایک ایمبولینس اسپتال کے گیٹ پر پہنچی اور بس گیٹ اتنا کھلا جتنی اس گاڑی کو راستہ درکار تھا۔ اندر جانے کی جستجو میں سوچے سمجھے بغیر ایمبولینس کے اگلے دروازے سے اپنی چھاتی جوڑی اور گیٹ عبورکرلیا ۔اسپتال کی پارکنگ تک پہنچتے ہی سیکورٹی گارڈ مجھے روکنے کے لئے آیا ضرور لیکن رش کے باعث اسے کامیابی نہ مل سکی، یوں اس وارڈ میں داخل ہوا تو بی بی کو آپریشن تھیٹر لے جایا جا چکا تھا۔

اتنے میں کراچی سے بیپر کیلئے کال آئی اور بتایا گیا کہ دوسری لائن پر اس وقت بیرون ملک مقیم آصف زرداری بھی ساتھ ہیں. آصف زرداری نے بھی یہی بتایا کہ انکی معلومات کے مطابق بی بی کا آپریشن جاری ہے سب دعا کریں۔ اینکر نے مجھ سے صورتحال جاننے کے لئے سوال کیا تو میری جانب سے بھی یہی کہا گیا کہ میرے ذرائع کے مطابق بےنظیر بھٹو کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے حالانکہ اس وقت تک اندر سے اسپتال کے عملے کی طرف سے بی بی کے دنیا سے چلے جانے کی اطلاعات موصول ہو چکی تھیں۔ ڈاکٹرز نے بھی روایتی طریقہ اختیار کرتے ہوئے اس دوران آدھ گھنٹہ گزار ہی دیا کیونکہ وہ بھی کسی حکم کے منتظر تھے تاہم مجھے ہیڈ آفس سے یہ ہدایت دی گئی کہ یہ معاملہ بہت حساس ہے ٹی وی پر ایسی کوئی بات مت کرنا ورنہ حالات خراب ہو جائیں گے اور ملک میں آگ لگ جائے گی۔

حکم نامہ سن کر دوبارہ کال اسٹوڈیو میں تھرو ہوئی تو دیکھا کہ ڈاکٹر بابر اعوان جو کہ اس وقت بی بی کے رائٹ ہینڈ تھے (ان دنوں وہ عمران خان کا بازو تھامے ہوئے ہیں ) ایمرجنسی سے روتے دھوتے اور سینہ کوبی کرتے باہر آتے ہیں۔ خبر کنفرم ہوتے ہی میرے منہ سے نکلنے والے یہ الفاظ ا سکرین پر نمودار ہوتے ہیں کہ بی بی شہید ہو گئیں۔ یہ خبر بریک ہوتے ہی اینکر کی جانب سے سوالوں کی بوچھاڑ کر دی گئی لیکن وہاں اچانک ایسی سوگوار فضا بنی کہ مجھ جیسے پتھر دل شخص کی بھی آہ بھرآئی اور پیپلز پارٹی کی سیاست اور پالیسیوں کا سخت ترین ناقد ہونے کے باوجود بینظیر بھٹو جیسی زیرک خاتون کی شہادت کی خبر نے اتنا رنجیدہ کیا کہ مزید بات جاری رکھنا ممکن نہ رہا تو اینکر سے معذرت کرتے ہوئے لائن ڈراپ کرنا پڑی۔

گو کہ اس وقت میری یہ خبر آج ٹی وی کی اسکرین کے ذریعے دنیا بھر کے میڈیا کی زینت بنی۔صحافتی کیریئر میں اس لمحے بین الاقوامی سطح پر کریڈٹ ملنا ایک اعزاز تو ہے ہی لیکن بےنظیر بھٹو جیسی عظیم سیاستدان کے قتل کی خبر دینا بدقسمتی سے کم نہیں سمجھتا کیونکہ اپنے حصہ میں بڑی خبر تو آئی لیکن بنیادی طور پر وہ بری خبر تھی۔ تھوڑی ہی دیر بعد پورے ملک میں اچانک کیا کچھ ہو گیا وہ مناظر بھی سب نے دیکھےکہ جب عوام کی لیڈر کو چھین لیا گیا تو جذبات میں اشتعال فطری عمل ہوتا ہے۔

بات جہاں سے شروع کی تھی وہیں پر اختتام کروں گا کہ اگر جاتے ہوئے بھی ویسی ہی ترتیب ہوتی جیسی جلسہ گاہ آتے ہوئے تھی تو شاید آج ہماری بھی برسی منائی جا رہی ہوتی کیونکہ دھماکے کے وقت چند فرلانگ کا فاصلہ ہونے کی وجہ سےمیں بچ گیاتھا۔

آج اس سانحہ کو 12 سال گزرنے کے بعد بی بی شہید کا بیٹا بلاول بھٹو بھی اسی مقام سے موجودہ حکمرانوں کو للکارنے اور اپنی سیاست کو نیا رخ دینے جارہا ہے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube