Sunday, August 9, 2020  | 18 Zilhaj, 1441
ہوم   > بلاگز

کروڑ پتی باپ کی لاڈلی ڈھابہ چلانے پر مجبور

SAMAA | - Posted: Dec 9, 2019 | Last Updated: 8 months ago
SAMAA |
Posted: Dec 9, 2019 | Last Updated: 8 months ago

حکومت سے بیٹی کے علاج کی اپیل ہے

ماضی میں سپر ہٹ فلمیں بنانے والے فلمساز ایم اے رشید کی بیٹی ان دنوں کسمپری کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ ایم اے رشید کی لاڈلی بیٹی ان دنوں اسلام آباد میں ڈھابہ چلا کر اپنا، بیٹی اور نواسے کا خرچہ اٹھاتی ہیں۔

دل میرا دھڑکن تیری، پاٹے خان اور صاحب جی جیسی سپر ہٹ فلمیں بنانے والے مشہور فلمساز مرحوم ایم اے رشید کی لاڈلی بیٹی رافعہ عرف بنٹی شوہر اور داماد کی بے رخی کے بعد بیٹی اور نواسے کا بوجھ اٹھانے کے لئے ڈھابہ کھول کر اپنی گزر بسر کرتی ہیں۔

سما سے گفتگو میں رافعہ کا کہنا تھا کہ ابو فوت نہیں ہوئے لگا میں فوت ہوگئی ہوں، ابا جی ہاتھوں پر اٹھائے پھرتے تھے مگر اب لوگوں نے بوجھ سمجھ لیا۔ پہلے شوہر نے ساتھ چھوڑا پھر نفسیاتی بیماری میں مبتلا بیوی کو چھوڑ کر داماد بھی کنارہ کرگیا۔ میں نے پھر بھی ہمت نہ ہاری۔ بیٹی کے علاج اور نواسے کا بوجھ اپنے بوڑھوں کندھوں پراٹھا لیا۔

ماضی کا ذکر کرتے ہوئے رافعہ کا کہنا تھا کہ ہوش سنبھالتے ہی گھر میں نوکروں کی فوج دیکھی۔ زندگی کا ہر عیش و آرام دیکھا اور بڑھاپے میں قسمت نے ایسے دن دکھائے کہ عروج کو زوال کی کھائی میں لا گرایا۔

والد کے انتقال کے بعد سے رافعہ رشید اسلام آباد میں سڑک کے کنارے ایک چھوٹا سا ڈھابہ لگانے پر مجبور ہوگئی ہے۔ ایم اے رشید نے اپنی زندگی میں 2 شادیاں کی تھیں جن سے اُن کے 14 بچے تھے، اِن بچوں میں رفیعہ رشید اُن کی سب سے لاڈلی بیٹی تھی۔ وہ ایک کمرے کے مکان میں اپنی بیٹی اور نواسے کے ساتھ رہتی ہیں۔

تلخ لمحات کا ذکر کرتے ہوئے رافعہ نے کہا کہ جب میری شادی ہوئی تو سسرال والے اور شوہر سب میرے ساتھ بہت اچھے تھے پھر میرے یہاں بیٹی کی پیدائش ہوئی، جب میری بیٹی تھوڑی بڑی ہوئی تو اُس کو ایک بائی پولر ڈس آرڈر کا مرض لاحق ہوگیا تھا جو کہ ایک نفسیاتی مرض ہے، اُس کے بعد میرے شوہر نے مجھے چھوڑ دیا تھا، اُس کے بعد میں اپنی بیٹی کے ہمراہ الگ گھر میں رہنے لگی میرے والد صاحب اُس وقت حیات تھے اور وہ ہر مہینے مجھے لندن سے 50 ہزار روپے بھیجا کرتے تھے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ جب بیٹی کی شادی ہونے لگی تو میں نے اپنے داماد اور بیٹی کے سُسرال والوں کو بیٹی کے نفسیاتی مرض سے آگاہ کردیا تھا، شادی کے ابتدائی دِنوں میں تو اُن کا رویہ میری بیٹی کے ساتھ بلکل ٹھیک تھا، میرے پاس اُس وقت لاہور میں 2 گھر بھی تھے اور زیور اور پیسے بھی تھے تو میرا داماد اکثر آتا تھا اور مجھ سے پیسے لے کر چلاجاتا تھا لیکن کبھی واپس نہیں کرتا تھا، وقت کے ساتھ ساتھ جب میری جمع پونجی ختم ہوگئی تو میرے داماد نے آنا چھوڑ دیا اور میری بیٹی کو میرے پاس چھوڑ کے چلاگیا۔

 

رافعہ کے مطابق میں بعد میں اپنے 7 سالہ نواسے اور بیٹی کو لے کر اسلام آباد آگئی اور یہاں آکر کرائے پر ایک کمرے کا مکان لیا، گھر چلانے اور بیٹی کا علاج کروانے کے لیے ڈھابا کھولا جہاں وہ اپنے ہاتھ سے کھانا تیار کرکے بیچتی ہیں، اُنہوں نے کہا کہ بیٹی کے علاج پر ماہانہ 8 سے 9 ہزار تک خرچہ کا آتا ہے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube