Tuesday, January 18, 2022  | 14 Jamadilakhir, 1443

نواز شریف کیوں ضمانتی بانڈ ادا نہیں کرنا چاہتے ہیں

SAMAA | - Posted: Nov 15, 2019 | Last Updated: 2 years ago
Posted: Nov 15, 2019 | Last Updated: 2 years ago

یہ بہت آسان سی بات ہے کہ اگر نواز شریف پاکستان سے باہر علاج کیلئے جانا چاہتے ہیں تو وہ ضمانتی بانڈ بھردیں اور چلے جائیں تاہم پاکستان مسلم لیگ نواز کی جانب سے بانڈ کی ادائیگی سے انکار کیا جارہا ہے۔

حکومت کی جانب سے شریف خاندان کو کہا گیا ہے کہ وہ 7 ارب روپے کا بانڈ دے کر بیرون ملک جاسکتے ہیں، انہوں نے لاہور ہائی کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ کو زر ضمانت پہلے ہی ادا کی ہوئی ہے، پاکستان مسلم لیگ نواز متعدد بار کہہ چکی ہے کہ وہ حکومت کی جانب سے عائد کی گئی شرط کے تحت رقم کی ادائیگی نہیں کرے گی۔

جمعرات کو پریس کانفرنس میں پاکستان مسلم لیگ نواز کے صدر شہباز شریف نے کہا کہ قانون کے تحت حکومت پاکستان اس رقم کا تقاضہ نہیں کرسکتی۔ انھوں نے بتایا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ اور لاہور ہائی کورٹ فیصلے دے چکی ہے کہ نوازشریف کا بیرون ملک یا پاکستان میں کہیں بھی علاج ہوسکتا ہے، اس کے باوجود حکومت کی جانب سے عوام کو دھوکا دینے کیلئے رقم کی بات کی گئی۔

قانون کی روشنی اور ایگزیٹ کنٹرول لسٹ کے مطابق قواعد میں کسی ضمانتی بانڈز کا کوئی ذکر نہیں ہے، یہ بات درست ہے کہ عدالت کی جانب سے ضمانت ہونے کے بعد اقتدار میں موجود سربراہ کا استحقاق ہوتا ہے کہ وہ ضمانتی بانڈ پر حکم جاری کرسکے۔ یہ بات بھی کہی جارہی ہے کہ نواز شریف کو جو ضمانتی بانڈ بھرنے کیلئے کہا گیا ہے کہ یہ وہ رقم ہے جس سے متعلق ان پر کیس چل رہا ہے۔

اس حوالے سے جو قیاس آرائیاں اور باتیں گردش میں ہیں، ان سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ یہ قانون سے زیادہ سیاسی معاملہ ہے، عدالت کی جانب سے کہا گیا کہ انسانی صحت کی بنیاد پر فوری ضمانت دی گئی، لیکن اس کو جس طرح سے ہینڈل کیا گیا ہے وہ درست نہیں ہے۔

حکومت کی جانب سے کوشش کی گئی ہے کہ اپنی خلاصی کیلئے اس نعرے کی پاسداری کی جائے کہ مبینہ کرپٹ سیاست دانوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ شریف خاندان بانڈ نہیں دینا چاہتا، کیوں کہ اس سے یہ تاثر آئے گا کہ مسلم لیگ نواز کسی کو جواب دہ ہے۔ نواز شریف کا بیانیہ ہے کہ ماؤرائے عدالت دباؤ کا پیش خیمہ ہیں کیوں کہ یہ قانون کے سراسر خلاف ہیں۔

نواز شریف کوئی سیاسی بیان نہیں دینا چاہتے جس سے یہ ظاہر ہو کہ وہ کسی مفاہمت کا حصہ ہیں۔ اہم بات یہ بھی ہے کہ مسلم لیگ نواز کی کوشش ہے کہ پی ٹی آئی کو سیاسی پروپیگنڈا کرنے کا موقع دیا جائے، اس لئے وہ یہ بانڈ نہیں بھرنا چاہتے۔

لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ بانڈ اس لیے بھی نہیں دیا جارہا کیوں کہ نواز شریف لندن میں سیاسی پناہ حاصل نہ کرسکیں لیکن ایسی کسی بات کا اثر نہیں پڑے گا۔ برطانیہ میں کوئی ایسا سیاسی پناہ کا نظام نہیں جو اس بات کا تعین کرے کہ سابق وزیراعظم کو پناہ دی جائے۔

یہ بات دیکھنا ہوگی کہ ضمانتی بانڈ کی ضرورت کیوں پڑی ہے؟ اس کے مطابق نوازشریف کو 7 ارب روپے ادا کرنا ہوں گے۔ اگر نواز شریف واپس نہیں آتے اور اپنی اپیل کا دفاع نہیں کرپاتے، تو وہ سزا کے خلاف اپیل کا حق کھو دیں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے زرضمانت ضبط ہوجائیں گے۔ نیب ان اثاثوں کی نیلامی کردے اور اس سے وہ نقصان پورا کرے جو انھوں نے کرپشن کے ذریعے ملک کو پہنچایا ہے۔

یہ ہی وجوہات ہیں کہ شریف خاندان بانڈ نہیں دے رہا، اگر انہیں (نواز شریف کو) کسی کیس میں سزا ہوتی ہے تو اس کو ان کے خلاف استعمال کیا جاسکتا ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
NAWAZ SHARIF, CORRUPTION, NAB, PANAMA, ECL, PTI, IMRAN KHAN, LHC, IHC, INDEMNITY BOND, SHEHBAZ SHARIF
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube