ہوم   > بلاگز

خصوصی عدالت کے جج کیخلاف ریفرنس کلبھوشن کیلئےغیبی مدد؟

SAMAA | - Posted: Dec 20, 2019 | Last Updated: 6 months ago
Posted: Dec 20, 2019 | Last Updated: 6 months ago

گزشتہ روز وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے اعلان کیا کہ خصوصی عدالت کے جج وقار احمد سیٹھ ذہنی طور پر ٹھیک نہیں اور نا اہل ہیں۔ اس بنیاد پر ان کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کریں گے۔ فروغ نسیم کے بقول جسٹس وقار احمد کے فیصلے سے ہمارا سر شرم سے جھک گیا اور دنیا بھر میں پاکستان کی جگ ہنسائی ہوئی ہے۔ لہذا ایسے شخص کو عدلیہ میں بیٹھنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔

اس کے بعد وزیر اعظم کے معاون خصوصی بیرسٹر شہزاد اکبر نے بھی یہی مدعا مختلف الفاظ میں پیش کیا۔ فردوس عاشق اعوان نے بھی گفتگو کی اور تینوں کی بات کا خلاصہ یہ تھا کہ جسٹس وقار احمد سیٹھ مینٹلی ان فِٹ (ذہنی طور پرنااہل) اور اِن کومپیٹینٹ (نالائق) ہیں۔

وفاقی حکومت کے تینوں نمائندوں اور اٹارنی جنرل کے بیانات، پاک فوج کے ترجمان کی جارحانہ پریس کانفرنس اور جسٹس وقار احمد سیٹھ کے خلاف ممکنہ ریفرنس کلبھوشن یادیو کیلئے “غیبی امداد” ثابت ہوسکتی ہے۔

یہ بات سن کر آپ کا اپنا سر دیوار سے ٹکرانے کا دل کر رہا ہوگا اور شاید آپ مجھے بھی مینٹلی ان فٹ قرار دیں مگر حوصلہ رکھیں۔ دنیا گول ہے، چیزیں گھوم پھر کر دوبارہ کسی ایک نقطے پر آجاتی ہیں۔ جسٹس وقار احمد سیٹھ پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس ہیں۔ انہیں خصوصی عدالت کا سربراہ بھی تحریک انصاف کی حکومت نے تعینات کیا۔ یہ “حادثہ” اتفاقی تھا یا سوچا سمجھا فیصلہ، اس کا فیصلہ بہر حال ہم نہیں کرسکتے۔ چلیں اب کڑیاں ملاتے ہیں۔

گزشتہ برس یعنی 2018 میں پشاور ہائیکورٹ نے فوجی عدالتوں سے سزائے موت اور عمر قید کی سزا پانے والے 74 افراد کی سزائیں کالعدم قرار دی تھیں۔ ان افراد کی سزاؤں کی توثیق آرمی چیف بھی کر چکے تھے۔ اس پر یہ بحث ہوئی کہ ہائیکورٹ کو فوجی عدالتوں کے فیصلوں پر اپیل سننے کا اختیار ہے یا نہیں۔ پشاور ہائیکورٹ نے اپنے تفصیلی فیصلے میں قانونی شقوں کے حوالے دیتے ہوئے دائرہ اختیار بھی ثابت کیا اور فوجی عدالتوں کے ٹرائل پر بھی سنگین سوالات کھڑے کردیے۔

یہ فیصلہ دینے والے 2 رکنی بنچ کے سربراہ جسٹس وقار احمد سیٹھ تھے جبکہ دوسرے رکن جسٹس لالا جان  خٹک تھے۔ دونوں نے متفقہ فیصلہ دیا تھا۔ اس سے قبل 10 اپریل 2017 کو پاکستان کی فوجی عدالت نے بھارتی جاسوس کلبھوشن جادھو کو دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا مجرم قرار دیتے ہوئے سزائے موت سنا دی تھی۔ بھارت نے ایک ماہ بعد 10 مئی 2017 کو کلبھوشن جادھو کی پھانسی کی سزا پر عمل درآمد رکوانے کے لیے عالمی عدالت انصاف میں درخواست دائر کر دی۔

عالمی عدالت انصاف نے 18 مئی 2017 کو اپنے عارضی فیصلے میں پاکستان کو ہدایت کی کہ حتمی فیصلہ آنے تک کلبھوشن جادھو کو پھانسی نہ دی جائے۔ اس کے بعد مقدمہ پر باقاعدہ دلائل کا آغاز 21 فروری 2019 کو ہوا اور 4 دن تک فریقین نے دلائل دیے۔ جس میں پاکستان نے عالمی عدالت انصاف کو بتایا کہ فوجی عدالتوں کے فیصلوں پر ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ میں نظر ثانی کی اپیل کی جاسکتی ہے۔ عالمی عدالتِ انصاف نے 17 جولائی 2019 کو فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ پاکستان نے کلبھوشن جادھو کو قونصلر رسائی کی سہولت نہ دے کر ویانا کنونشن کی شق 36 کی خلاف ورزی کی ہے مگر ساتھ ہی کلبھوشن کی سزائے موت کی معطلی اور بریت کی بھارتی اپیل بھی مسترد کر دی۔

عالمی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ پاکستان کلبھوشن جادھو کی سزائے موت پر نظر ثانی کرے اور اسے قونصلر رسائی دے۔ اسی فیصلے میں عالمی عدالت انصاف نے پشاور ہائیکورٹ کے  فیصلے کا حوالہ دیا ۔ یعنی عالمی عدالت انصاف نے پاکستان کی عدالتوں پر اعتماد کرتے ہوئے اس  فیصلے کو باقاعدہ  اپنے فیصلے کا حصہ بنایا اور بھارت کو یہ باور کروایا کہ پاکستان میں اندھیر نگری نہیں، عدلیہ ٹھیک سے کام کر رہی ہے۔

اب وفاقی حکومت اگر جسٹس وقار احمد سیٹھ کو مینٹلی ان فِٹ (ذہنی طورپرنااہل ) اور ان کومیپیٹینٹ (نالائق ) قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کرتی ہے تو 99 فیصد امکان ہے کہ بھارت عالمی عدالت انصاف کے دروازے پر جاکر کہے گا۔۔ ‘مائی لارڈ! ہمیں تو پہلے ہی پاکستانی عدالتوں پر اعتماد نہیں تھا۔ مگر آپ نے ہماری نہ سنی۔ جس پاکستانی جج کا فیصلہ آپ نے اپنے فیصلے کا حصہ بنایا تھا، اسے اس کی اپنی ہی حکومت مینٹلی ان فِٹ (ذہنی طورپرنااہل ) قرار دے چکی ہے۔ لہٰذا آپ کیسے ایک ذہنی طور پرنااہل عدلیہ پراعتماد کرسکتے ہیں۔’

اس کے بعد عالمی سطح پر پاکستان کی جو عزت افزائی ہوگی، وہ لکھنا تو دور کی بات، سوچنا بھی “غداری” کے زمرے میں آتا ہے۔

مجھے تو ابھی سے خدشہ لاحق ہے کہ بھارت نے ہمارے سارے وزیروں مشیروں کے بیانات اور پریس کانفرنسوں کا ڈیٹا بینک تیار کرلیا ہوگا۔ شاید وہ ریفرنس کا انتظار ہی نہ کریں۔ ویسے حکومت کو اپنی قانونی ٹیم کی ’’ذہنی استعداد ‘‘ کی جانچ پڑتال کرنی چاہیے۔ شاید دھول چہرے پر ہو اور آپ شیشہ رگڑ رگڑ کر ہلکان ہورہے ہوں۔

WhatsApp FaceBook

3 Comments

  1. Avatar
      ولید  December 20, 2019 11:01 am/ Reply

    شاید آپ کا یہ آرٹیکل بھی بھارت کہ ڈیٹا بینک کا حصہ بن جاۓ

  2. Avatar
      pure1  December 20, 2019 12:44 pm/ Reply

    آپ جیسے دور رس اور آستین کے سانپوں کے ہوتے ہوئے ہمیں بھارت کی کیا ضرورت. آپ لوگ ہیں نہ ہر چیز میں پاکستان کی بربادی ڈھونڈنے کے لیے

  3. Avatar
      Anonymous  December 21, 2019 8:01 pm/ Reply

    Whenever someone talked about generals they were, they are and they will be treaser conspirators and many more. They must be answerable in front of courts and they must be accountable. Lets us not distribute the labels of ghadar to everyone, stop it now….

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
pervez musharraf, special court, kulbhoshan yadav , high treason case
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube