ہوم   >  بلاگز

اسموگ سے بچاؤ کیلئے سرجیکل نہیں ریسپائریٹر ماسک ضروری

3 weeks ago

اگر آپ کراچی اور لاہور میں اسموگ اور فضائی آلودگی سے بچنا چاہتے ہیں تو اس کیلئے سب سے سستا اور سادہ سا حل ریسپائریٹر ماسک ہے نہ کہ سرجیکل یا کپڑے سے بنا ماسک، جو کسی کام کا نہیں۔

لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ ہرے رنگ کا سرجیکل ماسک پہن کر محفوظ ہوگئے تاہم حقیقاً ایسا بالکل بھی نہیں، یہ ماسک آپ کے منہ اور ناک کو مکمل طور پر کور نہیں کرتا جس کے باعث آپ مسلسل آلودہ ہوا اپنے اندر کھینچ رہے ہوتے ہیں۔ سرجیکل ماسک صرف ڈاکٹرز کو خون یا کسی سیال کے چھینٹوں (اڑتے ہوئے قطروں) سے بچانے کیلئے بنائے گئے ہیں، یہ آپ کے پھیپھڑوں کو بچانے کیلئے بالکل بھی کار آمد نہیں۔

انتہائی پتلا اور ڈھیلا سرجیکل ماسک پرٹیکیولیٹ میٹر 2.5 (پی ایم 2.5) سے بچانے کیلئے انتہائی غیر مؤثر ہے۔ پرٹیکیولیٹ میٹر، جیسا کہ اس کے نام سے پتہ چلتا ہے کہ انتہائی چھوٹے ٹھوس اور مائع ذرات ہوا پھیلے ہوتے ہیں، آپ سانس کے ساتھ انہیں اندر کھینچ لیتے ہیں اور یہ آپ کے پھیھپڑوں میں انتہائی گہرائی تک پہنچ جاتے ہیں۔ پی ایم نامیاتی اور غیر نامیاتی مادوں کا مرکب ہوتا ہے، جیسا کہ دھول، پولن، راکھ، دھواں اور مائع بوندیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کپڑوں سے بنے سستے ماسکوں میں بھی وہی مسئلہ ہے، جنہیں لوگوں نے پہننا شروع کردیا ہے۔ کپڑا خود ریشہ ہے جو غیر محفوظ ہے، پی ایم (انتہائی باریک ذرات) اس میں سے گزر جاتے ہیں۔

جو بھی غیر محفوظ اور آلودہ فضا میں سانس نہیں لینا چاہتا اسے ریسپائریٹر ماسک کی ضرورت ہے، جو خاص طور پر اس لئے بنایا گیا ہے کہ آپ کو نقصان دہ ذرات اپنے اندر کھینچنے سے روک دے۔

آپ کو امریکی ادارے این آئی او ایس ایچ سے منظور شدہ این 95 ریسپائریٹر  کی ضرورت ہے، جو دنیا بھر میں خطرناک پی ایم 2.5 کو خاص طور پر پھیپھڑوں تک پہنچنے سے روکنے کیلئے تجویز کیا جاتا ہے۔ انہیں ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن اور امریکا کی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کی جانب سے بھی کلیئر قرار دیا گیا ہے۔

آپ این 95 ریسپائریٹر ماسک کراچی، لاہور، راولپنڈی اور فیصل آباد سے بآسانی خرید سکتے ہیں۔ ایک بین الاقوامی کمپنی 3 ایم پاکستان (خصوصاً تعمیراتی کارکنوں کیلئے) ریسپائریٹرز فروخت کرتی ہے۔ یہ ریسپائریٹرز 95 سے 99.9 فیصد تک آلودگی کو صاف کرتے ہیں۔ ریسپائریٹر بنانے والی دیگر کمپنیوں میں ہنی ویل، پرو ہیلتھ اور ژیاؤ می، جن سے آپ آن لائن بھی خریداری کرسکتے ہیں۔

عام طور پر ایک سادہ ریسپائریٹر ماسک کی کم سے کم قیمت 100 روپے اور زیادہ سے زیادہ 300 روپے تک ہے، انہیں پہن کر سانس لینا انتہائی آسان ہے، یہ بالکل کپڑوں کی طرح لگتا ہے، لیکن در حقیقت یہ پولیمر سے تیارہ کئے جاتے ہیں جو ایڈوانس ایئر فلٹریشن سسٹم کے طور پر مائیکرو اسکوپک ایم پی 2.5 کو روکنے کیلئے کام کرتے ہیں، جسے انسانی نظام میں قدرتی طور پر موجود دفاعی میکنز (ناک میں موجود بال) روکنے سے قاصر ہے۔ اس کا واحد نقصان یہ ہے کہ آپ انہیں صرف ایک ہفتہ تک استعمال کرسکتے ہیں، جس کے بعد یہ غیر مؤثر ہونے کے باعث بیکار ہوجاتے ہیں۔

یہاں انتہائی مہنگے ریسپائریٹر ماسک بھی دستایب ہیں، جو گیس ماسک کی طرح لگتے ہیں، ایسے ماسک آپ نے فلموں میں دیکھے ہوں گے۔ جن کی قیمت 3 ہزار روپے سے شروع ہوتی ہے جبکہ انہیں ایک سال تک استعمال کیا جاسکتا ہے۔ یہ ماسک 95 فیصد تک ہوا کو صاف کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، دوہرے فلٹریشن سسٹم والے ریسپائریٹر میں چند ہفتوں بعد فلٹر تبدیل کئے جاسکتے ہیں، یہ فلٹر علیحدگہ سے خریدے جاسکتے ہیں۔

آپ انہیں کہاں خرید سکتے ہیں

این 5 ریسپائریٹر آن لائن بھی خریدے جاسکتے ہیں، کراچی کی بولٹن مارکیٹ کے نکول روڈ، لاہور میں ایس ڈی او آفس کے قریب جی او آر 2 ایریا اور راولپنڈی صدر میں یہ ماسک فروخت کئے جاتے ہیں۔

نقالوں سے ہوشیار

مارکیٹیں جعلی ریسپائریٹرز سے بھری پڑی ہیں، جہاں دکاندار ان آلات کے اصلی، ڈبلیو ایچ او اور ایف ڈی اے سے منظور شدہ ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، آپ کو بس اتنا کرنا ہے کہ خریداری سے قبل اپنے فون پر انٹریٹ کے ذریعے اسے سرچ کرلیں۔ مثال کے طور پر 3 ایم ریسپائریٹر کے ڈبے پر منفرد حفاظتی کوڈ (اوپر) اور لاٹ کوڈ (نیچے) دیا گیا ہوگا۔ اسی وقت آپ 3 ایم سیف گارڈ کی سائٹ پر جاکر ان اشیاء کے کوڈز کی تصدیق کرسکتے ہیں۔

کچھ ضروری ہدایات

ایسے حضرات جو ریسپائریٹر ماسک استعمال کرنا چاہتے ہیں انہیں پتہ ہونا چاہئے کہ داڑھی اس کی کارکردگی کو متاثر کرسکتی ہے، ماسک پر موجود پٹیوں کی مدد سے آپ کو اسے چہرے پر اس طرح لگانا ہوگا کہ کوئی خلاء نہ رہے۔ یہی وجہ ہے کہ مردوں کو ایسے حفاظتی آلات کے استعمال سے قبل شیو کرانوے کی تجویز دی جاتی ہے۔ یہ تجویز ایف ڈی اے کی جانب سے اپنی ویب سائٹ پر لگائے گئے ایک بلاگ ’’ٹو بیئرڈ اور ناٹ ٹو بیئرڈ‘‘ (داڈھی رکھیں یا نہ رکھیں)، میں دی گئی ہے، جس میں تصاویر کی مدد سے مکمل طور پر واضح کیا گیا ہے کہ ریسپائریٹر کو چہرے پر ٹھیک طرح سے پہننے کیلئے مرد کس طرز کی داڑھی رکھ سکتے ہیں۔

 
TOPICS:

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں