ہوم   >  بلاگز

ملک میں بڑھتی بےروزگاری اور ڈی جی خان کےترقیاتی منصوبے

1 week ago

ٖفوٹو: آن لائن

مغرب کی نماز پڑھ کے میں گھر واپس آیا تو والدہ نے بتایا کہ بیٹا اماں نیکاں کا خاوند فیکٹری بند ہوجانے کی وجہ سے بےروزگار ہوگیا ہے جو بہت پریشان ہے اس لیے پہلی فرصت میں ملنے چلے جانا۔ حکم کے مطابق میں فوراً اس کے خاوند سے ملنے پہنچ گیا۔ محمد صدیق کا ایک بیٹا اور 3 بیٹیاں ہیں وہ شیخوپور میں جوتے بنانے والی ایک فیکٹری میں کام کرتا تھا۔ حکومتی پالیسیاں سخت ہونے کے بعد جب فیکٹری بند ہوئی تو فیکٹری میں کام کرنے والے یہ 32 افراد بے روزگار ہوکر اپنے گھروں کو آگئے تھے۔

صدیق نے مجھے اپنے دروازے کے سامنے تھڑے پر بٹھاتے ہوئے بتایا کہ ’’گزشتہ 7 مہینے سے بےروزگار ہوں جب کہ ہر چیز مہنگی ہوجانے کی وجہ سے روٹی کا خرچہ پورا کرنا بھی مشکل ہوگیا ہے۔ کبھی کبھار مستریوں کے ساتھ مزدوری مل جاتی ہے۔ لیکن غربت کا عالم یہ ہے کہ میں نے اپنی بیٹیوں کو اسکول سے اٹھا لیا ہے البتہ بیٹا طاہرعلی اسکول جاتا ہے‘‘۔

یہ بات میرے لیے ناخوشگوار تھی جس پر میں ان سے ناراض بھی ہوا کہ بیٹیوں کو اسکول سے ہٹانے سے پہلے آپ کو مجھے بتانا چاہیے تھا۔ کیونکہ بڑے کہتے ہیں کہ ’’نسلوں کو سنوارنے کا شارٹ کٹ ترین راستہ تعلیم ہے جو لوگ جائیداد اور دکھاوے کے بجائے بچوں کی تعلیم اور رزق حلال کو اہمیت دیتے ہیں ان کی نسلیں سنور جاتی ہیں‘‘۔

خیر آسان الفاظ میں بتاوں تو چاچا صدیق کہہ رہا تھا کہ بیٹا کوئی جگاڑ بتاو ’’میں مرنے تک جینا چاہتا ہوں‘‘۔ میری سفید پوشی اجازت نہیں دیتی کہ میں کسی کے سامنے دست دراز کروں۔ بیٹا تو مجھے رکشہ لے دے یا کسی اور سے دلوا دے میں سب شرطیں ماننے کو تیار ہوں۔ چاچا صدیق اپنے دکھڑے سنا رہا تھا اور میں بیٹھا سوچ رہا تھا کہ یہ تو ایک چاچا صدیق ہے اس طرح کے ہزاروں نہیں لاکھوں چاچے صدیق ہوں گے جو حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے بے روزگار ہوئے اور پریشان حال ہیں۔

مجھے چاچے صدیق کی باتیں سن کر بار بار کمشنر ڈیرہ غازی خان کی میٹنگ یاد آ رہی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ ضلع ڈی جی خان میں مختلف پروگرامات کے تحت 114 ارب 54 کروڑ روپے سے زائد مالیت کے 947 منصوبوں پر کام جاری ہے۔ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کمشنر نے حکم دیا تھا کہ ترقیاتی منصوبوں کو بروقت مکمل کیا جائے۔ افسران فیلڈ میں نکلیں اور ترقیاتی منصوبوں کی کڑی مانیٹرنگ کریں۔ میں سوچ رہا تھا کہ اگر خزانہ خالی ہے تو یہ ترقیاتی کام کیوں چل رہے ہیں۔ کیا کوئی ایسی پالیسی نہیں بن سکتی جس سے غریب کو ریلیف مل سکے۔ کیوں بلاواسطہ تمام ٹیکس عوام ہی دے۔ ترقیاتی کاموں کی مانیٹرنگ کی بجائے کیا خوب تھا کہ حاکم وقت حکم دیتا مانیٹر کرو کہ کوئی بھوکا نہ سوئے۔

عام انتخابات 2018 کے بعد آنے والی نئی حکومت نے پنجاب کے تمام اسپتالوں کے فنڈز 30 فیصد کم کر کے ایکسرے اور بلڈ ٹیسٹ کی فیسیں بڑھا دی ہیں۔ اسکولوں اور کالجوں میں دیے جانے والے اسکالرشپس کافی حد تک ختم کر دیے ہیں۔ نئی نوکریوں پر پابندی لگا کر ٹیکس بڑھا دیے گئے ہیں۔ کاروباری حضرات نے ٹیکس بچانے کی خاطر پنجاب کے سب سے بڑے انڈسٹریل زونز فیصل آباد شیخوپورہ، قصور اور لاہور میں فیکٹریاں بند کردی ہیں جس سے لاکھوں افراد بےروزگار ہوگئے ہیں۔ صنعتوں میں کام کرنے والے ہزاروں مزدور کام نہ ہونے کی وجہ سے گھر آگئے اور فاقے کرنے پر مجبور ہیں۔

وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان خان بزدار کا تعلق تونسہ کے علاقہ بارتھی سے ہے جب کہ لیہ اور تونسہ کے درمیان صرف دریائے سندھ کا پاٹ موجود ہے۔ مطلب لیہ سے وزیراعلیٰ کی بہت ہی قریبی ہمسائیگی ہے۔ وزیراعلیٰ بننے کے بعد سرادر عثمان خان بزدار نے سب سے پہلے لیہ میں جاری تمام ترقیاتی کام بند کروا دیے جس سے ہزاروں افراد بےروزگار ہوگئے۔ پنجاب بجٹ بک کے مطابق پہلے منی بجٹ میں ضلع لیہ کےلیے صرف اور صرف 4 لاکھ 26 ہزار روپے کے فنڈز جاری کیے گئے تھے۔ لیہ کے تمام سرکاری کالجوں سے بسوں کو تونسہ منتقل کرنے کے احکامات بھی جاری کیے گئے تھے جس پر بار ایسوسی ایشن لیہ نے اپنے ہمسائے کی اس حرکت پر ہائیکورٹ لاہور ملتان بنچ سے رجوع کیا اور چوہدری محمد اسلم گجر ایڈووکیٹ کی سربراہی میں بسوں کی منتقلی کے احکامات خارج کروانے میں کامیاب ہوگئے۔ 15 اکتوبر 2019 کو ایک لیٹر کے ذریعے ضلع لیہ اور بھکر سے 9 اسپیشلسٹ و سرجن ڈاکٹرز کو ضلع ڈیرہ غازی خان منتقل کرنے کے احکامات جاری کیے جوکہ تاحال زیر بحث ہے۔

ڈی جی خان میں ترقیاتی کاموں کے برعکس پنجاب کے دیگر 35 اضلاع میں ترقیاتی فنڈز نہ ہونے کا کہہ کر ممبران اسمبلی کو ٹرخایا جا رہا ہے اور پڑھے لکھے نوجوانوں سمیت چاچا صدیق بےروزگاری کی وجہ سے دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔

حکومتی وزراء میں شامل وزیر سائنس فواد چوہدری کہتے ہیں کہ ہم 400 ادارے بند کر رہے ہیں لہٰذا نوجوان ملازمت کے لیے پرائیویٹ سیکٹر کی طرف نکلیں ہماری طرف مایوسی ہوگی جب کہ مشیرخزانہ عبدالحفیظ شیخ کے مطابق 30 سے 35 لاکھ ٹریڈرز ایسے ہیں جو اس وقت ٹیکس نیٹ میں نہیں۔ ٹیکس اکٹھا کرنے کےلیے یہ سختیاں مسلسل رہیں گی۔

پاکستان بھر میں بےروزگاری کا مسئلہ شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ یونائیٹڈ نیشنل ڈیویلپمنٹ پروگرام کی مئی 2018 کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں صرف 39 فیصد نوجوانوں کو روزگار کے مواقع حاصل ہیں۔ دو فی صد مردوں اور خواتین کو روزگار کی تلاش ہے اور 57 فی صد بےروزگاروں کو ملازمت کی تلاش ہی نہیں۔ پاکستان میں 77 فی صد نوجوان روزگار کی خاطر تعلیم ادھوری چھوڑ دیتے ہیں۔ 15 سے 29 سال کی آبادی ملک کی مجموعی لیبر فورس کا 41.6 فی صدہے جب کہ 40 لاکھ نوجوان ہر سال جاب مارکیٹ میں داخل ہو رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق پاکستان کو چاہیے کہ وہ ہرسال 10 لاکھ افراد کےلیے روزگار کے مواقع فراہم کرے لیکن ٹیکس جنریشن کی بجائے صرف ٹیکس کولیکشن پر زور دینے والی حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے صنعتیں بند ہو رہی ہیں اور اس وجہ سے بےروزگار ہونے والے ہزاروں مزدور فاقے کرنے پر مجبور ہیں۔ اگر بروقت اس مسئلے کے حل کےلیے اقدامات نہ کیے گئے تو ہمارا حال بھی قدیم چین سے مختلف نہ ہوگا۔

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں
 
 
 
 
 
 
 
Samaa blogs, Dera Ghazi Khan, unemployment, inflation, PTI govt, Imran Khan
 
مقبول خبریں