Monday, January 24, 2022  | 20 Jamadilakhir, 1443

لیلیٰ تو پگلی تھی

SAMAA | - Posted: Nov 21, 2019 | Last Updated: 2 years ago
SAMAA |
Posted: Nov 21, 2019 | Last Updated: 2 years ago

کہتے ہیں کہ عشق بڑا منہ زور جذبہ ہے، اس پر کسی کا زور نہیں۔ اگر کسی کو ایک بار عشق کی بیماری لاحق ہوجائے تو وہ اس کو مشکل سے چھوڑتاہے، مگر ہم نے کئی بار عشق کو چھوڑا اور ایک ایک کرکے چھ مرتبہ ’’شدید ‘‘ عشق کو ٹاٹا کہا اور ہربار یہی سوچا کہ لیلیٰ تو پگلی تھی۔ ہیر احمق ، سوہنی بے وقوف کیونکہ وہ خواتین اس دور کی پیداوار نہیں تھیں۔ یہ تو فاقہ زدہ عاشق تھیں اور ان کا عشق بھی غریب اور مفلوک الحال ،کنگلے ،قلاش اور سادہ مزاج ’’لڑکوں‘‘ سے دل لگا بیٹھی تھیں اور مرتے مرگئیں مگر زبان سے اف تک نہ کیا۔۔۔ تاریخ میں اپنا نام رقم کرگئیں، مگر آج کے دور کی کسی لڑکی کے لیے ’’عبرت کا سامان‘‘نہ کرسکیں۔

 

جب مادی ضروریات غالب آجائیں  تو عشق ہوتا ہے لوگ کہتے ہیں کہ خالی پیٹ محبت نہیں ہوتی، مگر اس مفروضہ کو میں نے غلط ثابت کیا، کیونکہ جب پیٹ خالی ہو تو شدید محبت ہوجاتی ہے بات تجربہ کی ہے مشاہدہ کیا کرنا ہے اور اگر ایک بار پھر سوہنی، لیلیٰ اور ہیر وغیرہ کا ذکر کروں  تویہ کب آسودہ تھیں۔ شاید ہوں مگر میں تو ہوں۔ پہلی بار جب مل اونر کے لڑکے حیدر نقوی سے عشق ہوا تو شدت اختیار کر گیا مگر مسلک آڑے آیا لیکن سمجھنے کی راہیں بھی نکل آئیں کہ کوئی حرج نہیں۔ کچھ نہیں ہوتا یہ سب کہنے کی باتیں ہیں۔ پھر نہ جانے کیا وہ ایکدم وہ دل سے اُتر گیا کیونکہ اس نے اپنی کزن علینہ نقوی سے شادی کرلی۔

 

جن سے وہ گزشتہ چار سال سے ’’انگیج ‘تھا مگر اسے پسند نہیں کرتا تھا مگر اماں ابا کی محبت کے آگے ہتھیار ڈال دئیے اور ہم گانے پر مجبور ہوئے۔’’دل توڑنے والے دیکھ کے چل ہم بھی تو پڑے ہیں راہوں میں اور جب شنکر راٹھور کی باری آئی۔۔۔ توپتہ چلا کہ ان کے ابا کی جائیداد اور زمین تو ہندوستان کے علاوہ یورپ میں بھی ہیں۔۔۔ شنکر راٹھور شاہ رخ خان نہ سہی مگر پر کشش تھا۔۔۔اور چہرے نے تو ہر لحاظ سے ان میں ’’کشش‘‘ تھی۔

 

مزے کی بات یہ کہ وہ بھی پورپور میرے عشق میں ڈوب سا گیا تھا اور مزہ کرکرا کرنے والی بات یہ کہ اب وہ عشق کے ہاتھوں اتنابھی مجبور نہ تھا کہ مذہب ہی کاسودا کرے۔ ایک دن کہنے لگا محترمہ میں نے ’’دل ہارا ہے مذہب نہیں‘‘ میں کیا کرتی۔ آج کے دور میں میں غریبی کو امیری میں بدلنے کا ایک ہی توشارٹ کٹ تھا کہ کوئی بڑا اور موٹا سا مرغا جال میں پھنس کر پھڑپھڑائے اور ’’دکھی من کو شانتی نصیب ہو مگرپریوار میرا مطلب ہے خاندان کو بھی بہت سی قباحتیں درپیش آتیں۔

مذہب ، رسم و رواج ، معاشرہ، قوانین ایک ایک کرکے سب عشق کے دروازے پر پہرہ دینے لگے اور سامنے ہی ایک بورڈ لکھا نظر آیا، داخلہ ممنوعہ ، علاقہ ممنوعہ چنانچہ ہر طرف راستہ نہ پا کر مجھے اپنا راستہ تبدیل کرنا پڑا۔ ابا ریٹائرڈ ہوچکے تھے۔ اماں بھی ٹانگوں سے مفلوج بڑی مشکل سے چلتی پھرتی تھیں۔ دن بدن بڑھتی ہوشربا مہنگائی۔ اماں ابا کی دوائی ڈاکٹروں کی فیس، بہن بھائیوں کی فیس۔ پانی بجلی اورگیس کے بلز آٹا، دال ، چینی ، چاول۔ سب ہاتھوں سے نکلتے جارہے تھے اور آسمان کی وسعتوں میں گم ہوتے جا رہے تھے اور تو اور وقت بھی صابن کی طرح پھسلا جارہا تھا۔ میرے بجٹ میں کسی قسم کے بناؤ سنگھار یا آرائشی سامان کا ذکر نہیں ہے۔ ظاہر ہے میں اپنی معمولی سی تنخواہ میں کیا کیا کرتی۔ ایک موبائل کا رڈ بھی جو کم ازکم سوروپے والا ہوتاہے اور رابطے کا وہ ایک ہی سہارا بھی کبھی کبھی چھن جاتا تھا تو شدت سے تنہائی کا احساس ہوتا تھا۔ آخر آوازیں کبھی تو زندگی کا کام دیتی ہیں دور افتادہ گاؤں یا شہر سے کوئی آپ کو فون کرے تو آپ کو کتنا اچھا لگتا ہے تو ثابت ہوا کہ ’’آواز زندگی کا کام دیتی ہے اور سناٹے موت سے ہمکنار ہوتے ہیں بہرحال اس کے بعد بھی کئی بار عشق کے تجربے سے دوچار ہونا پڑامگر خاطر خواہ فائدہ نہ پہنچ سکا۔

 

چھ بار عشق کو ٹاٹا کہنے کے بعد سنجیدگی سے سوچا کہ ’’زندگی یوں نہیں اچھی ایسے میں کہ ہر چھوٹا مسئلہ ایک بڑے مسئلے کی صورت میں منہ پھار کر کھڑا ہو اور آپ کو ہضم کرنے کے بہانے ڈھونڈ رہا ہو میں جس فیکٹری میں کام کرتی ہوں وہاں کے مالک کا بڑا لڑکا پرسوں ہی یورپ سے آیا ہے۔ سنا ہے باپ کے بعد وہی تو وارث ہوگا اور کل جب ہمارا تعارف کروایا جارہاتھا تو وہ میری طرف دیکھ کر مسکرایاتھا۔ کیاپیاری سی مسکان تھی۔۔۔اور آنکھیں ریاکاری سے پاک گویا مغربی معاشرے کا کوئی اثر نہیں ہوا۔ ابھی اقدار ،روایات اور تہذیب باقی ہے۔۔۔ اور یہی خوبیاں مجھے کلک کرگئیں۔۔۔ اب دل شدت سے مچل رہاہے۔۔۔ کہ وہی تو ہے جس کی برسوں سے تلاش ہے۔ لیلیٰ تو پگلی تھی۔۔۔ مجنوں کا چال ڈھال کبھی نہ دیکھا۔ بینک بیلنس بھی نہ دیکھا اور مرمٹی مگر میری ہزار مجبوریاں، چیخ چیخ کر کہہ رہی ہیں کہ اس ایک شخص سے ’’ناطہ ‘‘جوڑ لو او ر میں آج کل ایک نئے تجربہ کی تیاری میں ہوں۔ شاید یہی عشق ہے آپ کا کیا خیال ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube