Sunday, September 27, 2020  | 8 Safar, 1442
ہوم   > بلاگز

مردانہ بانجھ پن کا بڑا سبب کیا؟

SAMAA | - Posted: Nov 29, 2019 | Last Updated: 10 months ago
SAMAA |
Posted: Nov 29, 2019 | Last Updated: 10 months ago

نوعمری کی بعض عادات بھی مردانہ بانجھ پن کاباعث

سماء کے پروگرام قطب آن لائن میں مردانہ بانجھ پن جیسے اہم ترین موضوع پر بات کی گئی جسے عام طور پر معاشرے میں نظرانداز کردیا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ مردانہ بانجھ پن کا تصور معاشرے میں اتنا عام نہیں اور اولاد نہ ہونے کا ذمہ دار عموما عورتوں کو ہی سمجھاجاتا ہے۔

پروگرام میں شریک مردانہ امراض کی ماہرخاتون ڈاکٹرثمرہ امین نے کہا کہ کہ پاکستان میں مردوں کی آبادی کا تناسب 48 فیصد ہے جن میں سے46 فیصد مرد حضرات مسائل کا شکار ہیں، اکثریت کا مسئلہ ازدواجی تعلقات کے حوالے سے ہے۔ حکومتی سطح پر اس مسئلے کو اجاگر نہیں کیا جاتا نہ ہی طبی حوالے سے اسے پڑھایا جاتا ہے جبکہ دیگرممالک میں ایسا نہیں۔ ان مسائل کی وجہ سے بہت سی شادیاں ٹوٹ جاتی ہیں جبکہ مردانہ کمزوری قابل علاج ہے۔

ڈاکٹر ثمرہ امین چوہدری کے مطابق بچوں میں مردانہ ہارمونز کم ہورہے ہیں جو 12 سے 13 سال کی عمر میں پیدا ہوتے ہیں لیکن اب ان میں کمی کی بڑی وجہ معاشرتی بیماریاں ہیں، موبائل فون کا غلط استعمال بھی اس کی بڑی وجہ ہے جو دماغ پراثرانداز ہوتا ہے۔ دو مرکزی گلینڈز ڈسٹرب ہونے سے ایک سطح پرآکر وہ کام کرنا بند کردیتے ہیں، اور ان مسائل کا علم شادی کے وقت ہوتا ہے۔

پروگرام میں شریک علامہ شفاعت رسول نے کہا کہ ہروہ کام جو انسان کی طبیعت ، مزاج مستقبل کو تباہ کررہا ہو، اسلام میں اس کی وضاحت فرماتے ہوئے ممنوعہ اور حرام کاموں کا بتایا گیا ہے۔ ہمارے ہاں ماں باپ بھی اپنے بچوں سے ایسی بات کرتے ہوئے ہچکچاتے ہیں اور اسکولوں وغیرہ میں بھی اس موضوع سے اجتناب برتا جاتا ہے جبکہ یورپ وغیرہ میں 8، 9 سال کے بچوں کو بھی سمجھایا جاتا ہے۔

ڈاکٹرثمرہ امین کے مطابق دورجدید میں موبائل فون کے بے جا استعمال سے بچیاں بھی اس جانب راغب ہو رہی ہیں۔ موبائل فون پرگیمز کھیلنا دماغ کیلئے کھلی تباہی ہے، اس سے پہلے بچے کھیلوں میں دلچسپی رکھتے تھے،کھلے میدان میں بچوں کا کھیلنا بہت اہمیت رکھتا ہے۔

دوران پروگرام ایک کالرنے اپنا مسئلہ بتایا کہ سرجری کراتے وقت ڈاکٹرزکی غفلت سے انہیں بانجھ پن کا عارضہ لاحق ہوگیا۔ ڈاکٹر ثمرہ نے کہا کہ پروسٹیٹ سرجری کیلئے اگر ماہرسرجن نہ ہو تو یہ ممکن ہے کہ مریض مردانہ بانجھ پن کا شکار ہوجائے جس کا علاج ممکن نہیں اس لیے ڈاکٹرز بھی احتیاط کریں۔

ایک کالرکے سوال کا جواب دیتے ہوئے ڈاکٹر ثمرہ نے بتایا کہ ہرنیا کے مرض کا تعلق مردانہ بانجھ پن سے نہیں ہوتا۔ مردانہ ہارمونز کی نارمل تعداد تعداد ایک ملی لیٹرمیں 15ملین ہے۔ مردانہ اعضاء کے الٹراساؤنڈ سے وجہ معلوم کی جاسکتی ہے اور یہ قابل علاج ہے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
Qutb online , male infertility , male sperm
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube