Monday, January 17, 2022  | 13 Jamadilakhir, 1443

جمہوری آنکھیں

SAMAA | - Posted: Dec 18, 2019 | Last Updated: 2 years ago
SAMAA |
Posted: Dec 18, 2019 | Last Updated: 2 years ago

ایک درسی کتاب میں پڑھا تھا کہ جمہوری حکومت کا مطلب ہے عوام کی حکومت ۔ عوام کے لئے اور عوام کے ذریعے۔ ہم ذرا کند ذہن طالب علم واقع ہوئے تھے لہٰذا ہم نے اس کا مطلب یہ لیا کہ جب ہمارے ملک جیسے کسی ملک میں جب بھی جمہوری حکومت آتی ہے تو عوام کوکسی بھی حکومتی نمائندے کے خلاف کچھ بھی کہنے اور آنکھوں سے سب کچھ دیکھنے کی کھلی آزادی ہوتی ہے ۔ اورسیاسیات کے استاد محترم نے بھی پورے سال ہمارے ان جملوں کی تردید و تصحیح اور وضاحت تک نہیں کی چناچہ جمہوری حکومت کی اس تشریح کے معاملے میں ہمارے حوصلے جوان اور تازہ دم ہوگئے ۔

محض کسی بھی سیاسی نمائندے پرسخت تنقید کی خاطر ہم بھی ہر ٹی وی چینل پر حالات حاضرہ کا پروگرام بچشم خود اور عادت ہونے پر خود بخود ملاحظہ فرمانے لگے ۔ لیکن اس کا خاطر خواہ فائدہ یوں بھی نہ ہو سکا کہ سارے کے سارے مختلف ٹیلی ویژن چینلز پر مختلف اوقات میں ایک ہی بات کرتے اور ایک ہی سوٹ زیب تن کرتے نظرآتے ہیں البتہ خواتین فیشن کے معاملے میں اپ ٹو ڈیٹ اور سجی سنوری نظرآتی ہیں ۔ جس میں ٹی وی اسکرین کی بھی نوے فیصد جائزمجبوری نظر آتی ہے   ۔ ہم بھی دیگرغریب ، مسکین اور کہیں کہیں دھماکوں کی وجہ سے یتیم عوام الناس کی طرح ہرقسم لوڈ شیڈنگ مثلا بجلی و گیس وغیرہ سے بری طرح متاثر تھے لہذا زیر لب منمنانے اور اکیلے میں ہنہنانے کو سوا کچھ کر نہیں سکتے تھے۔

 ابا حضور  ہماری اس عادت پر سخت ناراض اور نالاں رہتے اور اپنی یتیمی کا واسطہ دیکر ہمیں زبان بند رکھنے کی تلقین کرتے ۔ حالانکہ ان کا غصہ ہم سے زیادہ ہونا چاہیے کہ انہوں نے کہیں کہیں اچھا اور سستا دور بھی دیکھاہے ۔ وہ نت نئی تبدیلیوں سے گزرکر یہاں تک پہنچے ہیں اور اب کی تبدیلی ان کو بری طرح کھل رہی تھی اور وہ شدید مہنگائی کا رونا روتے نظر آتے ہیں حالانکہ اماں اس عمر میں فرمائشوں کی حد سے نکل گئی ہیں جو ابا پوری نہ کر سکیں ۔ سرکاری اسکول میں پڑھنے کے باوجود ابا حضورکی انگریزی بھی اچھی تھی ۔ اور ہمیں جس استانی نے اسکول میں انگریزی پڑھائی وہ بھی ایک عدد ڈکشنری اپنے پاس رکھتی تھیں ۔ اور تیس دنوں میں فرفر انگریزی سکھانے والی پاکٹ سائز کی کتاب بھی اپنی فائل میں رکھتی تھیں ۔

 ہماری ہر قسم کی ڈانٹ ڈپٹ کی بھی کلاس لیتے ہوئے ان کو سال ہوگیا تھا مگر تیس دن والی کتاب سے وہ چھٹکارہ نہ پا سکیں تھیں سنا ہے میٹرک میں ایک بار انگریزی کے پرچے میں ہی رہ گئیں تھیں ۔ دوسری بار امتحان دینے کو فیس نہ تھی لہٰذا مالی مجبوری کے باعث ہمارے اس پرائیویٹ اسکول تین ہزار ماہانہ تنخواہ کے عوض انگریزی پڑھانے لگیں۔  

۔ہمارے اسکول کے مالک گلو عرف عبدالغفار میمن صاحب مرحوم  کی پہلے بولٹن مارکیٹ کراچی میں کپڑوں کی دکان تھی وہ بیچارے خود تو نہ پڑھ سکے لیکن ایک پرائیویٹ اسکول کھول کر قوم بالخصوص محلے کے بچوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کی ایک بھرپورکوشش ضرور کی ۔ مگر تعلیم یافتہ لوگوں کا حشر دیکھ کر اپنے بیٹے کی تعلیم چھڑوا کر اسے اپنی دکان پر بٹھا دیا تاکہ اس کے پڑھ لکھ کر آلودہ اور بگڑنے کے امکانات کم ہوں ۔ وہ لڑکا بس اتنا حساب کتاب کر سکتا تھا کہ اگر کوئی خاتون دکان پر کپڑا لینے آئے اور خواہ کتنا ہی بڑا اورحسین و جمیل اور رنگین کڑک نوٹ  لے آئے ۔ اسے بقایا روکڑا صحیح صحیح گن کر واپس کر سکے ۔ ۔ بات کی ابتدا جمہوریت سے ہوئی تھی، تذکرہ تھا جمہوری آنکھوں اورجمہوری گفتگو کا ۔ آپ نے میری جمہوری زبان کا اندازہ تو لگا لیا ۔ لیکن ابھی میری جمہوری آنکھوں کی مستی سے محروم ہیں ۔

حسب سابق میں ایک حالات حاضرہ کا ایک پروگرام نشرمکررکے طورپر دیکھ رہا تھا ۔  جس کے دوران ایک چھوٹی سی خبر چلائی گئی کہ ِ،، تھیئٹر میں ناچ گانوں کے نام پر بےہود گی ،، اور جن جن کو بے ہودگی کا مطلب نہیں پتہ ان کو باقاعدہ اوربے قائدہ  تربیت یافتہ بے ہودگان کی تھرکتی فوٹو بھی دکھائی جا رہی تھی ۔ تاکہ ان کو خبر کو سمجھنے میں آسانی ہو ۔ اچھی بھلی خواتین تھیں پتہ نہیں کیوں آڑی ٹیڑھی ہو رہی تھیں ۔ ھاتھ پیر بھی سلامت تھے ۔ مگر پھر بھی وہ گانے کے دوران وہ حاضرین نما تماشائیوں کی طرف بچوں کی طرح گھٹنوں گھٹنوں چل کرجارہی تھی اورسب کے نزدیک بس یہی ادا ان کی خوب تھی اس لئے وہ سب کی فرمائش پر گھٹنوں کے بل چلنے والا بچہ دکھائی دے رہی تھی اور حاضرین کو نہ جانے کیا کچھ نظر آرہا تھا ۔ اس لئے ان میں سے بیشتر من چلے اپنا من اور دل جلے بھی دل تھامے اپنی نشستوں سے اٹھ اٹھ کے اس کی طرف دوڑتے تاکہ نوٹ نچھاور کرنے کے بہانے ذرا قریب سے جمہوری آنکھوں سے ہرچیز کا جائزہ لیں  ۔ وہ نام نہاد حسینہ بھی کچھ لاکھ اور اوپر بنانے کا ارادہ کر کے آئی ہوگی ۔ اندازہ کریں ایک تو بے چارے تماش بین پیسے بچاکر ٹکٹ لے کراس بڑے سے حال میں آکربے حال ہوئے ہیں  گیس اور بجلی کے بل سے پریشان اوروہ مزید بجلیاں گرا کر ان کا گھر بھی پھونکنے کے چکر میں تھی ۔ تاکہ جب وہ یہاں سے جائیں تو نہ گھر کے رہیں نہ گھاٹ کے ۔ یہ تو خیر اس خبر کی جھلکیاں تھیں۔

ہم نے بھی ان کو ان کی بے ہودگی پر مزید ملامت کرنے کی خاطر فلموں وغیرہ کی سی ڈیز بیچنے والی ایک دکان کا رخ کیا ہم کو اس بے باک فنکارہ کا نام اور اس کی شکل یاد نہ تھی ۔ مگر ہم نے اشارتاً بلکہ اسی طرح کتا ڈانس کرکر کے دکان دار کو بتایا وہ تو سمجھ گیا۔

 میں اپنی مصروفیت میں یہ بھی نہ دیکھ سکا کہ اسکول کے کئی کم عمر لڑکے میرے آس پاس کھڑے تھے۔ میں دل ہی دل میں اپنے کتا رقص کی تعریف کرنے لگا کہ اتنے سارے لوگ میرے ارد گرد جمع ہوگئے ہیں اور تصور میں مجھ پر کئی تماش بینوں نے لاکھوں روپے نچاور کر لئے میں ان کو خرچ کرنے کے طریقے سوچ ہی رہا تھا کہ ایک لڑکے نے میرا بازو ہلایا وہ یونیفارم میں ملبوس تھا۔

 اوے تو بھی ہاں ہاں ہاں !!!!

کیا مطلب ہاں ہاں ہاں ۔۔ قبول ہے۔ قبول ہے ۔ قبول ہے ۔ میں کوئی یہاں نکاح پڑھوا رہا ہوں چل بھاگ ۔۔۔

مجھے غصہ آیا تھا چھوٹے بدمعاش پر ۔۔

واہ میں کیوں بھاگوں تو بھاگ، لگتا ہے کہ نیا پنچھی ہے اس لئے شرما شرما کے فلم لینے آیا ہے ۔ ورنہ ھماری طرح ٹاپوں ٹاپ ہوتا ۔ وہ بھی عجیب تھا آنکھ مار مار کے بات کرنے کا عادی تھا ۔ دکان دار کے لئے واقعی میں نیا گاہگ تھا اور وہ مجھے مستقل کرنا چاہتا تھا لہٰذا اس نے اس بچے کو بھگانا چاہا۔ وہ مجھے آخری بار آنکھ مار کے بھاگا۔ اس بار اس کی مار میرے دل پر لگی ۔ بھاگتے بھاگتے لفافے میں بند کوئی چیزبستے میں ڈالی تھی۔ مجھے اس پر چور ہونے کا گمان گزرا، میں نے دکان دار کی توجہ اس طرف دلائی تو وہ مسکرایا ۔

تو بھی پڑھا لکھا گھامڑ لگ ریا ہے بے۔ کھانا گرما گرم ہو تو نہ کھایا جا ئے گا نہ ہی ہاتھ میں پکڑا جا سکے گا تو بستے میں ڈالے گا نا تو بھی عجیب ننھا بن ریا ہے۔ یہ دکان دار کے الفاظ تھے۔

یہ تو آدھے گھنٹے سے یہاں کھڑا تھا کون سا گرم کھانا لے گیا؟؟؟  ہیں اور کب لے گیا؟؟؟ ۔۔ آس پاس نہ کوئی تندور نہ ہوٹل۔ مجھے حیرت تھی۔

ابے میاں ننھے ! وہ جو کچھ لے گیا جب دیکھے کا تو خود ہی تندور کی مافق بھڑکے گا ۔ میں تو اس کو منع کرتا ہوں دیکھ منے اسے لے جا مگر اپنے کنٹوپر )کمپیوٹر( پر اپ گریڈ )ڈاون لوڈ( نہ کرنا ۔ آخر کو میری بھی اولاد ہے کاہے کو میں دوزخ میں جاوں؟لیکن تو بتا تجھے کیسی فلم چاہئے ۔

 ہاں اس کو بچہ نہ سمجھ عقل میں تجھ سے بڑا ہوگیا ہے ،

مجھے اس کی باتوں سے اندازہ ہوگیا کہ وہ کس قسم کا مواد فروخت کرتا ہے ۔

اگر تم دوزخ میں نہیں جانا چاہتے تو اس نسل کو گمراہ کرنے کا بیڑا کیوں اٹھایا ہے ۔ مجھے طیش آیا ۔۔۔۔

لو میں نے کیا کیا۔۔۔ او بھائی میں تو اس کو منع ہی کریاتھا ۔ پر وہ کاہے کو مانے ۔ جس کو منع کروں وہ ہی پولیس کو جاکر شکائت کرتا ہے کہ  کارٹون فلموں کی آڑ میں ببن میاں لال لال پیلی پیلی اور خصوصا نیل کی طرح نیلی نیلی فلمیں بیچ ریا ہے ۔ اور پولیس مال بھی لے جاتی ہے دیکھنے کے واسطے اورپیسہ بھی ۔

دکان دار ببن میاں بتانے لگا اور ہاں تو بھی تو ببلی بائی نیپیئر روڈ والی کی سی ڈی خریدنے آیا تھا۔ لیکن ببن صاحب میں تو ٹیلی ویژن پر اس کی جھلکیاں دیکھ کر آیا تھا تاکہ دیکھوں کہ بے ہودگی کا گراف کتنا اونچا ہے اور اس کی وجہ سے معاشرے میں کہاں کہاں ماحول بگڑ گیا ہے۔ میں نے بھی فورا سیاستدان کی طرح اسٹیٹ منٹ بدل دی۔ ہاں تو تیری بھی عادت بن جائے گی نا لیکن گھبرانا ںہیں  ببن میاں نے جس انداز سے کہا گھبرانا نہیں ہے ۔ تو مجھے سچ مچ گھبراہٹ شروع ہوگئی ۔ اس پر ببن میاں بولے ابے کیا سوچ ریا یے تو ؟۔  میاں باہر بہت ٹینشن ہے کم سے کم بندہ کچھ وقت کے لئے تو ٹن ٹنا ہو جاتا ہے ۔ ہم تو شکر گزار ہیں ان شام کے اخبارات کے جو بہانے بہانے سے اپنا نام بنانے کی خاطرنمونہ دکھاتے ہیں پھرمال کے لئے لوگ ہمارے پاس آتے ہیں ۔ تیری مثال سامنے ہے نا۔۔

مجھے تو آج پتہ چلا کہ ہماری آنکھیں کس قدر جمہوری ہوچکیں ہیں جو دکھائو وہی دیکھتی ہیں۔ کاش ان آنکھوں کو کوئی کہے گھبرانا نہیں اچھا وقت بھی  ضرور دیکھیں گی، دلفریب عوامی نظارے۔ عوام کے ذریعے ۔عوام کے لئے ۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube