ہوم   >  بلاگز

مونچھوں کو تاؤ، کندھے پر ہتھیار، یہ کون ہیں سرکار؟

SAMAA | - Posted: Dec 12, 2019 | Last Updated: 2 months ago
Posted: Dec 12, 2019 | Last Updated: 2 months ago

قومی اسمبلی کے اجلاس کے بعد اسمبلی کے باہر دیو قامت انسانی ہیولوں پر نظر پڑی جو مونچھوں میں تاؤ، آنکھوں میں غصہ اور کندھے پر ممنوعہ بور کا اسلحہ سجائے ڈبل کیبن گاڑیوں پر مٹر گشت کررہے تھے۔ گاڑیاں اسمبلی گیٹ پر آن رکیں اور چند ایک ممبران اسمبلی ان پر سوار ہوگئے، پولیس کی موجودگی میں پرائیویٹ ملیشیا دیکھ کر میں خود حیران ہوگیا، پاکستان میں اسلحہ رکھنے کا جنون نیا نہیں، سیاستدانوں سے لے کر عام آدمی تک سبھی اسلحے کے شوقین ہیں۔ ممبران اسمبلی اسلحے کو ذاتی حفاظت کیلئے رکھتے ہیں، لیکن ان کے ہمراہ پرائیویٹ گارڈز اور ان کا بھاری اسلحہ یقیناً قابل تشویش ہے، گزشتہ سال الیکشن گوشواروں میں اراکین اسمبلی نے اپنے اثاثوں میں ممنوعہ اور غیر ممنوعہ ہتھیاروں کو ظاہر کیا، اسلحے کے حوالے سے سیاستدانوں کے جنون کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ درجنوں اراکین پارلیمنٹ کے پاس ہتھیاروں کا ذخیرہ موجود ہے، جس میں فوجی طرز کے انتہائی خطرناک ممنوعہ ہتھیار بھی شامل ہیں۔

اراکین پارلیمنٹ کی جانب سے 2018ء میں ظاہر کئے گئے اثاثے کے تفصیلی جائزے کے مطابق قومی اسمبلی کے 19 اراکین، 10 سینیٹرز کے پاس ذاتی اسلحہ ہے اور انہوں نے اسے ظاہر بھی کیا ہے، مگر کئی ارکان نے تو انہیں اپنے اثاثوں میں ظاہر کرنا بھی گوارہ نہیں کیا، ظاہر کردہ اثاثوں کے اعداد و شمار پر اگر یقین کرلیا جائے تو سندھ اسمبلی کے اراکین کے پاس باقی تینوں صوبائی اسمبلیوں کے ارکان کے پاس موجود ہتھیاروں سے تقریباً دوگنا ہیں، چاروں صوبائی اسمبلیوں سے تعلق رکھنے والے 71 اراکین نے اپنے ذاتی ہتھیار ظاہر کئے، جس میں 47 اراکین کا تعلق سندھ اسمبلی جبکہ پنجاب اسمبلی سے 10، بلوچستان اسمبلی سے 8، خیبرپختونخوا اسمبلی سے 6 اراکین شامل ہیں، جنہوں نے اپنے اثاثوں میں ہتھیاروں کی ملکیت ظاہر کی۔

حیرت انگیز طور پر حال ہی میں خیبرپختونخوا اسمبلی کا حصہ بننے والے قبائلی اضلاع کے اراکین میں سے کسی نے بھی کاغذات نامزدگی جمع کرواتے ہوئے اپنے ہتھیار ظاہر نہیں کئے، مذکورہ اعداد و شمار بلوچستان اور خیبرپختونخوا کی عمومی ثقافت کے بالکل برعکس ہیں، جس میں ہتھیاروں کا بڑا گہرا اثر پایا جاتا ہے۔ متعدد اراکین پارلیمنٹ کی ملکیت میں ممنوعہ اور غیر ممنوعہ ہتھیار موجود ہیں، ان ہتھیاروں میں جرمن جی-3 بیٹل رائفل اور ایم پی-5 سب مشین گنز سے لیکر روسی ساختہ اے کے-47 یا المعروف کلاشنکوف بھی شامل ہیں، اس کے علاوہ مختلف میعار کی شاٹ گنز، آسٹرین گلوک اور روسی ساختہ میکاروف پستول بھی اراکین اسمبلی کے اسلحہ خانوں کا حصہ ہیں۔

جن 99 اراکین نے اپنے اثاثوں میں ہتھیاروں کو ظاہر کیا ہے، ان میں سے اکثریت نے مبہم تفصیلات فراہم کیں، کسی میں ہتھیاروں کے نمبر یا ساخت نہیں بتائی گئی تو کئی افراد نے اس کی مالیت کا ذکر نہیں کیا اور دعویٰ کیا کہ یہ ہتھیار یا تو انہیں وراثت میں ملے یا تحفے میں۔

سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اقتدار سنبھالتے ہی وعدہ کیا تھا کہ وہ اسلام آباد میں پرائیویٹ ملیشا کا خاتمہ کردیں گے، مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے وعدے کے مطابق قانون سازی کی کوشش تو کی مگر وہ اس میں کامیاب نہ ہوسکے۔

پرائیویٹ ملیشیا کا رجحان صرف سیاستدانوں تک ہی محدود نہیں بلکہ عام آدمی بھی مسلح ہوکر نکلنا پسند کرتا ہے، پاکستان میں مونچھوں کو تاؤ اور کندھے پر آتشیں اسلحہ برتری کی علامت سمجھا جاتا ہے، اگر پاکستان میں پرائیویٹ ملیشیا اور ملکیتی اسلحے کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا جائے تو انتہائی خطرناک صورتحال سامنے آتی ہے۔

عالمی تنظیم ’’گن پالیسی آرگنائزیشن‘‘ نے 2007ء سے 2017ء تک پاکستان میں اسلحہ کلچر پر رپورٹ تیار کی۔ تنظیم کے اعداد و شمار کے مطابق نجی اسلحے کی فہرست میں 2007ء میں پاکستان 178 ممالک کی فہرست میں 57 ویں نمبر پر تھا جبکہ 2017ء میں ہمارا ملک چھٹے نمبر پر آگیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق 2007ء میں پاکستانی عوام کے پاس ملکیتی ہتھیاروں کی تعداد 1 کروڑ 80 لاکھ تھی جو کہ 2017ء میں بڑھ کر 4 کروڑ 39 لاکھ 17 ہزار ہوگئی، لیکن اتنی بڑی تعداد میں اسلحہ ہونے کے باجود صرف 60 لاکھ افراد نے اسلحے کا لائسنس حاصل کر رکھا ہے، 2007ء میں ملکیتی اسلحے کا تناسب 11.6 فیصد تھا جوکہ 2017ء میں بڑھ کر 22.3 فیصد ہوگیا۔

گن پالیسی آرگنائزیشن نے اپنی رپورٹ میں مزید بتایا ہے کہ پاکستان آرمی کے پاس آتشیں اسلحے کی تعداد 23 لاکھ 15 ہزار 480، پولیس کے پاس 9 لاکھ 44 ہزار ہے جبکہ عام عوام کے پاس 1 کروڑ سے زائد آتشیں ہتھیار ہیں، یعنی پاک آرمی اور پولیس کے دوگنے سے بھی زائد ہتھیار پاکستانی عوام کے پاس ہیں۔

اتنی بڑی تعداد میں اسلحہ ہونے کے باوجود قانون سازی پر سوال اٹھتے ہیں، برصغیر میں 1924ء میں آرمڈ رولز بنے جو کہ قیام پاکستان تک جاری رہے، 1965ء میں جنرل ایوب خان نے آرمڈ آرڈینس جاری کیا، جس میں 1999ء اور 2001ء میں معمولی ترامیم ہوئیں تاہم آج تک اسی آرڈینس پر عملدرآمد کیا جارہا ہے، اس آرڈینس کی دفعہ 4 اور سیکشن اے کے مطابق ممنوعہ بور کے اسلحہ کی خرید و فروخت، مرمت اور تحویل میں رکھنا قابل سزا جرم ہے، اسی آرڈیننس کا سیکشن 7 انتہائی اہم ہے، جس کے مطابق لائسنس یا غیر لائسنس شدہ اسلحہ ایسی صورت میں لہرایا جائے کہ عوام میں خوف و ہراس کی فضاء پیدا ہو تو پولیس ایسے شخص کو فوری طور پر بغیر وارنٹ کے گرفتار کرسکتی ہے، گرفتاری کے بعد ہی مجرم کو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

اٹھارویں ترمیم کے بعد 2012ء میں آرمڈ پالیسی آئی، جس کے مطابق اسلحے کا لائسنس جاری کرنے کی ذمہ داری صوبوں کی تھی، صوبائی حکومت صرف لائسنس یافتہ اسلحے کی تجدید اور نئے لائسنس جاری کرنے کی مجاز ہے جبکہ ممنوعہ بور کے اسلحے کا لائسنس صرف وزیراعظم ہی جاری کرنے کے مجاذ ہیں، اسی پالیسی کے مطابق ایک لائسنس پر صرف 2 افراد ہتھیار رکھ سکتے ہیں، جس میں دوسرا فرد صرف خونی رشتہ دار ہی ہوسکتا ہے، تاہم اس کا کریکٹر سرٹیفکیٹ اور ڈاکومنٹس بھی جمع کرانے لازمی ہوں گے، اسلحہ وراثت میں بھی دیا جاسکتا ہے، ممنوعہ یا لائسنس والے ہتھیار کے حامل افراد صرف 500 کارتوس ہی رکھ سکتے ہیں، کسی بھی سزا یافتہ مجرم کو لائسنس جاری نہیں کیا جائے گا، سیکیورٹی ایجنسی کو بھی اسلحہ لائسنس جاری کیا جاسکتا ہے، تاہم ان کے پاس تصدیق شدہ اجازت نامہ ہو تبھی ایجنسی درخواست دینے کی اہل ہوسکتی ہے، ایجنسی کی درخواست پر ایڈیشنل سیکریٹری وزرات داخلہ، آئی جی پولیس، آئی ایس آئی اور آئی بی کے نمائندے تحقیقات کریں گے، جس کے بعد ہی لائسنس جاری ہوسکتا ہے۔

اسلحے کو کنٹرول میں رکھنے کیلئے پاکستان میں سخت قوانین موجود ہیں جبکہ پاکستان نے 2001ء میں اقوام متحدہ کے انسداد اسلحہ معاہدے پر بھی دستخط کئے ہوئے ہیں، جس کے مطاق رکن ممالک چھوٹے اور بڑے اسلحے کی تیاری کو روکنے کی کوشش کریں گے، ملکی قوانین اور اقوام متحدہ کیساتھ معاہدے کے باوجود شہریوں میں اسلحے کے رجحان کو قابو نہیں کیا جاسکا۔

ایک رپورٹ کے مطابق 2007ء سے 2017ء تک ملک بھر میں 1 لاکھ 20 ہزار شہری آتشیں اسلحے کے ذریعے قتل ہوئے، یہ اعداد و شمار جہاں عوام کیلئے تشویشناک ہیں، وہیں قومی اسمبلی میں موجود ممبران کی ذمہ داریوں میں بھی اضافہ کرتے ہیں۔

یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ خود بڑی تعداد میں اسلحہ اور نجی ملیشیا رکھنے والے سیاستدان اسلحہ سے متعلق قانون سازی میں سنجیدہ ہوں گے؟، شہریوں کی حفاظت ریاست کی ذمہ داری ہے، ریاست کے ہوتے ہوئے پرائیویٹ آرمی کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟، اسلحہ خوف و ہراس کی علامت ہے یا چودھراہٹ قائم رکھنے کا ذریعہ ہے؟، بہرحال تمام صورتوں میں قانون پر عملداری ضروری ہے۔ ممنوعہ اور غیر ممنوعہ اسلحہ لائسنس کی مانیٹرنگ کے ذریعے اس خوفناک کاروبار کو روکنا ہوگا، یہ جہاں قانون سازوں کی ذمہ داری ہے، وہیں ملک میں امن و امان قائم رکھنا عوام کا بھی فریضہ ہے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں
 
WhatsApp FaceBook
 
 
 
 
 
 
 
ARMED RULES, PAKISTAN, PARLIAMENTARIANS, PPP, PMLN, PTI, ANP, TRIBAL AREAS, KP, SINDH, BALOCHISTAN, PUNJAB, MQM, SENATE, NATIONAL ASSEMBLY
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube