ہوم   >  بلاگز

پولیس زور آور کے ہاتھوں یرغمال یا طاقتور کیسے بنتی ہے؟

SAMAA | - Posted: Dec 14, 2019 | Last Updated: 1 month ago
SAMAA |
Posted: Dec 14, 2019 | Last Updated: 1 month ago

یہ ایک ایسا قصہ ہے جس میں علاقے کے بے آسرا لوگ ایک بدمعاش کے رحم و کرم پر تھے اور پولیس بھی اس کے سامنے بھیگی بلی بنی ہوئی تھی۔

ضلع شکارپور کے علاقے باگڑجی میں میری بحیثیت ایس ایچ او نئی تعیناتی ہوئی تھی، جس کے کچھ روز بعد مجھے ایک لڑکی کا خط موصول ہوا، اس نے لکھا تھا کہ وہ شکارپور کے ایک اسکول میں ٹیچر ہے، جہاں جانے کیلئے پبلک ٹرانسپورٹ کا استعمال کرتی ہے، وہ کچھ دن پہلے صبح کے وقت شکارپور جارہی تھی کہ راستے میں ایک آدمی نے اشارہ کرکے گاڑی کو رکوایا، اس لڑکی کو ہاتھ سے پکڑ کر گاڑی سے نیچے اُتار لیا اور گاڑی والے کو جانے کا اشارہ کردیا۔ وہ آدمی اسے ایک نزدیکی گھر میں لے گیا اور شام تک اس کی عزت سے کھیلتا رہا، پھر غروب آفتاب سے پہلے باگڑجی جانے والی ایک گاڑی میں اسے سوار کرادیا۔

لڑکی نے مزید لکھا تھا کہ وہ ایک مجبور اور غریب خاندان سے تعلق رکھتی ہے اور اپنی عزت کی خاطر منظر عام پر نہیں آسکتی، اسی مذکورہ مقام پر لڑکیوں کے ساتھ روزانہ یہ تماشہ ہوتا ہے، لیکن کوئی بھی لڑکی اس حوالے سے اپنا منہ کھولنے پر آمادہ نہیں ہوگی۔ اس لڑکی نے یہ بھی لکھا تھا کہ آپ ہمارے رکھوالے ہیں آپ کو معاملہ بتادیا لیکن اگر آپ نے بھی کچھ نہیں کیا تو میں قیامت کے دن آپ کا گریبان ضرور پکڑوں گی، خط کے آخر میں اُس نے ملزم کے نام کے ساتھ دیگر تفصیل بھی لکھ دی تھی۔

خط پڑھتے ہی میں پریشان ہوگیا، ایسا تو صرف ڈراموں اور فلموں میں دیکھا تھا، حقیقت میں بھی ایسا ہورہا تھا اس کا مجھے اندازہ نہیں تھا۔ سچ تو یہ ہے کہ میں اندر سے ڈر گیا تھا کہ کیا واقعی ہمارے مُلک میں جنگل کا قانون ہے اور جرائم پیشہ و بد قماش افراد اتنے مضبوط ہیں کہ لوگوں کی شُنوائی تک نہیں ہورہی۔

میں نے تھانے کے پُرانے اہلکاروں سے معلومات حاصل کیں تو پتہ چلا کہ مذکورہ ملزم ایک بہت بڑا بدمعاش ہے اور سالوں سے شہر میں دکانداروں سے بھتہ لیتا ہے، وہ جس دکان سے جو چاہے اٹھا لے جاتا ہے۔ کچھ عرصہ قبل ایک تھانیدار کسی چوری کے بعد چوروں کا سراغ لگاتا اس بدمعاش کے ڈیرے پر جا پہنچا تو وہاں بدمعاش کے ساتھیوں نے ڈنڈوں سے اس کی خوب تواضع کی تھی اور کیس کے مدعی کو بھی زخمی کردیا تھا۔

کسی کارروائی سے قبل لڑکی کے بیان کی تصدیق بھی لازمی تھی، لہٰذا میں سادہ لباس میں جائے وقوعہ پر گیا اور تھوڑی سی تگ و دو کے بعد تانگے والوں اور دیگر لوگوں سے دریافت کرنے کے بعد اس واقعے کی تصدیق ہوگئی، تاہم سب ہی اس سے دہشت زدہ نظر آئے۔

مشورہ کرنے پر پرانے اہلکاروں نے مجھے خبردار کیا کہ 200-300 کی نفری اور پکے ثبوتوں کے بغیر چھاپہ مارنے کی صورت میں پولیس پٹ کر خالی ہاتھ ہی وہاں سے واپس آئے گی اور اس کے بعد اس گروہ کی انتقامی کارروائیوں کے نتیجے میں علاقے میں چوریوں کا ایک طویل سلسلہ شروع ہوجائے گا جو بالآخر آپ کے فوری تبادلے کا باعث بنے گا۔ میں نے یہ سنتے ہی پہلی مرتبہ ایس ایچ او کے ناموں والا بورڈ غور سے دیکھا تو مجھے ایک بھی ایسا نظر نہ آیا جو دو تین ماہ سے زیادہ وہاں تعینات رہا ہو، میرے تھانے میں 15، 16 پولیس اہلکار ہی تھے اور ان میں سے ایک بھی ایسا نہ تھا جو اس بدمعاش اور اس کے حواریوں سے کبھی بیجا مار پیٹ کا نشانہ نہ بنا ہو۔

میں خط لیکر شکارپور اپنے ایس ایس پی سے ملنے چلا گیا اور اُن کو سارا ماجرا بتایا، انہوں نے صاف انکار کردیا کہ میں نفری نہیں دے سکتا اگر چھاپے کے دوران کوئی پولیس والا مارا گیا تو میں آئی جی صاحب کو کیا جواب دوں گا۔

میں ناامید ہوکر تھانے واپس آگیا، بدمعاش کے پاس 100 کے قریب کارندے تھے، میں اکیلا کیا کر سکتا تھا، تھانے میں ایک پُرانا ہیڈ کانسٹیبل غلام نبی کورائی تھا، جس میں تدبر اور فرض شناسی کی جھلک نظر آتی تھی، لہٰذا میں نے اس سے مشورہ طلب کیا کہ اس بدمعاش سے کیسے جان چھڑانی جائے۔

اس نے مجھے ایک ترکیب بتاتے ہوئے کہا کہ وہ کچھ روز میں اس بدمعاش کے کسی خاص ساتھی کو بہانے سے تھانے لائے گا اور لاک اپ میں ڈال دے گا، وہ اسے چھڑانے تھانے ضرور آئے گا، اس دوران آپ تھانے کی نفری کو تھانے پر ہی حاضر رہنے کا حکم دے دینا، پھر جیسے ہی اصل بدمعاش تھانے پہنچے گا ہم دبوچ کر اسے بھی لاک اپ کردیں گے، اس کے جکڑے جانے کے بعد اس کے سارے کارندے بھاگ جائیں گے، بس تھوڑی ہمت اور تدبیر کی ضرورت ہے۔

دو دن بعد غلام نبی بدمعاش کے ساتھی کو لاک اپ کرنے میں کامیاب ہوگیا، میں نے اُسی وقت ہیڈ محرر کو بُلاکر لاک اپ کی چابی لے کر اپنے قبضے میں کر لی اور نفری کو تھانے پر حاضر رہنے کا حُکم دے دیا۔

چار دن تک بدمعاش کا تھانے آنے کا انتظار کرتا رہا، غُلام نبی نے مجھے بتایا کہ بدمعاش کے کچھ لوگ ڈیل کے عوض کارندے کو چھڑانے کی بات کرنے آئے تھے، میں نے اُن سے کہہ دیا کہ ایس ایچ او نئے ہیں اور انہیں آپ لوگوں کی طاقت کا اندازہ نہیں ہے، آپ سے مل کر اپنی دھونس جمائیں وہ آپ کا آدمی چھوڑ دیں گے۔

اگلے روز میں اپنے دفتر میں بیٹھا تھا کہ میری کُرسی کے پیچھے والی کھڑکی سے گھوڑے کے ہنہانے کی آواز آئی میں نے حیرت سے مُڑ کر باہر جھانکا تو مجھے وہ بدماش گھوڑے سے اُترتا نظر آیا، پھر اس کے ساتھ آنے والے ایک لڑکے نے گھوڑے کو اسی کھڑکی کی سلاخ سے باندھ دیا، میں نے فوراً تمام نفری کو الرٹ کردیا۔

وہ بغیر اجازت میرے دفتر میں گھسا اور کرسی کھینچ کر بیٹھ گیا اور میرا آدھا نام لیتے ہوئے بُلند آواز میں کہا کہ نیاز میرے ساتھی کو بند کرنے کی جرأت کیسے کی، میں اسے دیکھتا رہا اور وہ اپنے تئیں مجھے دباؤ میں لانے کی کوشش میں مسلسل بک بک کرتا رہا، تاہم کچھ ہی دیر میں غلام نبی 5 اہلکاروں سمیت میرے کمرے میں تھا، بس پھر کیا تھا ہم ساتوں اس کی طرف بڑھے لیکن وہ ایسا مسٹنڈا تھا کہ ہم تمام کو خاصی جدوجہد کرنی پڑی اور بالآخر اسے چت کر لیا، پھر ہمارے ایک خصوصی ہتھیار چھتر سے ایسی تواضع کہ وہ منت سماجت پر اُتر آیا۔

چوںکہ شہر میں اُس کا بڑا رعب و دبدبہ تھا مجھے لوگوں کو باور کرانا تھا کہ اس کی بدمعاشی کے دن گئے، لہٰذا میں نے اسے زنانہ لباس میں گدھے پر بٹھایا اور اپنی خوفزدہ نفری کے ذریعے اسے پورے شہر میں گشت کروایا، بعد ازاں ہم اسے لاک اپ کرکے اس کے اڈے پر گئے اور وہاں سے 100 کے قریب بھینسیں، چوری کی موٹر سائیکلیں اور دیگر مسروقہ مال بغیر کسی مزاحمت کے ٹرکوں میں ڈال کر تھانے لے آئے، بس پھر کیا تھا پورا شہر ہی تھانے آگیا اور اپنا اپنا مسروقہ سامان شناخت کرنے بیٹھ گیا، اس ساری کامیابی کا سہرا غلام نبی کے سر تھا، جسے میں نے گلے لگا کر اس کا شکریہ ادا کیا اور اس کی نگرانی میں برآمد شُدہ چوری کا سارا سامان ایف آئی آرز کٹوا کر حقداروں کے حوالے کروایا۔

اس طرح بدمعاش پر 30 کے قریب چوری کے مقدمات بنے، 14 روز تک اس کی اور اس کے دست راست کی بلا ناغہ ہر رات چھترول کی جاتی، بالآخر بدمعاش کے کس بل نکلتے چلے گئے اور اس نے متعدد لڑکیوں کے ساتھ زیادتی کا بھی اعتراف کرلیا، اس کے دیگر تمام ساتھی مفرور ہوچکے تھے۔

میری تعیناتی اُس تھانے میں تقریباً تین سال رہی، بدمعاش اس دوران ڈر کے مارے ضمانت پر خود کو رہا بھی نہ کرا سکا، کیوں کہ اسے پتا تھا کہ وہ جیسے ہی باہر آئے گا، میں اسے نئے کیسوں میں پھر دھر لوں گا، تاہم میرے تبادلے کے فوراً بعد ہی وہ ضمانت پر واپس آگیا لیکن اس وقت تک اس کا پورا گینگ تتر بتر ہوچُکا تھا۔

اس بدمعاش کی ایک پرانی دشمنی بھی چل رہی تھی جس کی وجہ سے اس کے ڈیرے پر حملہ ہوگیا، چوںکہ ظالم لوگ اندر سے بُہت بُزدل ہوتے ہیں، وہ بھی ویسا ہی ثابت ہوا اور حملے کے وقت اپنے کارندوں سمیت ایک کمرے میں چھپ کر بیٹھ گیا لیکن دشمنوں نے اُسے ڈھونڈ نکالا، وہ بندوق پھینک کر حملہ آوروں کے آگے گڑگڑاتا اور زندگی کی بھیک مانگتا رہا لیکن مخالفین نے اسے گولیوں سے بھون کر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔

میں نے غلام نبی جیسے فرض شناس اور بہادر انسان کے تعاون سے اس خط والی اور اس جیسی دیگر مظلوم لڑکیوں کو انصاف دلوانے کی مخلصانہ کوشش کی تھی، جس پر اللہ پاک نے علاقے سے اس بدمعاش ٹولے کا قلع قمع کرنے اور لوگوں کو سکون کا سانس فراہم کروانے میں میری غیبی مدد فرمائی۔

تحریر: نیاز احمد کھوسو، ریٹائرڈ سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں
 
WhatsApp FaceBook
 
 
 
 
 
 
 
SINDH, POILCE, DACOIT, CRIMINALS, SAMAA, BLOGS
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube