Wednesday, August 5, 2020  | 14 Zilhaj, 1441
ہوم   > بلاگز

بغیر توانائی ہنزہ کی بنجر اراضی کو آباد کرنےکا منصوبہ

SAMAA | - Posted: Nov 20, 2019 | Last Updated: 9 months ago
SAMAA |
Posted: Nov 20, 2019 | Last Updated: 9 months ago

تحریر: فہیم اختر

گلگت بلتستان کے سب سے اہم سیاحتی اور جغرافیائی ضلع ہنزہ کے حوالے سے جب بھی بات کی جاتی ہے وہیں پر خواتین کو میسر آزادی کو نظر انداز کرنا ناممکن ہے۔ ضلع ہنزہ اپنے سماجی ترقی کے حوالے سے انتہائی برق رفتار سفر میں ہے جبکہ ماضی قریب میں بھی وہاں پر سماجی ترقی کا پہلو نہ صرف نظر انداز تھا بلکہ کسی بھی زاویہ سے حوصلہ افزاء نہیں تھا لیکن انتہائی کم وقت میں ضلع ہنزہ نے وہ سفر طے کرلیا کہ اب وہاں پر خواتین کی آزادی کے حوالے سے ملک بھر میں مثالیں دی جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ضلع ہنزہ بالخصوص بالائی ہنزہ یعنی گوجال میں آپ کو ہوٹل چلاتے ہوئے پروفیشنل شیف خواتین ملیں گی۔ مقامی مصنوعات اور پھل فروٹ بیچتے ہوئے دوکاندار خواتین ملیں گی۔ اس کے علاوہ گلگت کے دفاتر میں بڑی تعداد میں خواتین مختلف شعبوں کی ذمہ داریاں سنبھالتی ہوئی نظر آتی ہیں جبکہ گوجال میں راہ چلتے ہوئے اپنی انتظامی ذمہ داریاں ادا کرنے والی غالباً جی بی کی واحد ’مجسٹریٹ صاحبہ‘ اکثر ملے گی۔ ہنزہ اور گوجال میں خواتین کی اس ترقی کے پیچھے مقامی اور خواتین کی تنظیموں کا کردار ناقابل فراموش ہے جس کی وجہ سے خواتین کا کھیتوں میں کام کرنا ایک معمولی سی بات بن گئی ہے۔

ضلع ہنزہ کے بالائی علاقے گوجال خیبر میں ایک ایسی ہی خواتین تنظیم نے 250 کنال کے قریب غیر آباد زمین کو آباد کرکے پھل اور سبزیاں اگانا شروع کر دیا ہے۔ ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ، انٹرنیشنل سینٹر فار انٹگریٹڈماؤنٹین ڈویلپمنٹ اور دیگر تنظیموں کی باہمی اشتراک کی وجہ سے یہاں پر مکمل سائنسی طریقہ کار کو استعمال میں لایا گیا ہے۔ جس سے بیک وقت غیر آباد زمین کی آبادی، پانی کی بچت، مقامی کمیونٹی بالخصوص خواتین کےلیے روزگار اور سیلاب وغیرہ کو کم سے کم کرنے میں مدد مل رہی ہے۔

گاؤں خیبر کے بالکل شروعات میں شاہراہ قراقرم اور دریا کے پار تقریباً کئی سو کنال کا غیر آباد علاقہ یا اراضی ہے۔ اس اراضی سے تقریباً 200 فٹ نیچے آبپاشی کےلیے پانی میسر تھا۔ یہ واٹر چینل اے کے آر ایس پی نے کئی سال قبل بنوایا تھا تاہم مذکورہ اراضی پانی سے بالا ہونے کی وجہ سے پانی وہاں تک نہیں پہنچتا تھا۔ جب آبپاشی کےلیے پانی درکار ہوا تو یہاں پر توانائی کو بروئے کار لاتے ہوئے پانی کو 200 فٹ بلندی تک پہنچانے کا واحد آپشن تھا لیکن چونکہ ہنزہ پورا توانائی کی قلت سے دوچار ہے اور ویسے بھی اس کی حفاظت کےلیے اضافی افراد تعینات کرنا پڑ رہے تھے جس کی وجہ سے بغیر توانائی اور بغیر اخراجات کے ایک منصوبہ وضع کیا گیا۔ جس کے تحت واٹر چینل سے 30 کے زاویے پر 25 فٹ نیچے پائپ کے ذریعے ڈھلوان دیا گیا جس کی وجہ سے پانی میں دباؤ پیدا ہوگیا۔ پشاور کے ایک ماہر زراعت کی تجویز پر یہاں بغیر توانائی کا ایک پمپ لگا دیا گیا جو پانی کے دباؤ میں مزید ہوا کا دباؤ پیدا کرتا ہے جسے ریم پمپ کہا جاتا ہے۔ بغیر بجلی کے چلنے والا یہ پمپ تقریباً 250 فٹ اوپر تک پانی پہنچاتا ہے جہاں پر دو بڑی ٹینکیاں نصب کر دی گئی ہیں اور درختوں کو پانی دینے کےلئے ڈرپ ایریگیشن کا طریقہ استعمال کیا گیا ہے۔ ڈرپ ایریگیشن میں پانی کو انتہائی محدود پیمانے پر قطروں کی شکل میں درختوں کو مسلسل فراہم کیا جاتا ہے، اس نظام کی وجہ سے نہ صرف پانی کی بچت ہوتی ہے بلکہ روایتی آبپاشی کے ذریعے پیدا ہونے والے سیلاب کے خطرے کو بھی کم کر دیتا ہے۔ خیبر گوجال میں خواتین تنظیم کے زیر اہتمام ڈبلیو ڈبلیو ایف اور آئی سو موڈ کے تعاون سے بنجر اراضی کو آباد کرنے کے اس منصوبے کا پہلا سال ہے جہاں پر سبزی کے علاوہ چیری اور سیب کے باغات لگائے گئے ہیں۔

موسمیاتی تبدیلی سے بچاؤ کےلیے اشتراکی منصوبے کے اہم اہداف میں باغات کی ترقی، زرعی اجناس میں اضافہ، بنجر اراضی کی آبادکاری، ہائیڈرریم پمپ کی مدد سے پانی کو بالائی مقامات تک فراہمی، خواتین کو زرعی پیداواری شعبے میں آگے لانے سمیت دیگر موسمیاتی تبدیلیوں کا تدارک ہے۔

آئی سی موڈ کے ذمہ دار اعجاز علی اس منصوبے کے حوالے سے کہتے ہیں کہ آئی سی موڈ کے 8 ممبرممالک ہیں جہاں پر قراقرم، ہمالیہ اور ہندوکش پہاڑی سلسلہ موجود ہے جوکہ ڈونرز سے فنڈنگ کی بنیاد پر موسمیاتی تبدیلی، ماحولیات اور دیگر منصوبوں پر کام کرتے ہیں۔ دریائے سندھ پاکستان میں پانی کی فراہمی کا سب سے اہم اور بڑا زریعہ ہے جو ملک کی 48 فیصد ضروریات کو پورا کرتا ہے اور اس کا آغاز گلگت بلتستان سے ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے اس وقت گلگت بلتستان میں صرف 2 فیصد زمین قابل کاشت ہے حالانکہ اس علاقے میں ذریعہ معاش کا سب سے ذیادہ انحصار زراعت پر ہی ہے۔ جی بی کا زیادہ رقبہ پہاڑ، دریا اور ناقابل کاشت زمین پر مشتمل ہے جس پر ہماری کوشش ہے کہ ناقابل کاشت زمین کو قابل کاشت بناکر مقامی کمیونٹیز کے معیار زندگی کو بہتر کریں اور انہیں روزگار کے مواقع اور وسائل مہیا کریں۔ روایتی آبپاشی کو دنیا میں خطرناک طریقہ قرار دیا جارہا ہے کیونکہ اس سے نہ صرف سیلاب کا خطرہ پیدا ہوتا ہے بلکہ پانی کا ضیاع بھی ہوتا ہے جس کےلیے ڈرپ ایریگیشن کا طریقہ کار شروع کیا گیا ہے۔ گلگت بلتستان میں زمینوں کو آباد کرنے میں سب سے بڑا مسئلہ پانی کی کمی کا ہے، ہم روایتی طریقے سے پانی کو بالائی علاقوں تک نہیں پہنچا سکتے ہیں، صرف زیریں علاقوں تک پانی مل سکتا ہے۔ دو مختلف مقامات پر سولر پمپ کا تجربہ بطور پائلٹ پراجیکٹ کے شروع کیا گیا لیکن اس میں مسائل درپیش ہوئے لیکن ہائیڈرو سولر ریمپ نہ صرف انتہائی مفید رہا بلکہ حوصلہ افزا بھی رہا۔ ہماری کوشش ہے کہ اسی تجربے کی بنیاد پر دیگر غیر آباد زمینوں پر منصوبہ شروع کریں۔ دیگر غیر سرکاری تنظیموں اور سرکار کو بھی دکھانے کے لئے یہ ایک کامیاب منصوبہ رہا ہے۔

گوجال میں کمیونٹی کی ترقیاتی منصوبوں میں شمولیت ایک اہم عنصر ہے جس کی وجہ سے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کا تصور انتہائی کامیاب رہا ہے۔ اور گوجال خیبر میں اس کی بہترین مثال ہم دیکھ سکتے ہیں۔ صرف ایک ہائیڈروریم پمپ کے ذریعے 500 درختوں سمیت سبزیوں کو اگایا گیا ہے جس سے نہ صرف لوگوں کو سہولیات اور ذریعہ معاش میسر ہورہا ہے بلکہ موسمیاتی تبدیلیوں کو روکنے اور قدرتی ماحول کے تحفظ میں بھی مدد مل رہی ہے۔ اس وقت پورے پاکستان میں شجر کاری کی مہم چل رہی ہے جس کا بنیادی مقصد ہی موسمیاتی تبدیلیوں کو روکنا اور قدرتی ماحول کا تحفظ کرنا ہے۔ اسی تسلسل میں ہم اس قدم کو دیکھیں تو یہ بہت بڑا قدم ہے۔ ورلڈ وائلڈ لائف کا اس منصوبے میں اشتراک ہے اور اس منصوبے کو مکمل کرکے کمیونٹی کو حوالہ کرینگے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
Gilgit Baltistan, Hunza valley, barren land, fields, climate change
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube